Inquilab Logo Happiest Places to Work

اروناچل میں’چینی دراندازی‘ پر برہمی

Updated: August 15, 2026, 11:23 AM IST | Agency | New Delhi

ملکارجن کھرگے اور راہل گاندھی نے مودی اور امیت شاہ سے جواب مانگا۔

Mallikarjun Kharge. Picture: INN
ملکارجن کھرگے۔ تصویر:آئی این این

کانگریس نے جمعہ کو وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ سے ان اطلاعات پر وضاحت طلب کی کہ چین نے اروناچل پردیش کے بعض علاقوں میں ہندوستانی فوجوں کو گشت سے روک دیا ہے۔ ملکارجن کھرگے نے کہا کہ ملک اپنے فوجیوں کے ساتھ پوری مضبوطی سے کھڑا  اور چینی جارحیت کے خلاف متحد ہے۔ انہوں نے مودی حکومت سے ان خبروں پر جواب دینے کا مطالبہ کیا۔ کھرگے نے مودی   امیت شاہ اور راج ناتھ سنگھ   کی قیادت پر سوال کھڑا کرتے ہوئے ایکس  پوسٹ کیا ہے کہ ’’گلوان  کے بعد اب اروناچل پردیش؟ پریشان کن اطلاعات سامنے آ رہی ہیں کہ چین ہمارے ملک کے اٹوٹ حصے اروناچل پردیش کے مزید علاقوں میں آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مودی حکومت کو اس پر فوری جواب دینا چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’۲۰۴۷ء تک ہندوستان کو ترقی یافتہ ملک بنانا ہے‘، لال قلعے سے وزیر اعظم کا خطاب

حکومت کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا اور اروناچل پردیش میں اس طرح کی کسی پیش رفت کے حوالہ سے بھی سرکاری طور پر کچھ نہیں کہا گیا ہے۔ کھرگے نے کہایہ ’’ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ۲۰۲۰ء میں گلوان میں ہمارے۲۰؍ بہادر فوجیوں کی عظیم قربانی کے بعد خود وزیراعظم مودی نے چین کو ’کلین چٹ‘ دیدی تھی، جس سے بیجنگ کو اپنی حد سے تجاوز کا مزید حوصلہ ملا ہے۔ ‘‘ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کا ’’یہ ریکارڈ کسی اعتماد کو جنم نہیں دیتا۔‘‘ انہوں نے۲۰۲۰ء میں گلوان میں ہندوستان اور چین کی فوجوں کے درمیان پرتشدد جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم، وزیر دفاع اور وزیر داخلہ کو ملک کو جواب دینا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK