ارن میں منعقدہ ایک تقریب سے بذریعہ ویڈیوکافرنسنگ جڑتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے جے این پی ٹی سےدادری جانے والی ڈبل ڈیکرمال بردار ٹرین کا افتتاح کیا اور اسے ملک کے شعبہ مال برداری میں ایک تاریخی تبدیلی قراردیا۔
EPAPER
Updated: September 09, 2026, 12:26 PM IST | Agency | Raigad
ارن میں منعقدہ ایک تقریب سے بذریعہ ویڈیوکافرنسنگ جڑتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے جے این پی ٹی سےدادری جانے والی ڈبل ڈیکرمال بردار ٹرین کا افتتاح کیا اور اسے ملک کے شعبہ مال برداری میں ایک تاریخی تبدیلی قراردیا۔
ارن میں منعقدہ ایک تقریب سے بذریعہ ویڈیوکافرنسنگ جڑتے ہوئے وزیر اعظم مودی نے جے این پی ٹی سےدادری جانے والی ڈبل ڈیکرمال بردار ٹرین کا افتتاح کیا اور اسے ملک کے شعبہ مال برداری میں ایک تاریخی تبدیلی قراردیا۔ وزیر اعظم کے مطابق’’مغربی اور مشرقی ڈیڈیکیٹڈ فریٹ ریلوے لائن کی تکمیل ملک کے مال برداری کے شعبے میں ایک تاریخی تبدیلی کا محرک بنے گا۔ جے این پی ٹی بندرگاہ سے ڈبل اسٹیک کنٹینرز کے ساتھ پہلی مال بردار ٹرین اسی تبدیلی کی سمت میں ایک اہم قدم ہے۔ اس سے ایک ہی مال بردار ٹرین میں ممبئی سے۲۵۰؍ سے زیادہ ٹرکوں کے برابر سامان کی نقل و حمل ممکن ہو سکے گی۔ اس سے مال برداری کیلئے وقت اور لاگت کی بچت ہوگی ۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:ایم پی ایس سی میں بدعنوانی کیخلاف پونے کے بعداورنگ آبادمیں بھی زبردست احتجاج
وزیر اعظم مودی نے آج یہاں زور دیا کہ اس سے ملک کے لاجسٹک نظام کو ایک نئی رفتار اور سمت ملے گی۔‘‘وزیر اعظم نریندر مودی نے ویسٹرن ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور(ڈبلیوڈی ایف سی) کے تین اہم سیکشن کے افتتاح کے موقع پر یہ بات کہی جو۳۲۶؍ کلومیٹر طویل ہے جس پر۲۰۷۰۰؍ کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت آئی ہے۔ اس دوران انہوں نے ویڈیوکانفرنسنگ کے ذریعے ڈبل اسٹیک مال بردار ٹرین کو جھنڈی دکھا کر قوم کے نام وقف کیا۔ یہ ٹرین جے این پی ٹی نوی ممبئی سےدادری تک چلے گی جس کا فاصلہ تقریباً ۱۵۰۰؍ کلومیٹرہے۔ ارن میں جواہر لال نہرو پورٹ اتھاریٹی (جے این پی اے) میں منعقدہ افتتاحی تقریب کے موقع پر گورنر جشنو دیو ورما، وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس، نائب وزرائے اعلیٰ ایکناتھ شندے اور سونیترا اجیت پوار اور دیگر وزراء نیز حکام موجودتھے۔
وزیر اعلیٰ فرنویس نے کیاکہا ؟
اس موقع پراپنے خطاب میں وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس نے کہا کہ اس وقف کوریڈورکے ذریعے ہم کارگو پر اخراجات کو۷؍ فیصد تک لا سکتے ہیںاورگلوبل سپلائی چین میں چین کے ساتھ مقابلہ کرکےبہتر تعاون کرسکتے ہیں ۔