افغانستان کے سرکاری ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ سال دو لاکھ تین ہزار سے زائد ویزے جاری کئے گئے، اس کے علاوہ کویت اور پاکستان کے ساتھ تعلقات سفارتی سطح تک لے جائے گئے۔
EPAPER
Updated: September 03, 2026, 2:01 PM IST | Kabul
افغانستان کے سرکاری ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ سال دو لاکھ تین ہزار سے زائد ویزے جاری کئے گئے، اس کے علاوہ کویت اور پاکستان کے ساتھ تعلقات سفارتی سطح تک لے جائے گئے۔
افغانستان کے سرکاری ترجمان نے بدھ کو ملک کی خارجہ پالیسی اور سفارتی امور کا جائزہ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال افغانستان نے غیر ملکی شہریوں کو دولاکھ تین ہزار سے زائد ویزے جاری کیے۔حکومتی ویب سائٹ کے مطابق، کابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان نے اپنی ’’متوازن اور معیشت مرکوز خارجہ پالیسی‘‘ کے تحت پڑوسی ممالک اور بڑی علاقائی و بین الاقوامی طاقتوں کے ساتھ معاشی شراکت داری میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال خارجہ پالیسی کی اہم پیش رفتوں میں کویت کے ساتھ سفارتی اور قونصلر تعلقات کا قیام، پاکستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کو سفیروں کی سطح تک بلند کرنا، اور افغانستان کی ’’ماسکو فارمیٹ‘‘ میں باضابطہ رکنیت شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ۷۵؍ ممالک کے تارک وطن ویزا بحال، عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کی پابندی ختم کی
مزید برآں مجاہد نے یہ بھی بتایا کہ روس گزشتہ سال جولائی میں افغان حکومت کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے والا پہلا ملک بنا۔قونصلر امور کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال غیر ملکی شہریوں کو ۲۰۳۶۹۳؍ویزے جاری کیے گئے، جبکہ بیرون ملک مقیم افغان شہریوں کو۳۱۳۷۹۶؍ پاسپورٹ فراہم کیے گئے۔اس کے علاوہ،۶۴۵۴۱؍سڑک پاس جاری کیے گئے، جبکہ پاسپورٹ خدمات افغانستان کے۲۸؍ سفارتی اور قونصلر مشن میں جاری رہیں۔مجاہد نے کہا کہ سیاسی تعلقات اور تجارتی تعاون کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے تحت مختلف افغان سرکاری اداروں کے اعلیٰ افسران نے گزشتہ سال علاقائی اور دیگر ممالک کے۹۳؍ دورے بھی کیے۔
یہ بھی پڑھئے: ایس سی او اجلاس : ایران پر حملوں کی مذمت
واضح رہے کہ امریکہ کے تسلط سے آزاد ہونے کے بعد طالبان حکومت نے متعدد اصلاحات کی ہیں، اور جنگ زدہ خطے کی معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے کوشاں ہے، اسی سلسلے کی ایک کڑی کے طور پر دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ان ویزوں کا جاری کیا جانا اسی کوشش کا نتیجہ نظر آتا ہے۔