Inquilab Logo Happiest Places to Work

اقلیتی تعلیمی اداروں کے خلاف دائر کردہ مفادِ عامہ کی درخواست پر سماعت سے سپریم کورٹ کا انکار

Updated: August 10, 2026, 9:58 PM IST | New Delhi

درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل ۳۰ کے تحت کام کرنے والے نیم مذہبی اقلیتی تعلیمی ادارے ”سادہ لوح بچوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔“ اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہزاروں غیر رجسٹرڈ ادارے ریاستی نظارت کے بغیر مذہبی تعلیم دینے کیلئے اس شق کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جس سے اندرونی سلامتی، اتحاد اور قومی یکجہتی پر اثرات مرتب ہونے کا انتباہ دیا گیا تھا۔

Supreme Court. Photo: X
سپریم کورٹ۔ تصویر: ایکس

سپریم کورٹ نے پیر کے روز بی جے پی لیڈر اور وکیل اشوینی کمار اپادھیائے کی جانب سے دائر کی گئی مفادِ عامہ کی درخواست پر سماعت کرنے سے انکار کر دیا۔ اپادھیائے نے اپنی درخواست میں ۱۴ سال تک کی عمر کے بچوں کو دینی یا دنیوی تعلیم دینے والے تمام اداروں کی ضابطہ کاری، تسلیم کاری اور نگرانی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

درخواست میں الزام لگایا گیا تھا کہ آئین کے آرٹیکل ۳۰ (جو اقلیتی گروپس کو تعلیمی ادارے قائم کرنے اور ان کا انتظام سنبھالنے کا حق دیتا ہے) کے تحت کام کرنے والے نیم مذہبی اقلیتی تعلیمی ادارے ”سادہ لوح بچوں کو انتہا پسندی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔“ اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ہزاروں غیر رجسٹرڈ ادارے ریاستی نظارت کے بغیر مذہبی تعلیم دینے کیلئے اس شق کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جس سے اندرونی سلامتی، اتحاد اور قومی یکجہتی پر اثرات مرتب ہونے کا انتباہ دیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’تو کیا ہوا اَگر میں مسلمان ہوں‘‘، بنگال میں تھیٹر آرٹسٹ پر مذہب پوچھ کر تشدد

جسٹس اروند کمار اور جسٹس وپل پنچولی پر مشتمل بنچ نے اس درخواست پر سماعت سے انکار کر دیا۔ جب اپادھیائے نے دلیل دی کہ ”مذہبی تعلیم دینا بالواسطہ طور پر مذہب کا فروغ ہے۔“ تو بنچ نے ان سے کہا کہ وہ مسلسل ایک کے بعد ایک آئینی درخواستیں دائر نہیں کر سکتے، جس پر انہوں نے دیگر قانونی راستے اختیار کرنے کیلئے درخواست واپس لے لی۔ عدالت نے آن ریکارڈ درج کیا کہ درخواست گزار نے اپنی درخواست واپس لینے اور مناسب فورم میں چارۂ جوئی کا طریقہ اختیار کرنے کی استدعا کی ہے۔

اپادھیائے کی درخواست میں یہ اعلان کرنے کی مانگ کی گئی تھی کہ آرٹیکل ۳۰ محض آرٹیکل ۱۹(۱)(g) — یعنی تجارت اور پیشہ ورانہ آزادی کے بنیادی حق — کی ایک مخصوص دہرائی ہے اور وہ اس ضمانت سے ہٹ کر کوئی اضافی مراعات فراہم نہیں کرتا۔ انہوں نے دلیل دی کہ آرٹیکل ۳۰ میں درج ”اپنی پسند کے تعلیمی ادارے“ کے جملے کی تشریح سیکولر یا پیشہ ورانہ اداروں کے طور پر کی جانی چاہئے نہ کہ مذہبی اداروں کے طور پر۔ اور اس لئے مذہبی تعلیم دینے والے اداروں کو آرٹیکل ۳۰ کے تحت کوئی حقوق حاصل نہیں ہونے چاہئیں۔

یہ بھی پڑھئے: لاء یونیورسٹی میں چیف جسٹس کو مدعو کرنے کی طلبہ نے مخالفت کی

درخواست میں مزید کہا گیا تھا کہ ایسے اداروں کو آرٹیکل ۲۶ کے زمرے میں آنا چاہئے جو مذہبی امور کے انتظام کی آزادی کی حفاظت کرتا ہے، کیونکہ مذہبی تعلیم دینا بنیادی طور پر آرٹیکل ۲۵ کے تحت مذہب کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔ درخواست میں کہا گیا کہ آیا کوئی ادارہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیوی/سیکولر تعلیم بھی دیتا ہے یا نہیں، یہ غیر اہم ہے۔ مذہبی تعلیم دینے والے کسی بھی ادارے کو آرٹیکل ۳۰ کے تحت اقلیتی حقوق کا تحفظ دینے کے بجائے آرٹیکل ۲۶ کے تحت ”مذہبی اور رفاہی مقاصد“ والے ادارے کے طور پر درج کیا جانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK