• Wed, 28 February, 2024
  • EPAPER

Inquilab Logo

سپریم کورٹ نے پاکستانی فنکاروں کے ہندوستان میں کام کرنے پر پابندی عائد کرنےوالی درخواست مسترد کردی

Updated: November 28, 2023, 3:38 PM IST | New Delhi

بامبے ہائی کورٹ کے بعد آج سپریم کورٹ نے بھی پاکستانی فنکاروں کے ہندوستان میں کام کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے کی درخواست مسترد کر دی ہے۔ عدالت نے درخواست گزار فیض قریشی سے کہا کہ اتنی تنگ نظری ٹھیک نہیں ہے۔ خیال رہے کہ فیض قریشی کی اس درخواست کو بامبے ہائی کورٹ نے بھی مسترد کیا تھا جس کے بعد انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔

supreme court. photo: INN
سپریم کورٹ۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے آج پاکستانی فنکاروں کے ہندوستان میں آکر کام کرنے پر مکمل پابندی عائد کرنے والی درخواست مسترد کردی ہے اور درخواست گزار سے کہا کہ وہ ’’اتنی تنگ نظری کا مظاہرہ نہ کریں۔‘‘ اس معاملے کی سماعت کرنے والے جسٹس سنجیو کھنہ اور جسٹس ایس وی این بھٹی کی بینچ نے درخواست گزار سے کہا کہ ہمارا بامبے ہائی کورٹ کے حکم سے کوئی انحراف نہیں ہے۔ یاد رہے کہ گزشتہ ماہ بامبے ہائی کورٹ نے فیض انور قریشی کی جانب سے داخل کی گئی درخواست کو مسترد کردیا تھا۔ فیض انور فلموں میں کام کرنے والے اہلکار اور فنکار کے طور پر اپنی شناخت کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ نے درخواست گزار کی وہ عرضی بھی مسترد کردی جس میں کہا گیا تھا کہ وہ اس معاملے پر بامبے ہائی کورٹ کے فیصلے کو ختم کریں۔ 

یہ بھی پڑھئے: اِن پاکستانی فنکاروں کی بالی ووڈ میں واپسی دلچسپ ہوگی

خیال رہے کہ درخواست گزارنے مطالبہ کیا ہے کہ عدالت مرکزی حکومت کو حکم جاری کرے کہ وہ ہندوستانی کمپنیوں، فرمز، اسوسی ایشن  اور شہریوں پر پابندی نافذ کرے کہ وہ کسی بھی پاکستانی اداکار، فنکار، موسیقار،نغمہ نگار، فلم ملازمین اور ٹیکنیشین کو کسی کام کیلئے درخواست دینے، ملازمت دینے، کسی بھی طرح کا کام دینے کیلئے یا کسی بھی ادارے میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں۔

یہ بھی پڑھئے: بالی ووڈ میں پاکستانی فنکاروں کے کیخلاف عرضی بامبے ہائی کورٹ نے خارج کردی

واضح رہے کہ بامبے ہائی کورٹ نے کچھ ماہ پہلے درخواست گزار کی اسی درخواست کو مسترد کیا تھا اور اس کے مطالبے کو بے بنیاد قرار دیا تھا۔ عدالت نے درخواست گزار سے کہا تھا کہ اس طرح کا حکم دینا ثقافتی ہم آہنگی، امن اور اتحاد کو فروغ دینے کے راستے میں غیر اخلاقی قدم ہوگا۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہم وطن بننے کیلئے کسی بھی شخص کو بیرون ملک، خاص طور پر پڑوسی ممالک کے تئیں دشمن بننے کی ضرورت نہیں۔ ایک سچا ہم وطن وہ شخص ہوتا ہے جو خود غرض نہیں ہوتا اور اپنے ملک کیلئے قربان ہونے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتا ہے۔ ایک اچھے دل والا شخص ہی سچا ہم وطن ہو سکتا ہے۔ ایک شخص جو دل کا اچھا ہو گا وہ ایسی کسی بھی سرگرمی کا پرجوش خیر مقدم کرے گا جو اس کے ملک اور سرحد پر امن اور اتحاد کو فروغ دے۔ کورٹ نے یہ بھی نشاندہی کی تھی کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ کھیلنے کیلئے ہندوستان آئی تھی۔ ایسا اس لئے ممکن ہو سکا کیونکہ حکومت ہند نے امن اور اتحاد کو فروغ دینے کیلئے ایسے اقدامات کئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK