• Sat, 17 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اٹلی: حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف طلبہ کا احتجاج

Updated: October 17, 2026, 2:35 PM IST | Rome

اٹلی میں حکومت کی تعلیمی پالیسیوں کے خلاف طلبہ نے احتجاج کیا، طلبہ نے جمعہ کو اٹلی بھر میں ’’نو میلونی ڈے‘‘ احتجاج کے دوران حکومت کی تعلیمی پالیسیوں، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی اور بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات کے خلاف مظاہرے کیے۔

A scene of student protests in Italy. Photo: X
اٹلی میں طلبہ کے احتجاج کا ایک منظر۔ تصویر: ایکس

اطالوی روزنامہ لا اسٹامپا نے رپورٹ کیا کہ طلبہ نے جمعہ کو اٹلی بھر میں ’’نو میلونی ڈے‘‘ احتجاج کے دوران حکومت کی تعلیمی پالیسیوں، بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی اور بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات کے خلاف مظاہرے کیے۔یہ احتجاج ٹورن میں کئی دنوں تک اسکولوں پر قبضے اور جھڑپوں کے بعد ہوئے، جہاں نقاب پوش نوجوانوں نے اسکول کی عمارتوں کو نقصان پہنچایا، کھڑکیاں توڑیں اور فائر ایکسٹنگوئشر استعمال کیے۔بعد ازاں شہر میں پیش آنے والے واقعات کے دوران کم از کم ایک استاد، اسکول کے عملے کا ایک رکن اور ایک کارابینیری افسر زخمی ہوا۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی میزائل دفاع کی قلت۲۰۳۰ء تک جاری رہ سکتی ہے، معزول جنرل کا انتباہ: رپورٹ

اخبار نے بتایا کہ ایک۱۷؍ سالہ نوجوان کو قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف مزاحمت کے شبہ میں گرفتار کیا گیا اور اس پر شدید نقصان پہنچانے کی رپورٹ درج کی گئی۔یہ واقعات کئی اسکولوں میں پیش آئے، جن میں سیلا انسٹی ٹیوٹ اور بوسو-مونٹی اسکول شامل ہیں۔تاہم تفتیش کار اس بات کا جائزہ لے رہے تھے کہ آیا کچھ نقاب پوش نوجوان باہر کے لوگ تھے جو طلبہ کے احتجاج میں شامل ہوئے تھے۔جبکہ ٹورن کے میئر اسٹیفانو لو روسو نے طلبہ کے مظاہرہ کرنے کے حق کا دفاع کرتے ہوئے نقصان کی مذمت کی۔انہوں نے کہا، ’’مظاہرہ کرنا اور اپنے نظریات کا دفاع کرنا ایک بنیادی حق ہے جس کا ہمیشہ احترام اور تحفظ کیا جانا چاہیے،‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ تشدد اور سرکاری املاک کو نقصان ناقابل قبول ہے۔

یہ بھی پڑھئے: فرانس میں مہنگائی اور ایندھن کی قیمتوں کے خلاف سنیچر کو ملک گیر احتجاج کی تیاری

علاوہ ازیں وزیر تعلیم جوزپے والدیتارا نے بھی تباہی کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت نقصان کے معاوضے کا مطالبہ کرے گی۔ واضح رہے کہ طلبہ کی اس تحریک میں کئی اطالوی شہروں میں اسکولوں پر قبضے، ہڑتالیں اور اسمبلیاں شامل ہیں۔منتظمین نے تعلیمی فنڈنگ، اسکول کے حالات اور حکومت کی اخراجات کی ترجیحات پر تشویش کا اظہار کیاہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK