اسپتال میں زیرعلاج شردپوار کی عیادت کو جانے والے این سی پی اجیت کے پرفل پٹیل سے پوار نے کہا کہ ’’۱۰؍نومبر کے بعد بیٹھ کر بات کریں گے۔‘‘
EPAPER
Updated: November 07, 2026, 4:53 PM IST | Agency/Ali Imran | Nagpur/ Mumbai
اسپتال میں زیرعلاج شردپوار کی عیادت کو جانے والے این سی پی اجیت کے پرفل پٹیل سے پوار نے کہا کہ ’’۱۰؍نومبر کے بعد بیٹھ کر بات کریں گے۔‘‘
این سی پی کے بانی اورسینئر لیڈر شرد پوارممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔ان کی حالت مستحکم ہے اور انہیں مزید کچھ ٹیسٹ کیلئے رکھا گیا ہے۔ اس درمیان ان کی عیادت کیلئے کئی لیڈران اسپتال پہنچے ہیں۔ تاہم این سی پی اجیت کے ورکنگ پریسڈنٹ پرفل پٹیل کی اسپتال آمد اور شردپوار سے ہونے والی گفتگو نے این سی پی کے دونوں دھڑوں کے انضمام کی قیاس آرائیوں کو مزید ہوا دے دی ہے۔ اس ملاقات کا ویڈیو سامنے آنے کے بعد مہاراشٹر کی سیاسی فضا میں چہ میگوئیاں بڑھ گئی ہیں۔ ویڈیو میں شرد پواردونوں ہی پارٹیوں کے لیڈروں کے ساتھ ۱۰؍ نومبر کے بعدگفتگو کرنے کی بات کہتے نظر آ رہے ہیں۔ ان کے اس بیان کے مختلف سیاسی معنی نکالے جارہے ہیں۔
مہاراشٹر کی سیاست میں نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے دونوں دھڑوں کے درمیان ممکنہ مفاہمت اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کے تئیں ایک بار پھر قیاس آرائیاں شروع ہوگئی ہیں۔ اس کی وجہ این سی پی (شردچندر پوار) کے سربراہ شرد پوار اور اجیت پوار گروپ کے سینئرلیڈر پرفل پٹیل کے درمیان ہونے والی ملاقات اور گفتگو کا ایک ویڈیو ہے۔ اس ویڈیو میں شرد پوار، پرفل پٹیل سے کہتے سنائی دے رہے ہیں کہ۱۰؍ نومبر کے بعد دونوں ایک ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں گے۔ تاہم، اس ملاقات کا اصل ایجنڈا کیا ہوگا، یہ ابھی واضح نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق پرفل پٹیل نے شرد پوار کی خیریت دریافت کی اور ان کی صحت کے بارے میں معلومات حاصل کی۔ دونوں لیڈران کے درمیان تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک ملاقات ہوئی۔سوشل میڈیا پر سامنے آنے والے ویڈیو میں دونوں لیڈران کے درمیان ہونے والی گفتگو سنی جاسکتی ہے۔ شرد پوار کہتے ہیں، ’’وہاں رہنا پڑتا ہے، یہ مجھے معلوم ہے۔ لیکن کب تک رہنا ہے، یہ بتائیے۔ اس کے بعد ہم فیصلہ کریں گے۔‘‘ اس پر پرفل پٹیل جواب دیتے ہیں، ’’میں۱۰؍ تاریخ کے بعد ممبئی میں رہوں گا۔ آپ بتائیے، کب بیٹھ کر بات چیت کرنی ہے، میں تیار ہوں۔‘‘ اس گفتگو کی بنیاد پر مہاراشٹر کے سیاسی حلقوں میں طرح طرح کی چہ میگوئیاں کی جارہی ہیں۔ خاص طور پر این سی پی کے دونوں دھڑوں کے درمیان ممکنہ اتحاد اور مستقبل کی سیاسی حکمت عملی کے تئیں قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔قابل ذکر ہے کہ پرفل پٹیل نے بھی ملاقات کے بعد شرد پوار کے ساتھ سیاسی معاملات پر گفتگو ہونے کی بات تسلیم کی تھی، لیکن انہوں نے بات چیت کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ شرد پوار کی خیریت دریافت کرنے پہنچے تھے اور ان کی طبیعت اچھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دھن تیرس پر ماروتی کی ۳۰؍ ہزار کاریں فروخت
کون کون بریچ کینڈی پہنچا؟
مختلف رپورٹس کے مطابق شرد پوار کی عیادت کرنے والوں میں قابل ذکر نام یہ ہیں: اڈانی گروپ کے سربراہ گوتم اڈانی، پرفل پٹیل (این سی پی اجیت کے ورکنگ پریسڈنٹ)، وزیراعلیٰ ٰدیویندر فرنویس (بی جےپی)، نائب وزیراعلیٰ ایکناتھ شندے (شندے سینا)، سنجے راؤت (شیوسینا یوبی ٹی)، وشوجیت کدم (کانگریس )، چھگن بھجبل (این سی پی اجیت) و دیگر ہیں۔
’’وزیراعظم مودی نے بھی فون کیا تھا‘‘
قابل ذکر ہے کہ شرد پوار کو کھانسی اور سانس لینے کے دوران سینے میں درد کی شکایت کے بعد۲؍ نومبر کو پونے کے روبی ہال کلینک میں داخل کرایا گیا تھا۔ وہاں سے اسپتال سے چھٹی ملنے کے ایک دن بعد بدھ کو انہیں معمول کے طبی معائنے اور مزید علاج کے لیے ممبئی کے بریچ کینڈی اسپتال میں داخل کرایا گیا۔ شرد پوار کے اسپتال میں داخل ہونے کے بعد وزیر اعظم مودی نے بھی فون کرکے ان کی خیریت دریافت کی تھی۔ شرد پوار کے قریبی ساتھی اور خاندانی دوست وٹھل منیار کے مطابق، وزیر اعظم نے انہیں آرام کرنے اور اپنی صحت کا خیال رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ انہوں نے سپریا سولے اور خود مل کر ملک سنبھالنے کی بات بھی کہی تھی۔
’’این سی پی کے کچھ لیڈروں کوکارروائی اور جیل جانے کا خوف ‘‘
شرد پوار سے پرفل پٹیل کی ملاقات کے تناظر میں کانگریس کے لیڈر وجئے وڈیٹیوار کا بڑا دعویٰ
کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق اپوزیشن لیڈر وجئے وڈیٹیوار نے دعویٰ کیا ہے کہ شرد پوار اور ان کی پارٹی کے مہایوتی اتحاد میں شامل ہونے کا امکان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شرد پوار کی سیاسی سوچ اور موقف دیگر لیڈروں سے مختلف ہے۔ این سی پی کے بعض لیڈر اپنے خلاف قانونی کارروائی اور جیل جانے کے خدشے کے پیش نظر مہایوتی کے ساتھ جانے کی حمایت کرسکتے ہیں، لیکن شرد پوار سے اس طرح کے موقف کی توقع نہیں کی جاسکتی۔
وجئے وڈیٹیوار نے کہا کہ شرد پوار نے سماجی اور مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور وہ ترقی پسند نظریات کے حامل لیڈر کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے فون کرکے ان کی خیریت دریافت کی تھی۔ اس دوران مودی نے مبینہ طور پر ان سے کہا کہ’’ آپ آرام کیجیے، دہلی ہم سنبھال لیں گے۔ ‘‘وڈیٹیوار کے مطابق اس بات کا ایک مطلب یہ بھی نکالا جاسکتا ہے کہ شرد پوار کو اب آرام کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجیت پوار کی پارٹی میں دو گروپ بننے سے سیاسی صورت حال میں بڑی تبدیلی دکھائی دے رہی ہے۔ بی جے پی اختلافات پیدا کرکے، اپنے سیاسی مفادات کیلئے غلط بیانی سے کام لینے میں ماہر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندوستان میں موبائل فون کیلئے سیٹیلائٹ کنیکٹی و ِٹی کی راہ ہموار
گوکُل میں نامزد اراکین کی تقرری ووٹروں کے فیصلے کی توہین اور جمہوریت کا مذاق
وجئے وڈیٹیوار نے کولہاپور کے گوکُل دودھ یونین کے اقتدار کی کشمکش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ نامزد اراکین کو شامل کرکے ووٹروں کے فیصلے کی توہین کرنا دراصل جمہوریت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی ووٹوں کی مبینہ چوری کے خلاف عوام کے جمہوری حقوق کے تحفظ کیلئے جدوجہد کررہے ہیں۔ انہوں نے انتخابی بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات پر کھلی بحث کا چیلنج بھی دیا ہے، لیکن اسے قبول کرنے کی ہمت مخالفین میں نہیں ہے۔گوکُل دودھ یونین کے اقتدار سے متعلق تنازع پر وجئے وڈیٹیوار نے کہا کہ اس معاملے میں ہم نے بڑے وکلاء سے قانونی مشورہ لیا ہے۔ کئی وکلاء کی رائے ہے کہ گوکُل میں جو کچھ ہوا ہے، وہ عدالت میں قانونی طور پر برقرار نہیں رہ سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس گوائی بھی ملک کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔ تین وزراء اور بارہ ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی کو میدان میں اتارنے کے باوجود جب مہایوتی کو سامنے سے کامیابی نہیں ملی تو اب پچھلے دروازے سے اقتدار حاصل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ وڈیٹیوار نے کہا کہ پہلی میٹنگ میں کورم پورا نہ ہونے کی صورت میں بھی ایک مخصوص قانونی طریقۂ کار کے تحت ایک ووٹ کی اکثریت سے صدر کا انتخاب کیا جاسکتا ہے، لیکن موجودہ تنازع کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ایف ڈی اے نے بلنکٹ، زیپٹو اور دیگر کے لائسنس معطل کردیئے
این سی پی کا انضمام طے تھا تو جھوٹ بول کراسے کیوں روکا؟
این سی پی اجیت لیڈر سنیل تٹکرے کے دعوے پر این سی پی شردپوار کے لیڈر انیل دیشمکھ کا چبھتا سوال
ناگپور (علی عمران) : نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کے دونوں دھڑوں کے انضمام کے معاملے میں ایک نیا سیاسی تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ این سی پی (شردچندر پوار) کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ نے دعویٰ کیا ہے کہ اجیت پوار کی زندگی ہی میں دونوں پارٹیوں کے اقتدار سے باہر نکل کر دوبارہ متحد ہونے کا فیصلہ ہوچکا تھا اور اس سلسلے میں اہم میٹنگیں بھی منعقد ہوئی تھیں۔ انہوں نے این سی پی کے رکن پارلیمنٹ سنیل تٹکرے کے حالیہ بیان کو دہراتے ہوئے سوال قائم کیا کہ’’ اگر اجیت دادا زندہ ہوتے تو ۱۲؍فروری کو دونوں جماعتوں کا انضمام ہوجاتا، تو پھر دو سال قبل تٹکرے نے انضمام سے متعلق کسی بھی میٹنگ یا بات چیت ہونے سے صاف انکار کیوں کیا تھا؟ اس وقت ان پر کس کا دباؤ تھا، جس کی وجہ سے دونوں جماعتوں کو متحد نہیں ہونے دیا گیا؟‘‘
ناگپور میں میڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انیل دیشمکھ نے دونوں این سی پی دھڑوں کے انضمام کے معاملے پر سنیل تٹکرے کے موقف میں تضاد پر شدید تنقید کی۔ ساتھ ہی شرد پوار کے موقف کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال دونوں جماعتوں کے انضمام کی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔
اجیت دادا کی موجودگی میں انضمام کیلئے میٹنگیں
سنیل تٹکرے کے بیان پرانیل دیشمکھ نے معاملے کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے کہا کہ اجیت پوار کی زندگی ہی میں شرد پوار کی قیادت والی این سی پی اور اجیت پوار کی قیادت والی این سی پی، دونوں جماعتوں کے اقتدار سے باہر نکل کر ایک ساتھ آنے پر اتفاق ہوگیا تھا۔ یہ کوئی خفیہ بات چیت نہیں تھی بلکہ اس سلسلے میں باقاعدہ میٹنگیں بھی ہوئی تھیں۔
’’ریاستی صدر کے انتخاب تک بات پہنچ گئی تھی‘‘
انیل دیشمکھ کے مطابق، دونوں جماعتوں کے انضمام کے سلسلے میں جینت پاٹل کی رہائش گاہ پر اہم میٹنگ منعقد ہوئی تھی، جس میں انضمام کے بعد ریاستی صدر کا عہدہ کس کو دیا جائے گا اور دونوں پارٹیوں کے لیڈران کو کون کون سی ذمہ داریاں سونپی جائیں گی، اس پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ اس کے بعد آخری اور فیصلہ کن میٹنگ بارامتی میں ہوئی، جس میں خود اجیت پوار اور ان کی پارٹی کے تمام سینئر لیڈر موجود تھے۔ دیشمکھ نے کہا کہ اجیت پوار کی حا دثاتی موت کے بعد تٹکرے نے میڈیا کے سامنے دعویٰ کیا تھا کہ بارامتی کی میٹنگ میں انضمام کا کوئی موضوع زیرِ بحث ہی نہیں آیا تھا اور اجیت دادا نے بھی انہیں اس بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔ لیکن اب دو سال بعد اچانک تٹکرے اپنے بیان سے کیوں پلٹ رہے ہیں؟ تٹکرے اس سوال کا جواب خود مہاراشٹر کے عوام کو دیں۔