ٹی سی ایس معاملہ: کلیدی ملزمہ ندا خان کواورنگ آباد میں پناہ دینے کے الزام پر ایم آئی ایم لیڈر امتیاز جلیل کے خلاف ناسک میں معاملہ درج۔
EPAPER
Updated: November 07, 2026, 5:16 PM IST | Agency | Nashik
ٹی سی ایس معاملہ: کلیدی ملزمہ ندا خان کواورنگ آباد میں پناہ دینے کے الزام پر ایم آئی ایم لیڈر امتیاز جلیل کے خلاف ناسک میں معاملہ درج۔
ناسک کے مشہور ٹی سی ایس جنسی ہراسانی اورمبینہ تبدیلی مذہب معاملے میں پولیس نے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ امتیاز جلیل کے خلاف مرکزی ملزمہ ندا خان کو مبینہ طور پر پناہ دینے کے الزام میں کیس درج کیا ہے۔ انڈیا ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ایس آئی ٹی کے سربراہ نے اس کی تصدیق کی ہے۔تاہم امتیاز جلیل کی جانب سے اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
امتیاز جلیل تردید کرچکے ہیں
قابل ذکر ہے کہ جب ندا خان کو پناہ دینے کے معاملے میں متین پٹیل پر کارروائی کی گئی تھی تب امتیاز جلیل کا نام اس معاملے میں سامنے آیا تھا۔ تب انہوں نے صاف طور پر تردید کی تھی کہ ان پر لگائے جارہے الزامات بے بنیاد ہیں اور ان کا ندا خان کو پناہ دینے کے معاملے میں کوئی کردار نہیں ہے۔
ایس آئی ٹی کا کیا کہنا ہے؟
اگرچہ اس سلسلے میں ابھی مصدقہ بیان کا انتظار ہے، لیکن ٹی سی ایس معاملے کی ایس آئی ٹی کے سربراہ سندیپ مٹکے نے اس کی تصدیق کی ہے۔ جون۲۰۲۶ء میں داخل کی گئی۳۵۰۰؍ صفحات پر مشتمل چارج شیٹ کے سلسلے میں اے آئی ایم آئی ایم کے سابق کارپوریٹر متین پٹیل سے پوچھ گچھ کے دوران امتیاز جلیل کا نام سامنے آیا تھا۔ پولیس کی تفتیش کے دوران متین پٹیل نے کہا تھا کہ ’’مجھے امتیاز جلیل صاحب سے پوچھنا ہوگا۔‘‘ مرکزی ملزمہ ندا خان کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد ہونے کے بعد سے وہ فرار تھی، جسے بعد میں پولیس نے اورنگ آباد (چھترپتی سمبھاجی نگر) کے ناریگاؤں علاقے سے گرفتار کرلیا۔
یہ بھی پڑھئے: دونوں ’این سی پی‘ پارٹیوں کے انضمام کی پھر قیاس آرائیاں
معاملہ کیا ہے؟
یہ پورا معاملہ ناسک میں واقع ٹی سی ایس کی ایک یونٹ سے متعلق ہے۔ دائیں بازو کے عناصر نےکافی ہنگامہ کیا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ یہاں کام کرنے والی بعض خاتون ملازمین نے کمپنی کے ساتھی ملازمین اور افسران پر جنسی ہراسانی، ذہنی اذیت اور اسلام مذہب اختیار کرنے کے لئے دباؤ ڈالنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ شکایات میں خواتین کا پیچھا کرنے، سوشل میڈیا کے ذریعے نازیبا پیغامات بھیجنے اور کھانے پینے کی عادات تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کے الزامات بھی شامل تھے۔اس معاملے کی ابتدا ناسک کے دیولالی کیمپ پولیس اسٹیشن میں درج شکایات سے ہوئی تھی۔ تحقیقات کے دوران دانش شیخ، توصیف عطار اور ندا خان سمیت کئی افراد کے نام سامنے آئے۔ معاملے کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) تشکیل دی گئی، جو اب تک دو چارج شیٹ داخل کرچکی ہے۔ ایس آئی ٹی کی جانب سے داخل کی گئی چارج شیٹ میں متاثرہ خواتین کے بیانات کی بنیاد پر مبینہ طور پر مذہب تبدیل کرانے کے منصوبے سے متعلق کئی دعوے بھی درج کیے گئے ہیں۔ایک متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ اسے مذہب تبدیل کرنے کے ساتھ ہی نئی شناخت دینے اور اس معاملے کو اس کے اہل خانہ سے چھپانے کی منصوبہ بندی بھی کی جارہی تھی۔