• Sat, 07 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پیراگوئے: بینک کے دیوالیہ ہونے کےبعد کرپشن کے سنگین الزامات کا سامنا کررہے صدر سینٹیاگو پینیا نظربند

Updated: November 07, 2026, 5:33 PM IST | Asunción

پیراگوئے کے صدر سینٹیاگو پینیا کو جمعہ کے روز سینیٹ نے عہدے سے برطرف کر دیا اور امانت میں خیانت اور اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال کے شبہے میں گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔ ان پر امانت میں خیانت، اثر و رسوخ کا ناجائز استعمال اور ذاتی فائدے کیلئے سرکاری عہدے کا استعمال کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ سب سے سنگین الزام کے تحت ۱۰ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ پینیا نے کسی بھی غیرقانونی کام کی تردید کی ہے۔

Santiago Peña. Picture: X
سینٹیاگو پینیا۔ تصویر: ایکس

پیراگوئے کے صدر سینٹیاگو پینیا کو جمعہ کے روز سینیٹ نے عہدے سے برطرف کر دیا اور امانت میں خیانت اور اثر و رسوخ کے ناجائز استعمال کے شبہے میں گھر میں نظر بند کر دیا ہے۔ یہ اقدام ’یونو بینک‘ (Ueno Bank) کے دیوالیہ ہونے کے بعد سامنے آیا، جو حکومت سے وابستہ قرض دہندہ بینک تھا جس کی ناکامی نے ملک کی ۶۰ لاکھ آبادی کے تقریباً نصف حصے کو ان کی جمع پونجی سے محروم کر دیا۔

اجلاس میں موجود تمام ۴۴ سینیٹرز نے بدعنوانی اور بدانتظامی کے الزام میں پینیا کو ہٹانے کے حق میں ووٹ دیا۔ وہ ۱۹۸۹ء میں جنرل الفریڈو اسٹروسنر کی ۳۵ سالہ آمریت کے خاتمے کے بعد مواخذے کے ذریعے برطرف کئے جانے والے دوسرے پیراگوئن صدر ہیں۔ کانگریس کے باہر جمع ہجوم نے نعرے لگائے، پرچم لہرائے اور ”آمریت اب کبھی نہیں!“ کے نعرے لگائے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ: ٹرمپ نے ہندوستانی لیڈروں اور اعلیٰ سی ای او کے ساتھ دیوالی منائی

پینیا کو سنیچر کے روز پراسیکیوٹرز کے سامنے پیش ہونے تک اسونسیون میں واقع اپنے کسی گھر میں رہنا ہوگا۔ ان پر امانت میں خیانت، اثر و رسوخ کا ناجائز استعمال اور ذاتی فائدے کیلئے سرکاری عہدے کا استعمال کرنے کے الزامات عائد کئے گئے ہیں۔ سب سے سنگین الزام کے تحت ۱۰ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ پینیا نے کسی بھی غلط کام کی تردید کی ہے۔ پراسیکیوٹرز نے کارلوس کاروالو کی گرفتاری کا بھی حکم دیا، جنہیں پینیا نے ۲۰۲۳ء میں مرکزی بینک کا سربراہ مقرر کیا تھا۔ کاروالو اس سے قبل اس فنانس کمپنی کو چلاتے تھے جو بعد میں یونو بینک میں تبدیل ہوگئی۔ نائب صدر پیڈرو الیانا نے اگست ۲۰۲۸ء تک کی مدت کیلئے صدر کے طور پر حلف اٹھا لیا ہے۔ بینک کے حوالے سے ان کے خلاف بھی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: گادی آئزن کوٹ کے وزیر اعظم بننے کی راہ ہموار

یونو بینک کو کیا ہوا؟

ریگولیٹرز نے تین دن قبل یونو بینک کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ صارفین رقوم نکلوانے یا اپنے کارڈز استعمال کرنے سے قاصر ہیں۔ اس بینک نے غریب اور بینکنگ نظام سے محروم افراد کو اپنی طرف راغب کیا تھا اور ۱۰ لاکھ سے زائد لوگوں نے اپنا پہلا اکاؤنٹ وہیں کھولا تھا۔ اس کی وجہ سے ایک رائیڈ ہیلنگ ایپ بند ہو گئی جس سے ۳۰۰۰ ڈرائیور بے روزگار ہوگئے۔ کچھ جمع کنندگان کو جمعرات کے روز رقم واپس ملنا شروع ہو گئی۔ تقریباً ۳۵۰۰۰ ڈالر تک کے ڈپازٹس انشورڈ ہیں، جس کے بارے میں مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ اس سے ۹۷ فیصد صارفین کا احاطہ ہو جاتا ہے۔ پراسیکیوٹرز نے ایک الگ مقدمے میں ۲۷ افراد پر فردِ جرم عائد کی ہے، جن میں یونو بینک کے بانی میگوئل وازکویز بھی شامل ہیں، جو زیرِ حراست ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کے جزیرے قشم پر دو میزائل حملے، ایرانی فوج کا امریکی ڈرون مار گرانے کا دعویٰ

عوامی پیسہ اور سیاسی زوال

یونو بینک نے ۸۰۰ ملین ڈالر سے زیادہ کے عوامی پیسے کے سہارے تیزی سے ترقی کی۔ قانون سازوں کا کہنا ہے کہ پینیا کا اس کی ہولڈنگ کمپنی میں حصہ تھا اور انہوں نے ریاستی پنشن فنڈ کو قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے وہاں ۳۵۵ ملین ڈالر جمع کرانے دیئے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ قریبی سیاسی تعلقات نے بینک کو جانچ پڑتال سے محفوظ رکھا۔

سابق صدر ہوراشیو کارٹیز کی قیادت میں ان کی اپنی کولوراڈو پارٹی کے مخالف ہونے کے بعد پینیا نے جمعرات کو استعفیٰ کی پیشکش کی تھی۔ سینیٹ نے استعفیٰ قبول کرنے کے بجائے مواخذے کا راستہ چنا، جس سے ان کا وہ استثنیٰ ختم ہوگیا جو استعفیٰ قبول کئے جانے کی صورت میں برقرار رہتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK