ان ریاستوں میں پہلے سے زیادہ لوگ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کر رہے ہیں، مہاراشٹر اور تمل ناڈوبھی آگے۔
EPAPER
Updated: August 07, 2026, 10:49 AM IST | New Delhi
ان ریاستوں میں پہلے سے زیادہ لوگ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کر رہے ہیں، مہاراشٹر اور تمل ناڈوبھی آگے۔
اگر آپ کا خیال ہے کہ سب سے زیادہ قرض صرف مہاراشٹر اور تمل ناڈو جیسی ریاستوں میں لیا جاتا ہے تو اب صورتحال بدل رہی ہے۔ ٹرانس یونین سیبل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ چند برسوں میں اتر پردیش، بہار اور مدھیہ پردیش میں قرض لینے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں ہندوستان کا ’کریڈٹ میپ ‘بھی تبدیل ہو رہا ہے اور ان ریاستوں کا حصہ مسلسل بڑھ رہا ہے۔
شمالی اور وسطی ہندوستان میں کریڈٹ گروتھ
رپورٹ کے مطابق۲۰۱۷ء سے۲۰۲۶ء کے درمیان شمالی اور وسطی ہندوستان میں کریڈٹ گروتھ مغربی اور جنوبی ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ رہی۔ اب ان ریاستوں میں پہلے سے زیادہ لوگ بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرض حاصل کر رہے ہیں۔
اگرچہ مہاراشٹر اور تمل ناڈو اب بھی ملک کی سب سے بڑی کریڈٹ مارکیٹ ہیں لیکن ان کا حصہ پہلے کے مقابلے میں کچھ کم ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہاں قرض لینے والوں کی تعداد کم ہوئی ہے بلکہ دوسرے صوبوں میں قرض لینے والوں کی تعداد زیادہ تیزی سے بڑھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مالی سال ۲۰۲۷ء کی پہلی سہ ماہی میں ہندوستانی کمپنیوں کے نتائج توقعات سے بہتر
رپورٹ کے اعداد و شمار کیا کہتے ہیں؟
مارچ۲۰۱۷ء میں مہاراشٹر کا حصہ۱۲؍ فیصد تھا جو مارچ۲۰۲۶ء تک کم ہو کر۱۰؍ فیصد رہ گیا۔ اسی طرح تمل ناڈو کا حصہ۱۱؍ فیصد سے کم ہو کر۹؍ فیصد ہو گیا۔
دوسری جانب اتر پردیش میں سب سے زیادہ اضافہ دیکھا گیا جہاں حصہ۸؍ فیصد سے بڑھ کر۱۱؍ فیصد ہو گیا۔ مدھیہ پردیش کا حصہ۴؍ فیصد سے بڑھ کر۶؍ فیصد جبکہ بہار کا حصہ ۳؍ فیصد سے بڑھ کر۵؍ فیصد تک پہنچ گیا۔اسی طرح مغربی بنگال کا حصہ بھی۴؍ فیصد سے بڑھ کر۵؍ فیصد ہو گیا۔
رپورٹ کے مطابق یہ تبدیلی اس بات کی علامت ہے کہ ملک میں زیادہ سے زیادہ لوگ اب بینکاری نظام سے جڑ رہے ہیں اور باضابطہ قرض حاصل کر رہے ہیں۔
ماہرین کےمطابق چھوٹے شہروں اور نئی ابھرتی ہوئی ریاستوں میں بھی بینکنگ اور کریڈٹ کی سہولتوں کی رسائی بڑھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتر پردیش، بہار اور مدھیہ پردیش جیسی ریاستیں اب ہندوستان کی کریڈٹ مارکیٹ میں تیزی سے اپنا حصہ بڑھا رہی ہیں۔
اگرچہ مہاراشٹر اور تمل ناڈو جیسے بڑے بازار اب بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں لیکن دیگر ریاستیں بھی تیزی سے ان کے برابر آنے کی جانب بڑھ رہی ہیں۔