Updated: August 02, 2026, 10:15 PM IST
| Berlin
جرمنی کی ایک عدالت نے فیصلہ دیا کہ اسرائیل کا موازنہ نازی دور سے کرنا کوئی مجرمانہ فعل نہیں ہے، ایک انسٹاگرام صارف نے کئی پوسٹس میں ریاست اسرائیل کے اقدامات کا نازی دور کے طریقوں سے موازنہ کیا تھااور اس سلسلے میں نازی سواستیکا اور نازی پارٹی کے جھنڈے کا استعمال بھی کیا تھا۔
غزہ میں اسرائیلی مظالم کی ایک تصویر۔ تصویر: ایکس
جرمنی کی قانونی ویب سائٹ ’’بیک آن لائن‘‘ کی ایک خبر کے مطابق جنوب مغربی شہر زوئیبروکن کی ایک اعلیٰ علاقائی عدالت نے اس خاتون کو، جس نےکئی پوسٹس میں ریاست اسرائیل کے اقدامات کا نازی دور کے طریقوں سے موازنہ کیا تھااور اس سلسلے میں نازی سواستیکا اور نازی پارٹی کے جھنڈے کا استعمال بھی کیا تھا، آزادیٔ اظہار کے حق کا حوالہ دیتے ہوئے کسی بھی غلطی سے بری کر دیا۔
یہ بھی پڑھئے: نیدرلینڈز: دی ہیگ کے ساحل شیوننگن میں ہزاروں جوتے رکھ کرغزہ کے بچوں کوخراج عقیدت
بعد ازاں عدالت کے مطابق، غیر آئینی تنظیموں کی علامات استعمال کرنے کا مجرمانہ جرم اس وقت پورا نہیں ہوتا جب کوئی شخص ان علامات کو ریاست اسرائیل کے طریقوں پر سخت تنقید کرنے کے لیے استعمال کرے اور اس طرح وہ خود کو نازی دور کی ناانصافیوں سے واضح طور پر الگ کرے یا ان کی مذمت کرے۔ واضح رہے کہ زیرِ بحث صارف نے اپنی تحریر میں ایک جدول پوسٹ کیا تھا جس میں نازیوں کے اقدامات کا مشرقِ وسطیٰ تنازع میں اسرائیل کے اقدامات سے موازنہ کیا گیا تھا۔ اس کے اوپر ایک منقسم تصویر تھی جس کے ایک طرف اسرائیل کا جھنڈا اور دوسری طرف نازی پارٹی کا جھنڈا،جس پر جزوی طور پر نظر آنے والا سواستیکا تھاموجود تھا۔ مزید برآں ایک اور پوسٹ میں ایک دیوار دکھائی گئی جس پر ڈیوڈ کا ستارہ تھا، جس کے مرکز میں نازی سواستیکا تھا۔ دیوار سے فوجیوں نے گھیرے ہوئے علاقے میں فائرنگ کی، اور دیواروں کے نیچے سے خون بہہ رہا تھا۔ صارف نے ہیش ٹیگز #freepalestine اور #gazaunderattack بھی شامل کیے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’غزہ امن معاہدے پر تمام فریقوں کو یکساں طور پر کاربند رہنا ہوگا ‘‘
تاہم لوڈوگشافن کی ایک نچلی عدالت نے اس خاتون کو غیر آئینی تنظیموں کی علامات استعمال کرنے پر ۲۴۰۰؍یوروکے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔جبکہ اس کے خلاف اپیل پر، زوئیبروکن عدالت نے اس فیصلے کو کالعدم کر دیا۔ساتھ ہی عدالت نے انتباہ دیاکہ آزادیٔ اظہار کی روشنی میں اس مجرمانہ جرم کی بہت وسیع تشریح سے گریز کیا جائے۔