Updated: September 07, 2026, 8:30 PM IST
| Thiruvananthapuram
ملیالم نیوز چینلز کی جانب سے خبروں، سرخیوں، ٹی وی مباحثوں اور بصری پیشکشوں میں مبینہ اسلاموفوبک فریمنگ کے ۱۲۰؍ واقعات کی نشاندہی ہوئی ہے۔ اسلاموفوبیا واچ کی رپورٹ میں جنوری ۲۰۲۴ء سے ستمبر ۲۰۲۶ء تک کی کوریج کا جائزہ لیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ مسئلہ محض انفرادی صحافیوں تک محدود نہیں بلکہ نیوز رومز کے ادارتی فیصلوں، خبروں کے انتخاب، زبان اور سیاسی ماحول سے بھی جڑا ہوا ہے۔
علامتی تصویر: آئی این این
ملیالم زبان کے نیوز چینلز کی جانب سے اپنی خبروں، مباحثوں، سرخیوں اور بصری پیشکشوں میں بار بار اسلاموفوبک فریمنگ استعمال کیے جانے کے ۱۲۰؍ واقعات سامنے آئے ہیں۔ یہ دعویٰ اسلاموفوبیا واچ کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے، جس میں جنوری ۲۰۲۴ء سے ستمبر ۲۰۲۶ء تک تقریباً ایک ہزار دن کی ملیالم ٹیلی ویژن نیوز کوریج کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ کا عنوان ’’اسلاموفوبیا اِن ملیالم نیوز چینلز: ۱۲۰؍ پریزنٹیشنز (جنوری ۲۰۲۴ء تا ستمبر ۲۰۲۶ء)‘‘ ہے۔ رپورٹ میں ۱۲۰؍ منتخب واقعات کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں مصنفین نے اسلاموفوبک قرار دیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اسلام یا مسلمانوں پر تنقید کرنے والی ہر خبر کو اسلاموفوبک قرار نہیں دیا گیا۔ اس کے مطابق میڈیا کی وہ پیشکش اسلاموفوبک سمجھی گئی ہے جس میں مسلمانوں یا اسلام کو بار بار ’’شک، سیکوریٹی خطرات، دہشت گردی، عدم برداشت اور سماجی پسماندگی‘‘ کے ساتھ جوڑا جائے، کسی فرد کے عمل کو پوری مذہبی برادری کی خصوصیت کے طور پر پیش کیا جائے، یا مسلمانوں کی سیاسی اور سماجی سرگرمیوں کے لیے مختلف معیارات اختیار کیے جائیں۔ رپورٹ میں یہ بھی جائزہ لیا گیا کہ سرخیاں، بصری مواد، سوالات اور ٹیلی ویژن مباحثوں کا ڈھانچہ کس طرح بار بار مسلمانوں کو ’’شک اور اجنبیت‘‘ کی پوزیشن میں پیش کر سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملیالم نیوز میڈیا میں اسلاموفوبیا کو محض چند الگ تھلگ خبروں یا انفرادی صحافیوں کا مسئلہ نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے بجائے اسے میڈیا کے وسیع تر طریقۂ کار کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، جس میں خبروں کا انتخاب، ادارتی ترجیحات، سرخیاں، زبان، بصری پیشکش اور ٹی وی مباحثوں کی فریمنگ شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کروشیا: ہزاروں ٹن کوڑاکرکٹ ہٹانے میں تاخیر پر حکومت کے خلاف زبردست احتجاج
جنم ٹی وی اور نیوز ۱۸؍ کی کوریج پر خاص توجہ
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دستاویزی ۱۲۰؍ واقعات میں زیادہ تر ’’جنم ٹی وی‘‘ سے متعلق تھے۔ رپورٹ نے اس چینل کو ہندوتوا سیاست سے قریبی روابط رکھنے والا قرار دیتے ہوئے کیرالا کے ان میڈیا اداروں کی ملکیت اور ادارتی قیادت کی جانچ کا مطالبہ کیا ہے جن کے ہندوتوا سیاست سے براہِ راست یا بالواسطہ تعلقات ہیں۔ ’’نیوز ۱۸؍ کیرالا‘‘ کو بھی رپورٹ میں خصوصی جانچ کے لیے نشان زد کیا گیا ہے، جس کی وجہ رپورٹ کے مطابق اسلاموفوبک پیشکشوں کی ’’تعداد اور نوعیت‘‘ ہے۔ رپورٹ نے ’’ایشیا نیٹ نیوز‘‘ کو بھی کیرالا بی جے پی کے صدر راجیو چندرشیکھر کے ساتھ اس کی ملکیتی وابستگی کے تناظر میں زیرِ بحث لایا ہے۔ اسی طرح رپورٹ میں ’’رپورٹر ٹی وی‘‘ کے منیجنگ ڈائریکٹر اور منیجنگ ایڈیٹر انٹو آگسٹین کا ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق وہ ماضی میں پی سی تھامس کی قیادت والی کیرالا کانگریس کے ریاستی آرگنائزنگ سیکریٹری رہ چکے ہیں، جو این ڈی اے کی ایک اتحادی جماعت تھی، جبکہ انہوں نے وایناڈ سے این ڈی اے کی حمایت یافتہ آزاد امیدوار کے طور پر بھی انتخاب لڑا تھا۔
رپورٹ میں ’’بگ ٹی وی‘‘ کی چیف ایڈیٹر سجایا پاروتی کے عوامی سیاسی مؤقف کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ۲۰۲۳ء میں بھارتیہ مزدور سنگھ (BMS) کی جانب سے منعقدہ خواتین کانفرنس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر بی ایم ایس کی تقریب میں شرکت کی وجہ سے انہیں ’’سنگھی‘‘ کہا جاتا ہے تو وہ یہ شناخت بول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ رپورٹ میں بی جے پی سے متعلق بعد کی بعض عوامی تقریبات میں ان کی شرکت کا بھی حوالہ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ ’’کیرالا کے نیوز میڈیا کی ملکیت، ادارتی قیادت، ہندوتوا سیاست کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور رپورٹ میں دستاویزی اسلاموفوبک پیشکشوں کے درمیان تعلق کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کا تنقیدی جائزہ ضروری ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’جب تک لڑکیاں مجھے فالو نہیں کریں گی، میں پٹری سے نہیں ہٹوں گا...‘‘
اسلاموفوبیا صرف ہندوتوا سے منسلک میڈیا تک محدود نہیں
رپورٹ میں ایک اہم نکتے پر خاص دلائی گئی ہے کہ اسلاموفوبک کوریج صرف ان میڈیا اداروں تک محدود نہیں جن کے ہندوتوا سیاست سے براہِ راست ادارتی یا ملکیتی روابط ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ’’ایشیا نیٹ نیوز، منورما نیوز، ۲۴؍ نیوز اور ماتھرو بھومی نیوز‘‘ سمیت کئی معروف ملیالم نیوز اداروں کی کوریج میں بھی اسلاموفوبک نیوز فریمز پائے گئے۔ ۱۴؍ دسمبر ۲۰۲۴ء کو ’’رپورٹر ٹی وی‘‘ نے ایم ای سی ۷؍ (MEC 7) نامی فٹنس اور ایکسرسائز گروپ کی کوریج میں جماعتِ اسلامی اور ایس ڈی پی آئی کی مبینہ شمولیت کو ’’مذہبی انتہا پسندوں کی دراندازی‘‘ کے طور پر پیش کیا۔ رپورٹ کے مطابق اس کوریج میں یہ خدشہ بھی ظاہر کیا گیا کہ مسلم تنظیمیں سنگھ پریوار کی مخالفت کو استعمال کرتے ہوئے ’’سیکولر مسلمانوں‘‘ پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ رپورٹ نے حکومت کے زیرِ انتظام براڈکاسٹر کی جانب سے ۵؍ اپریل ۲۰۲۴ء کو، لوک سبھا انتخابات کی مہم کے دوران، فلم ’’دی کیرالا اسٹوری‘‘ نشر کرنے کے فیصلے پر بھی تنقید کی۔ رپورٹ کے مطابق فلم میں مسلمانوں کو منظم مذہبی تبدیلی اور دہشت گردی کے ایک ذریعے کے طور پر پیش کیا گیا، جس کے باعث سرکاری سطح پر اس نوعیت کے بیانیے کو اعتبار حاصل ہوا۔
منگلورو واقعے اور دیگر کوریج پر اعتراض
۳۰؍ اپریل ۲۰۲۵ء کو ’’ایشیا نیٹ نیوز‘‘ نے منگلورو میں اشرف نامی ایک مسلمان شخص کے ہجوم کے ہاتھوں قتل کی خبر نشر کی۔ رپورٹ کے مطابق خبر میں بتایا گیا کہ اشرف ذہنی طور پر معذور تھا اور ہجوم کے تشدد کے بعد اس کی موت ہوئی، تاہم گرفتار کیے گئے افراد کے مبینہ آر ایس ایس اور بجرنگ دل روابط کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ۱۴؍ ستمبر ۲۰۲۵ء کو ’’جنم ٹی وی‘‘ نے کوچی میں صحافی صدیق کپن اور دیگر افراد کی شرکت والے ایک یکجہتی پروگرام کو ’’اربن ماؤ نواز اجتماع‘‘ قرار دیا۔ یہ پروگرام مبینہ طور پر جیل میں قید کارکن ریجاز کی حمایت میں منعقد کیا گیا تھا، جبکہ پولیس نے منتظمین کے خلاف اجازت کے بغیر تقریب منعقد کرنے کا مقدمہ درج کیا تھا۔ ۱۷؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو ’’رپورٹر ٹی وی‘‘ کے ایڈیٹر ارون کمار نے پلّوروتھی میں حجاب پر پابندی کے معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسکول نے کوئی ضابطہ نہیں توڑا اور اس کے خلاف کارروائی نہیں ہونی چاہئے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے طالبہ کے حجاب پہننے کے مطالبے کے مقابلے میں اسکول انتظامیہ کے حقوق کو زیادہ اہمیت دی۔ یہ ویڈیو بعد میں چینل کے آن لائن پلیٹ فارم سے ہٹا دی گئی۔ ۱۱؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو ارون کمار نے مبینہ ’’دہشت گردوں‘‘ کے ڈاکٹروں، اساتذہ، محققین، صحافیوں اور وکلا کے درمیان موجود ہونے کی بات کرتے ہوئے انہیں ’’وائٹ کالر دہشت گرد‘‘ قرار دیا اور اسے ان افراد کی ایک نئی شکل بتایا جنہیں ماضی میں ’’سلیپر سیلز‘‘ کہا جاتا تھا۔ ۱۲؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو دہلی دھماکے کی تحقیقات کے دوران فریدآباد کی الفلاح یونیورسٹی کے باہر سے براہِ راست رپورٹنگ کرتے ہوئے رپورٹر ٹی وی نے اسکرول چلایا: ’’فریدآباد گینگ کے ٹھکانے سے لائیو‘‘۔ رپورٹ کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے سے قبل یونیورسٹی کو دہشت گردوں کے ٹھکانے کے طور پر پیش کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: مالیگاؤں میں ڈینگو، ٹائیفائیڈ اور نمونیا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ
صحافی سوریہ ساجی کا معاملہ
رپورٹ میں رپورٹر ٹی وی کی صحافی سوریہ ساجی کے تجربے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہوں نے جنوری ۲۰۲۴ء میں بی جے پی لیڈر سریش گوپی کی جانب سے میڈیا ون کی ایک خاتون رپورٹر کے ساتھ مبینہ بدسلوکی پر عوامی تنقید کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق سوریہ ساجی نے الزام عائد کیا کہ اس کے بعد چینل کی انتظامیہ نے انہیں سرزنش اور تضحیک کا سامنا کرنے پر مجبور کیا اور وہ سنگھ پریوار کے حق میں کام کر رہی تھی۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ جب ایک مسلمان رپورٹر نے کولم سے متعلق ایک جعلی خبر پر سوال اٹھایا تو انتظامیہ نے اسے کہا کہ ’’میتھن لوگوں کو خبروں میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے‘‘۔ رپورٹ کے مطابق ’’میتھن‘‘ مسلمانوں کے لیے استعمال ہونے والی ایک توہین آمیز اصطلاح ہے۔
’’وائٹ کالر دہشت گرد‘‘ اور مذہبی شناخت
۲۷؍ نومبر ۲۰۲۵ء کو ایشیا نیٹ نیوز نے ایک رپورٹ شائع کی جس کی سرخی تھی: ’’ڈاکٹر اور انجینئر دہشت گرد کیوں بنتے ہیں؟ یہ لوگ کون ہیں؟‘‘ رپورٹ کے مطابق اس میں سید قطب، اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور ابوبکر البغدادی جیسے افراد کو ’’وائٹ کالر دہشت گرد‘‘ کے زمرے میں رکھا گیا، جس سے تعلیم یافتہ مسلم دانشوروں اور پیشہ ور افراد کو دہشت گردی کے ساتھ جوڑنے کا تاثر پیدا ہوا۔ ۱۱؍ اگست ۲۰۲۵ء کو ایشیا نیٹ نیوز نے سونا ایلڈوز کی خودکشی پر ایک بحث نشر کی، جس کی سرخی تھی: ’’کیا اس نے اسے مذہب تبدیل کرانے کے لیے محبت کا ڈرامہ کیا تھا؟‘‘ رپورٹ کے مطابق یہ دعویٰ اس وقت تک ثابت نہیں ہوا تھا۔ ۱۳؍ مئی ۲۰۲۶ء کو رپورٹر ٹی وی کے منیجنگ ڈائریکٹر انٹو آگسٹین کے ایک بیان کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جس میں انہوں نے وی ڈی ستیشن کو وزیرِ اعلیٰ بنانے کا مطالبہ کرنے والے حامیوں کے بارے میں کہا تھا کہ انہیں ’’ان کے ناموں سے‘‘ پہچانا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ بیان مسلمانوں کے ناموں کے ذریعے ان کی مذہبی شناخت کی نشاندہی کے مترادف تھا۔
یہ بھی پڑھئے: رکن پارلیمان سپریا سُلے کا موجودہ تعلیمی نظام پر تشویش کا اظہار
’’شریعہ جم‘‘ اور مسلم خواتین سے متعلق بحث
۵؍ جون ۲۰۲۶ء کو نیوز ۱۸؍ ملیالم نے پالکڑ کے ایک فٹنس سینٹر کے خلاف بی جے پی کی شکایت کی خبر نشر کی۔ شکایت میں مردوں اور خواتین کے لیے الگ اوقات، موسیقی نہ بجانے اور مبینہ مذہبی لباس کا حوالہ دیا گیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق چینل نے اپنی سرخی میں اس ادارے کو ’’شریعہ جم‘‘ قرار دیا۔ ۳۱؍ اگست ۲۰۲۶ء کو بگ ٹی وی پر اپرنا کُرپ کی ایک بحث کا بھی رپورٹ میں ذکر ہے۔ رپورٹ کے مطابق بحث میں اے پی ابوبکر مسلیار کانتھاپورم کے مبینہ خواتین مخالف بیانات پر تنقید سے آگے بڑھ کر اسلامی اصطلاحات اور مسلمانوں کا عمومی مذاق اڑایا گیا۔ اس دوران ایسے سوالات اٹھائے گئے کہ ’’کیا تمام باعلم خواتین الحرام بن جاتی ہیں؟‘‘، ’’صرف خواتین کو عورت کا ستر ڈھانپنے کے لیے کیوں کہا جاتا ہے؟‘‘ اور ’’کیا آپ چھٹی صدی میں رہ رہے ہیں؟‘‘
’’مسلم ووٹ‘‘ کی سیاسی فریمنگ
رپورٹ کے مطابق ۵؍ سے ۲۴؍ جون ۲۰۲۴ء کے دوران انتخابی کوریج میں میڈیا ون، منورما نیوز، ماتھرو بھومی نیوز اور رپورٹر ٹی وی نے بار بار ’’مسلم ووٹ‘‘ کو ایک الگ سیاسی بلاک کے طور پر پیش کیا۔ رپورٹ کا دعویٰ ہے کہ اس کے مقابلے میں نائر اور دیگر اعلیٰ ذات کے ہندو ووٹوں کے بی جے پی کے حق میں یکجا ہونے کو کہیں کم توجہ دی گئی، جسے رپورٹ نے غیر مساوی میڈیا فریمنگ قرار دیا۔ ۱۳؍ مارچ ۲۰۲۴ء کو ایشیا نیٹ نیوز، میڈیا ون، ۲۴؍ نیوز اور ماتھرو بھومی نیوز نے یہ خبر نشر کی کہ این آئی اے نے بیلاری کے رہائشی شبیر کو رامیشورم کیفے دھماکے کے سلسلے میں حراست میں لیا ہے۔ ۲۴؍ نیوز نے انہیں ’’مرکزی ملزم‘‘ بھی قرار دیا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق این آئی اے نے بعد میں واضح کیا کہ کسی کو گرفتار نہیں کیا گیا اور قیاس آرائیوں سے گریز کی تنبیہ کی۔
یہ بھی پڑھئے: جالنہ : منوج جرنگے کا اب پانی پینے اور علاج کرانے سے بھی انکاراز
ایک ہی میڈیا ادارے میں متضاد رویہ
رپورٹ نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ جن میڈیا اداروں پر اس مطالعے میں تنقید کی گئی، ان میں سے کئی نے اسلاموفوبیا کے خلاف اہم رپورٹس اور مباحث بھی نشر کیے ہیں اور مسلمانوں کو درپیش امتیازی سلوک کو اجاگر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تضاد بھی قابلِ غور ہے کہ ایک ہی میڈیا ادارے میں بعض اوقات اسلاموفوبیا کے خلاف مؤقف اختیار کیا جاتا ہے، جبکہ دوسرے مواقع پر اسی ادارے سے اسلاموفوبک پیشکشیں سامنے آتی ہیں۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کی وضاحت محض انفرادی صحافیوں کے سیاسی نظریات سے نہیں کی جا سکتی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’’ملیالم نیوز میڈیا میں اسلاموفوبیا کا مسئلہ کسی ایک صحافی کے سیاسی مؤقف کی سادہ وضاحت سے کہیں آگے ہے۔‘‘ رپورٹ میں ’’میں سنگھی نہیں ہوں، لیکن......‘‘ جیسے مؤقف کو بھی ناکافی قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اسلاموفوبیا کو ایک وسیع تر میڈیا اسٹرکچر کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے، جو خبروں کے انتخاب، ادارتی ترجیحات، سرخیوں، زبان، بصری پیشکش، سوالات کی نوعیت، مباحثوں میں مدعو کیے جانے والے شرکا کے انتخاب اور بعض خبروں کو دی جانے والی اہمیت کے ذریعے کام کرتا ہے۔ رپورٹ نے آخر میں سوال اٹھایا کہ ’’معاشرے میں ہندوتوا سیاسی ماحول کے مضبوط ہونے اور مسلمانوں کے بارے میں پہلے سے موجود تعصبات کس طرح نیوز رومز کے روزمرہ کام کاج میں سرایت کرتے ہیں۔‘‘