ملازمین کو برطرفی کے نوٹس جاری ،متاثرین کا سوال’’مونوریل چلانا اگرمشکل اور مہنگا عمل ہےتو اسکی قیمت ملازمین کو یوں اچانک کیوں چکانی پڑرہی ہے؟ ‘‘
EPAPER
Updated: September 30, 2025, 2:28 PM IST | Rajendra B. Aklekar | Mumbai
ملازمین کو برطرفی کے نوٹس جاری ،متاثرین کا سوال’’مونوریل چلانا اگرمشکل اور مہنگا عمل ہےتو اسکی قیمت ملازمین کو یوں اچانک کیوں چکانی پڑرہی ہے؟ ‘‘
اس وقت ممبئی مونوریل کے کانٹریکٹ ملازمین کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔سروسیز معطل اور بحالی کیلئے کوئی ٹائم لائن نہ ہونے سے وہ بے روزگاری کا شکار ہورہے ہیں۔ کیونکہ ممبئی میٹروپولیٹن ریجن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی(ایم ایم آرڈی اے)کے ذیلی ادارہ مہا ممبئی میٹرو آپریشن کارپوریشن لمیٹڈ(ایم ایم او ایم سی ایل ) کے ٹھیکیدار اب ملازمین کو برطرفی کے نوٹس بھیج رہے ہیں۔دھیان رہے کہ تکنیکی مسائل اور بار بار مونو ریل کے بند پڑجانے کے باعث ۲۰؍ ستمبر سے مونوریل سروسیز معطل کیے جانے کے ریاستی حکومت کے فیصلے نے درجنوں کنٹریکٹ ملازمین کو بے روزگار کردیا ہے۔
ایک ٹھیکیدار کے خط میںجو نمائندہ نے حاصل کیا، درج ہے: ’’آپ کا آخری ورکنگ ڈے۲۵؍ اکتوبر۲۰۲۵ءہوگا۔‘‘ اس طرح کے پیغام کے ساتھ کئی انجینئرز، ٹیکنیشنز اور گراؤنڈ اسٹاف کی ملازمت کا باضابطہ خاتمہ کردیا گیا، جو برسوں سے اس مشکل سروسیز کو کسی نہ کسی طرح چلارہے تھے۔ اگرچہ سروسیز معطل کیے جانے کا قیاس لگایا جارہا تھا، ملازمین کا کہنا ہے کہ یوں اچانک برطرف کردینا’غیر انسانی عمل‘ ہے۔
ایک مڈ لیول انجینئر نے اخبار ھٰذا کو اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’’ہم سمجھتے ہیں کہ مونوریل چلانا مشکل اور مہنگا عمل ہے، لیکن اس کی قیمت ملازمین کو راتوں رات کیوں چکانی پڑرہی ہے؟ ہم میں سے کچھ شروعات سے یہاں ہیں اور اب اچانک دیوالی سے عین پہلے صرف۳۰؍ دن میں ملازمت سے رخصت کیا جارہا ہے۔‘‘
ایک اور ملازم نے کہا کہ ’’کم از کم ری ہیبلیٹیشن پلان یا ایم ایم آر ڈی اے کے دوسرے منصوبوں میں ری ڈپلائمنٹ پر غور کیا جا سکتا تھا۔ یوں ٹرمینیشن ای میل بھیج دینا دل شکن ہے۔ ایم ایم آر ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ ٹھیکیدار صرف ایم ایم او ایم سی ایل کے سسپنشن آرڈر پر عمل کر رہے ہیں، مگر کسی ٹرانزیشن پلان کی غیر موجودگی پر کڑی تنقید کی جا رہی ہے۔ ٹرانسپورٹ ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ یہ اقدام دوسرے پروجیکٹس سے بھی لوگوںکو نکالنے کیلئے جواز بن سکتا ہے۔ ایک سینئر ٹرانسپورٹ پلانر نے کہا کہ ’’حکومت کے نقطہ نظر سے مونوریل کو معطل کرنا عملی فیصلہ ہے، کیونکہ اس کی سواریاں اور اخراجات کبھی بھی اس کے آپریشنز کو درست نہیں ٹھہراتے تھے۔ لیکن ملازمین کے نقطہ نظر سے یہ فیصلہ غیر انسانی ہے۔ کم از کم کوئی سماجی تحفظ کا انتظام ہونا چاہیے تھا۔‘‘
خیال رہے کہ مونوریل سروس۲۰۱۴ء میں شروع کی گئی اور اسے کبھی ممبئی کے ’’فیوچر ریڈی ٹرانزٹ سسٹم ‘‘کے طور پر پزیرائی بھی کی گئی لیکن بار بار تکنیکی خرابیوں، حفاظتی مسائل اور مسافروں کی کم تعداد کی وجہ سے اس کا آپریشن مشکلات کا شکار رہا۔