• Fri, 23 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پی ای آر ایم درخواستوں کی معطلی سے کاروبار پر بڑا اثر نہیں پڑے گا: انفوسس

Updated: October 11, 2026, 5:04 PM IST | New Delhi

ہندوستان کی معروف انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی انفوسس نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے مستقل ملازمت کی تصدیق کے پروگرام (پی ای آر ایم) کے تحت بعض نئی اور زیر التوا درخواستوں کی کارروائی معطل کیے جانے سے اس کے کاروبار اور روزمرہ کے کام کاج پر کوئی بڑا اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے۔

Infosys.Photo:INN
انفوسس۔ تصویر:آئی این این

ہندوستان کی معروف انفارمیشن ٹیکنالوجی کمپنی انفوسس نے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے مستقل ملازمت کی تصدیق کے پروگرام (پی ای آر ایم) کے تحت بعض نئی اور زیر التوا درخواستوں کی کارروائی معطل کیے جانے سے اس کے کاروبار اور روزمرہ کے کام کاج پر کوئی بڑا اثر پڑنے کی توقع نہیں ہے۔ 
کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع میں کہا کہ وہ امریکی محکمہ محنت کے فیصلے سے واقف ہے اور متعلقہ سرکاری اداروں کی جانب سے پوچھے جانے والے سوالات کے جواب دینے کے لیے مکمل تعاون کرے گی۔ انفوسس کے مطابق، اس معطلی سے کمپنی کے کاروباری آپریشنز پر کوئی نمایاں اثر پڑنے کا امکان نہیں ہے اور ضرورت پڑنے پر وہ ضابطوں کے مطابق مزید معلومات فراہم کرے گی۔ کمپنی نے واضح کیا کہ اس نے امریکہ میں مقامی ملازمین کی بھرتی، ٹیکنالوجی مراکز اور جدت طرازی کے مراکز کی تعمیر میں مسلسل سرمایہ کاری کی ہے، جس کے باعث اس کی افرادی قوت کی حکمت عملی کسی ایک امیگریشن پروگرام پر منحصر نہیں ہے۔ انفوسس نے اپنے ملازمین، صارفین اور امریکی برادریوں کے تئیں اپنی وابستگی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام قابل اطلاق قوانین اور ضابطوں کی پابندی جاری رکھے گی۔

یہ بھی پڑھئے:’ایوینجرز: اینڈ گیم‘ اب تک کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بنی، ’اوتار‘ دوسرے نمبر پر

گزشتہ ہفتے امریکی وزیر محنت کیتھ سونڈرلنگ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی انتظامیہ نے عالمی سطح پر سرگرم بعض بڑی انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پی ای آر ایم درخواستوں پر عارضی طور پر کارروائی روک دی ہے۔ یہ قدم مبینہ ویزا فریب دہی اور امریکی ملازمین کے مفادات سے متعلق روزگار کے معاملات کی تحقیقات کے تناظر میں اٹھایا گیا ہے۔ پی ای آر ایم، یعنی مستقل ملازمت کی تصدیق کا پروگرام، امریکہ میں گرین کارڈ حاصل کرنے کے عمل کا ایک اہم حصہ ہے۔ اس پروگرام کے تحت آجر بعض شرائط پوری کرنے کے بعد اہل غیر ملکی ملازمین کے لیے مستقل رہائش کی درخواست کے اگلے مراحل کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ درخواستوں پر عارضی پابندی کے باعث متعلقہ ملازمین کے مستقل رہائش کے عمل میں تاخیر کا امکان پیدا ہوسکتا ہے، تاہم اس کے اثرات ہر کمپنی کے معاملات اور زیر التوا درخواستوں کی تعداد کے مطابق مختلف ہوسکتے ہیں۔
 ہندوستان کی ایک اور بڑی آئی ٹی کمپنی ٹاٹا کنسلٹنسی سروسیز (ٹی سی ایس) نے بھی امریکی حکومت کے اعلان پر اپنا موقف واضح کیا ہے۔ کمپنی نے کہا کہ وہ امریکی حکومت کے فیصلے سے واقف ہے اور محکمہ محنت کی جانب سے جاری کردہ تمام ہدایات پر عمل کرے گی۔ ٹی سی ایس نے اسٹاک ایکسچینج کو دی گئی اطلاع میں بتایا کہ امریکہ میں اس کی افرادی قوت کی حکمت عملی بنیادی طور پر مقامی صلاحیتوں اور ملازمین کی بھرتی پر مبنی ہے۔ کمپنی کے مطابق، امریکہ میں اس کے ۳۱؍دفاتر اور خدمات فراہم کرنے والے مراکز موجود ہیں اور وہ آئندہ پانچ برسوں میں مزید ۱۵؍ ہزار مقامی ملازمین بھرتی کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:غزہ جنگ بندی: ایک سال بعد بورڈ آف پیس نے کیا حاصل کیا؟

ٹی سی ایس نے یہ بھی کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران اس کی پی ای آر ایم درخواستوں کی تعداد ایک ہندسے تک محدود رہی ہے، اس لیے کمپنی کو توقع نہیں ہے کہ اس پروگرام کی معطلی سے اس کی افرادی قوت کی حکمت عملی یا صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات پر کوئی قابل ذکر اثر پڑے گا۔ امریکی حکومت کا یہ اقدام ہندوستانی آئی ٹی شعبے کے لیے اہم ہے، کیونکہ انفوسس اور ٹی سی ایس جیسی کمپنیاں امریکہ میں بڑے پیمانے پر کاروبار کرتی ہیں اور وہاں کے صارفین کو ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر اور ڈجیٹل خدمات فراہم کرتی ہیں۔ تاہم دونوں کمپنیوں کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مقامی ملازمین کی بھرتی اور امریکہ میں اپنے مراکز کے ذریعے افرادی قوت کی ضروریات پوری کرنے پر توجہ دے رہی ہیں۔ اس کے باوجود، پی ای آر ایم درخواستوں پر معطلی کی مدت، تحقیقات کے نتائج اور امریکی حکومت کے آئندہ فیصلے اس بات کا تعین کرنے میں اہم ہوں گے کہ متعلقہ ملازمین کے گرین کارڈ کے عمل اور کمپنیوں کی طویل مدتی افرادی قوت کی منصوبہ بندی پر کتنا اثر پڑتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK