نوٹس کے جواب میں سختی کے ساتھ کہا کہ پالکی سے چلنا مذہبی روایات کا اہم حصہ ہے، اسے کوئی نہیں روک سکتا ، افسران نے شنکر اچاریہ کے وقار کو مجروح کیا ہے۔ ماگھ میلہ انتظامیہ نے یہ دوسرا نوٹس جاری کیا تھا ، مارپیٹ کا ویڈیو وائرل کرنے پر ایک گرفتار۔
چند روز قبل سوامی اوی مکتیشورانند کی بگھی کو روکنے کی کوشش کی گئی تھی جس پر کافی تنازع ہوا تھا۔ تصویر: آئی این این
حمیداللہ صدیقی
inquilab@mid-day.com
لکھنؤ : مونی اماوسیا اسنان کے دوران پولیس اور ماگھ میلہ انتظامیہ کی جانب سے روکے جانے کے معاملے پر جاری تنازع کے بیچ سوامی اوی مکتیشورانند سرسوتی نے جمعرات کو ماگھ میلہ انتظامیہ کے دوسرے نوٹس کا بھی تفصیلی جواب دے دیا۔ اس میں انہوں نے کافی سختی کا مظاہرہ کیا ہے۔ انہوں نے گھوڑا گاڑی (بگھی) کے استعمال کے الزام کو بے بنیاد اور بدنیتی پر مبنی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر ان کے خلاف کوئی غیر منصفانہ کارروائی کی گئی تو وہ قانونی راستہ اختیار کر نے پر مجبور ہوں گے۔
ماگھ میلہ انتظامیہ نے اپنے دوسرے نوٹس میں سوال کیا تھا کہ کیوں نہ سوامی اوی مکتیشورانند کے ادارے کو الاٹ کی گئی زمین اور سہولیات منسوخ کردی جائیں اور کیوں نہ انہیں مستقل طور پر میلہ میں داخلے سے روک دیا جائے۔ اس پر جواب دیتے ہوئے سوامی نے کہا کہ ۱۸؍ جنوری کو مونی اماوسیا کے اسنان کے لئے گھوڑا گاڑی میں جانے کا الزام سراسر جھوٹا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نہ ان کے کیمپ میں اور نہ ہی ان کے کسی آشرم میں اس وقت کوئی بگھی موجود ہے۔ انتظامیہ نے الزام لگایا تھا کہ سوامی نے ریزرو بریج نمبر ۲؍ پر لگائی گئی بیریکیڈنگ توڑی اور شدید بھیڑ کے دوران بگھی میں سوار ہو کر آگے بڑھ گئے جب کہ اس وقت صرف پیدل آمدورفت کی اجازت تھی۔
اس الزام پر وضاحت دیتے ہوئے سوامی اوی مکتیشورانند نے کہا کہ وہ سنگم اسنان کےلئے ایک خصوصی مذہبی ’پالکی‘ میں جا رہے تھے، جو صدیوں پرانی روایت کا حصہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس پالکی میں چھ انچ کے پہیے لگے ہیں، جنہیں عقیدت مند ہاتھ سے آگے بڑھاتے ہیں، اسے نہ گھوڑے کھینچتے ہیں اور نہ ہی کوئی موٹرائزڈ نظام موجود ہے۔
بیریکیڈ توڑنے کے الزام پر انہوں نے کہا کہ موقع پر تعینات پولیس اہلکاروں سے بات چیت کے بعد ہی راستہ کھولا گیا تھا۔ جواب میں یہ بھی کہا گیا کہ افسران کے رویے سے شنکراچاریہ کے وقار کو ٹھیس پہنچی ہے۔ سوامی نے انتظامیہ کو متنبہ کیا کہ اگر کسی بھی افسر کی جانب سے غیرقانونی، غیر آئینی، بدنیتی پر مبنی یا غیر منصفانہ کارروائی کی گئی تو وہ متعلقہ افسران کے خلاف دیوانی، فوجداری اور آئینی مقدمات دائر کرنے پر مجبور ہوں گے۔
دوسری جانب، ماگھ میلہ انتظامیہ نے نوٹس میں دعویٰ کیا کہ اس واقعے کے سبب بھیڑ پر قابو پانے میں شدید مشکلات پیش آئیں اور بھگدڑ کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا، جس سے جانی نقصان کا اندیشہ تھا۔ اسی بنیاد پر زمین اور سہولیات منسوخ کرنے اور میلہ میں مستقل پابندی پر غور کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس سے قبل بھی میلہ انتظامیہ نے سپریم کورٹ کے ایک زیر التوا سول اپیل کا حوالہ دیتے ہوئے نوٹس جاری کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ اپیل کے فیصلے تک کسی مذہبی رہنما کو ’جیوتر مٹھ ‘کے شنکراچاریہ کے طور پر فائز نہیں کیا جا سکتا۔ اس پر لیکن کافی تنازع بڑھ گیا ہے۔
دریں اثناء پریاگ راج میں سوامی اوی مکتیشورانند کے شاگردوں کی مبینہ پٹائی سے متعلق جعلی اے آئی تصویر اور مارپیٹ کے ویڈیو کو وائرل کرنے کے معاملے میں پولیس نے’ مکیش‘ نامی ایک شخص کو گرفتار کرلیا ہے۔ پولیس کے مطابق گمراہ کن پوسٹ فیس بک پروفائل ’دیپک مکیش تیواری میجا ایٹ الہ آباد‘ سے شیئر کی گئی تھی، جس کا مقصد ماگھ میلہ ۲۰۲۶ء کی شبیہ خراب کرنا اور امن و امان کو متاثر کرنا تھا۔ پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں اور گمراہ کن معلومات پھیلانے سے باز رہیں۔پولیس اس معاملےمیں سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھ رہی ہے۔