سوئس صدر نے تمام ممالک کیلئے اے آئی کو جمہوری بنانے کے ہندوستان کے منصوبے کی حمایت کی ہے، انہوں نے کہا کہ اے آئی ہر شخص اور ہر ثقافت تک رسائی حاصل کر ے اور اس سے فائدہ اٹھائے ، نہ کہ صرف چند مراعات یافتہ افراد۔
EPAPER
Updated: February 20, 2026, 1:02 PM IST | New Delhi
سوئس صدر نے تمام ممالک کیلئے اے آئی کو جمہوری بنانے کے ہندوستان کے منصوبے کی حمایت کی ہے، انہوں نے کہا کہ اے آئی ہر شخص اور ہر ثقافت تک رسائی حاصل کر ے اور اس سے فائدہ اٹھائے ، نہ کہ صرف چند مراعات یافتہ افراد۔
سوئس صدر گائے پارملین نے مصنوعی ذہانت (AI) کو صرف چند مراعات یافتہ لوگوں تک محدود رکھنے کی بجائے تمام لوگوں اور ثقافتوں کے لیے فائدہ مند بنانے کی ہندوستان کی کوششوں کی حمایت کا اظہار کیا ہے۔ صدرنے ڈبلیو آئی او این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سوئٹزرلینڈ اور ہندوستان کے درمیان بہت سی اقدار مشترک ہیں، خاص طور پر یہ وژن کہ اے آئی ہر شخص اور ہر ثقافت تک رسائی حاصل کر سکے اور اس سے فائدہ اٹھا سکے، نہ کہ صرف چند مراعات یافتہ افراد۔ واضح رہے کہ سوئٹزر لینڈ ۲۰۲۷ء میں جنیوا میںاے آئی سمٹ کی میزبانی کرے گا اور صدر نے واضح کیا کہ وہ اب تک ہونے والی سمٹ، خاص طور پر نئی دہلی سمٹ کی کامیابیوں کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی انسانی تاریخ میں تبدیلی کا بڑا انقلاب: مودی
دریں اثناء انہوں نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ اس بات سے اتفاق کرتا ہے کہ ہمارے معاشرے اور معیشتوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ صرف دوسروں کے بنائے ہوئے اے آئی ماڈلز کے صارف نہ بنیں، بلکہ ان کے پاس ایسے ماحولیاتی نظام بھی ہوں جو انہیں خود ماڈل تیار کرنے اور ڈیٹا تخلیق کرنے کی اجازت دیں۔بعد ازاں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات اور TEPA معاہدے پر بات کرتے ہوئے، صدر نے کہا کہ اس معاہدے کے ذریعے انہوں نے اقتصادی تعلقات کو مزید وسعت دینے کی بہترین بنیاد رکھی ہے۔ ٹیرف میں کمی، بہتر مارکیٹ رسائی، اور زیادہ قانونی یقین دہانی کے ذریعے، یہ معاہدہ ونوں ممالک میں کاروبار کے لیے سہولیات فراہم کرتا ہے ۔ جبکہ اے آئی گورننس اور عالمی سمٹس کے حوالے سے، صدر نے کہا کہ سوئٹزرلینڈ کی عالمی اے آئی گورننس میں منفرد قدر جنیوا کے جذبے میں ہے، جو بین الاقوامی مکالمے اور تعاون کے لیے ایک غیر جانبدار پلیٹ فارم ہے۔ وہ نئی دہلی میں ہونے والی AI امپیکٹ سمٹ کی کامیابیوں کو آگے بڑھانا چاہتے ہیں اور تمام شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کریں گے تاکہ ہر کوئی اے آئی کی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھا سکے۔