• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سوئٹزر لینڈ :جنیوا میں سیاحتی مقام پر سال نو کی تقریب میں ’دھماکہ‘ اور آتشزدگی،۴۰؍ افراد ہلاک

Updated: January 02, 2026, 2:10 PM IST | Agency | Geneva

کراس مونٹانا کے لگژری ریزورٹ ’اِسکی‘ میں ہونے والے حادثے کی جانچ جاری ہے،دہشت گردانہ حملے کاشبہ،سوئس صدر پارملین نے حادثے پر افسوس کا اظہار کیا۔

Agencies have launched an investigation and have sealed off the resort. Picture: INN
ایجنسیوں نے تفتیش کا عمل شروع کردیا ہے اور ریزورٹ کو پردوں سےڈھک دیا ہے۔ تصویر: آئی این این
سوئٹزرلینڈ کے لگژری ریزورٹ میں سال نو کے جشن کی تقریب کے دوران بڑا حادثہ پیش آیا ہے۔ ریزروٹ کے بار میں مبینہ دھماکے اور آتشزدگی کے باعث ۱۰؍ افراد ہلاک اور۱۰؍سے زائد زخمی ہوگئے ہیں۔  غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سوئس پولیس نے بتایا ہے کہ کرانس مونٹانا کے لگژری ریزورٹ اِسکی کا بار(شراب خانے) آتشزدگی سے تباہ ہوگیا۔ 
سوئس پولیس حکام نے غیرملکی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ دھماکے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے، تاہم انہوں نے ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد اور دھماکے کی وجوہات سے متعلق کچھ آگاہ نہیں کیا۔  بعد ازاں میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ بار میں ہونے والے دھماکے میں کم از کم۱۰؍ افراد ہلاک اور۱۰؍ زخمی ہوئے، زخمیوں کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ایک بج کر۳۰؍ منٹ پراِسکی ریزورٹ میں زوردار دھماکہ ہوا، دھماکے کے وقت نیو ائیر نائٹ منانے والے افراد کی بڑی تعداد بار میں موجود تھی۔
انادولو ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق حکام نے جمعرات کو بتایا، اور یہ بھی کہا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں غیر ملکی مہمان بھی شامل ہو سکتے ہیں۔کینٹن ویلے کے پولیس کمانڈر فریڈرک گسلر نے مشترکہ پریس بریفنگ میں بتایا کہ اس المناک واقعے میں کئی درجن افراد جان کی بازی ہار گئے، جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔اسٹیٹ کونسل کے صدر ماتھیاس رینارڈ نے بتایا کہ تقریباً۱۰۰؍ افراد زخمی ہوئے، جن میں سے بیشتر شدید زخمی ہیں، اور انہیں مختلف اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ویلے کے اسپتالوں کی گنجائش اس وقت اپنی حد کو پہنچ چکی ہے، اسی لیے متعدد مریضوں کو کینٹن سے باہر، بالخصوص یونیورسٹی اسپتالوں میں بھیج دیا گیا ہے۔ ایمرجنسی سروسز کو بڑے پیمانے پر تعینات کیا گیا،۱۰؍ ہیلی کاپٹرز کو حرکت میں لایا گیا اور۱۵۰؍ ریسکیو اہلکاروں کو طلب کیا گیا۔ 
دھماکے اورآگ لگنے کی وجہ اب تک واضح نہیں ہو سکی۔ ویلے کی اٹارنی جنرل بیٹریس پیلو نے کہا کہ کسی نتیجے پر پہنچنا ابھی ممکن نہیں، تاہم انہوں نے یہ واضح کیا کہ ابتدائی طور پر کسی بڑے دھماکے کے شواہد نہیں ملے، حالانکہ ابتدائی اطلاعات میں دھماکے کا ذکر کیا جا رہا تھا۔ انہوں نے مزید زور دے کر کہا کہ کسی بھی مرحلے پر اسے دہشت گرد حملہ قرار دینے کی کوئی بنیاد سامنے نہیں آئی۔ پیلو نے بتایا کہ آگ لگنے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، جس میں زیورخ فرانزک انسٹیٹیوٹ بھی تعاون کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہلاک شدگان کی شناخت کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔ سوئٹزر لینڈ کے  صدر گائے پارملین نے اس معاملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کرانس-مونتانا میں نئے سال کے آغاز پر خوشی کا لمحہ ایک المناک سانحے میں بدل گیا، یہ سوگ کا وقت ہے جس نے پورے ملک بلکہ سرحدوں سے باہر تک سب کو متاثر کیا ہے۔”سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ وفاقی کونسل نے اس “خوفناک سانحے” کی خبر گہرے دکھ کے ساتھ سنی اور ہلاک اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کی۔ اطالوی وزیر خارجہ نے بھی بتایا کہ انہوں نے اس سانحے پر سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ اگنازیو کاسیس سے اظہارِ ہمدردی کیا ہے۔ایکس پر انتونیو تاجانی نے کہا، ’’میں اطالوی سفیر سے رابطے میں ہوں جو جنیوا قونصل خانے کے عملے کیساتھ جائے حادثہ پر پہنچے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK