• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

شام میں فٹ بال کی واپسی مگر انفراسٹرکچر کے سنگین چیلنجز

Updated: January 02, 2026, 3:44 PM IST | Agency | Damascus

شامی پریمئر لیگ کے نئے سیزن کا آغاز جہاں شائقین کیلئے امید کی کرن لایا ہےوہیں خانہ جنگی کے ا ثرات مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این
عرب کپ ۲۰۲۵ء میں شامی ٹیم کی شاندار کارکردگی کے فوراً بعد، ملک میں  گھریلو فٹ بال کا میلہ دوبارہ سج گیا ہے۔ شامی پریمئر لیگ کے نئے سیزن کا آغاز جہاں شائقین کیلئے امید کی کرن لایا ہے، وہیں برسوں کی خانہ جنگی کے اثرات اور انتظامی مسائل اب بھی فٹ بال کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔۲۰۱۷ء  کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ لیگ اپنے مکمل فارمیٹ میں واپس آئی ہے جس میں ۱۶؍ ٹیمیں روایتی راؤنڈ رابن  طریقے سے ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں گی۔ اس سیزن میں مجموعی طور پر۲۵؍ غیر ملکی کھلاڑی مختلف کلبوں کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ ’پرائم ٹی وی‘ نے لیگ کے نشریاتی حقوق حاصل کر لیے ہیں، جس سے لیگ کو مالی استحکام ملنے کی امید ہے۔اگرچہ فٹ بال میدان میں واپس آ گیا ہے، لیکن اس کی راہ ہموار نہیں رہی۔
شامی فٹ بال ایسوسی ایشن(ایس ایف اے) نے ٹکٹ کی قیمت۵؍ ہزارسے بڑھا کر۱۵؍ ہزارشامی پاؤنڈ کر دی ہے جس کی وجہ سے اسٹیڈیم میں تماشائیوں کی تعداد توقع سے کم رہی ہے۔حمص جیسے شہروں کے تاریخی اسٹیڈیم، بشمول خالد بن  ولید اسٹیڈیم، اب بھی میچوں کی میزبانی کیلئے نااہل قرار دیے گئے ہیں۔ پہلے ہی میچ (الشرطہ بمقابلہ حطین) میں بال بوائز کی عدم دستیابی اور بدانتظامی کی وجہ سے میچ پانچ منٹ تاخیر سے شروع ہوا، جس پر متعلقہ کلب کو باقاعدہ وارننگ جاری کی گئی۔
الکرامہ کلب کے مداحوں کی جانب سے الوحدا کلب کے کھلاڑی میلاد حمد کو ان کی ماضی کی سیاسی پوسٹس پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کلب پر۱۵؍ لاکھ شامی پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کیا گیا۔ الوحدا کلب نے میلاد حمد کو تمام کھیلوں کی سرگرمیوں سے معطل کر دیا ہے۔شام میں فٹ بال کا نظام دوبارہ کھڑا کرنا محض کھیل شروع کرنے کا نام نہیں، بلکہ ٹوٹے ہوئے ڈھانچے اور بکھرے ہوئے سماج کو جوڑنے کا ایک پیچیدہ عمل ہےکیونکہ انتظامی خامیاں اور سیاسی تنازعات ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK