• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

سڈنی : یہودیوں پرحملہ، ۱۱؍ ہلاک ،مسلم شخص نے جان پر کھیل کر حملہ آور کو پکڑلیا

Updated: December 15, 2025, 3:20 PM IST | Agency | Sydney

احمد ال احمد کی دنیا بھر میں پزیرائی، ملزم کو پیچھے سے آکر دبوچ لیا، ۲؍ گولیاں لگیں مگرحملہ آور کو مزید فائرنگ کرنے دیا نہ بھاگنے دیا

A man injured in a shooting at Bondi Beach in Sydney on Sunday is taken to hospital. Picture: INN
اتوار کو سڈنی کے ساحل سمندر’’بونڈی‘‘ پر اندھادھند فائرنگ میں زخمی ہونےوالے ایک شخص کو اسپتال منتقل کیا جارہاہے۔ تصویر:آئی این این
آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے ساحل بونڈی میں  یہودیوں کے مذہبی تہوار حنوکا کے دوران ہونے والے حملے میں ۱۲؍  افراد ہلاک  اور ۲۹؍ زخمی ہوگئے ہیں۔  مہلوکین میں ۲؍ پولیس اہلکار شامل ہیں۔  یہودیوں کے مذہبی تہوار کے دوران  اندھادھند فائرنگ کرنےوالا ایک شخص پولیس کی جوابی کارروائی میں مارا گیا جبکہ دوسرا زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔ اس دہشت گردانہ حملہ کے دوران ایک ۴۳؍ سالہ مسلم شخص احمد ال احمدہیرو بن کر ابھرا ہے جس نے اپنی جان پر کھیل کر بندوق بردار حملہ آور کو پیچھے  سے حملہ کرکے دبوچ لیا۔ 
 
 احمد ال احمد جنہوں نے جان پرکھیل کر حملہ آور کر پکڑ لیا۔ تصویر: آئی این این
 
تفصیلات کے مطابق سڈنی کے  بونڈی بیچ پر یہودیوں کی تقریب کے دوران ۲؍مسلح افراد داخل ہوئے اور  دو الگ الگ اونچے مقامات پر کھڑے ہوکر اندھا دھند فائرنگ کرنے لگے۔ یہودیوں کے تہوار اور ویک اینڈ کی وجہ سے ساحل پر عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔ فائرنگ سے افراتفری مچ گئی اور سب اپنی جان بچانے کیلئے یہاں وہاں بھاگنے لگے۔  اس دوران احمد ایسے شخص  تھے جس نے اپنی جان کی پروا نہیں کی ۔ وہ ایک گاڑی کے پیچھے آکر چھپے اور پھر وہاں سے نکل کر   سیدھا حملہ آور کو دبوچ کر قابو کرلیا۔  احمدال احمد نامی مذکورہ شخص آسٹریلیا کا شہری اور ۲؍ بچوں کا باپ ہے۔

 انہوں نے نے اپنی جان  پر کھیل جس طرح مسلح شخص کو قابو کیا اس کی وجہ سے ان کی دنیا بھر میں پزیرائی ہورہی ہے۔ ان کی یہ بہادری سی سی ٹی وی  میں قید ہوگئی ہے جس کا ویڈیو تیزی سے وائرل ہورہا ہے۔ حملہ آور کو قابو کرنے کے دوران احمد کو ۲؍گولیاں بھی لگیں۔  بعد میں زخمی  حالت میں  اسے اسپتال داخل کیاگیا۔ ڈاکٹرز کے مطابق گولیاں بازو پر لگی ہیں اور حالت خطرے سے باہر ہے۔احمد کے کزن، جن کی شناخت صرف مصطفیٰ کے نام سے ہوئی ہے، نے سینٹ جارج اسپتال کے باہر آسٹریلیائی خبر رساں  ادارہ ’سیون نیوز‘ سے بات کی، جہاں احمد کی سرجری جاری تھی۔ مصطفیٰ نے  بتایا کہ احمد نے حملہ آور کا مقابلہ کیا۔اس دوران ان کے اوپری بازو اور ہاتھ میں گولیاں لگیں۔مصطفیٰ  نے بتایا کہ ’’وہ اسپتال میں ہیں۔ ہمیں ابھی ٹھیک سے معلوم نہیں کہ کیا صورتحال ہے۔ امید ہے کہ وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔ وہ اصلی ہیرو ہیں۔‘‘احمد سڈنی کے سدرلینڈ شائر سے تعلق رکھتے ہیں اور پھلوں کا کاروبار کرتے ہیں۔ ان کے پاس اسلحے کا کوئی تجربہ نہیں تھا اور وہ بونڈی آئے ہوئے تھے تبھی انہوں نے فائرنگ کا واقعہ ہوتے دیکھا اوراس میں کود پڑے۔احمد کی شناخت ظاہر ہونے سے پہلے میڈیا سے بات چیت میں وزیر اعظم انتھونی البانیز اور نیو ساوتھ ویلز کے وزیر اعلیٰ کرس منس نے ان کی بہادری کو سراہا۔ البانیزنے کہا کہ’’آج ہم نے آسٹریلوی شہریوں کو خطرے کی طرف بڑھتے دیکھا تاکہ دوسروں کی مدد کر سکیں۔ یہ آسٹریلوی ہیرو ہیں اور ان کی جرأت نے کئی جانیں بچائی ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK