آٓرے کالونی یونٹ نمبر ۳۲؍ میں سید برکت علی شاہ پیر بابا درگاہ، آرے کالونی انتظامیہ ،محکمۂ جنگلات، کلکٹر اوربی ایم کے ذریعے ۲؍ جون کو زبردست پولیس بندوبست میں توڑ دی گئی۔
سید برکت علی شاہ پیر بابا درگاہ کی انہدامی کارروائی کے دوران پولیس اہلکار نظر آرہے ہیں- تصویر:آئی این این
آٓرے کالونی یونٹ نمبر ۳۲؍ میں سید برکت علی شاہ پیر بابا درگاہ، آرے کالونی انتظامیہ ،محکمۂ جنگلات، کلکٹر اوربی ایم کے ذریعے ۲؍ جون کو زبردست پولیس بندوبست میںتوڑ دی گئی۔ درگاہ کواس طرح توڑاگیا کہ شیڈہی نہیںبلکہ قبر اوراس حصے کو بھی کھود دیا گیا۔اس دوران بھاری پولیس بندوبست کے ساتھ رائٹ کنٹرول فور س بھی تعینات کی گئی تھی۔پولیس بندوبست کےساتھ میڈیا کے نمائندوں کو بھی کچھ دوری پرہی آگے جانے سے روک دیا گیا۔اس کی سربراہی ڈی سی پی زون ۱۲؍ گجانن راج مانے کررہے تھے۔
اس تعلق سےآرے کالونی انتظامیہ کاکہنا ہے کہ ۵؍ اگست ۲۰۲۵ء کو ٹرسٹیان کو نوٹس جاری کیا گیا تھا، ٹرسٹیان نےاس کاجواب دیا تھا۔ اس پر آرے کالونی انتظامیہ کا کہنا تھا کہ وہ جواب درگاہ کے اسٹرکچر کو قانونی ثابت کرنے کیلئے کافی نہیں تھا، اس کے بعد انہوں نے۱۵؍ مئی کو پھر نوٹس جاری کرنے کا دعویٰ کیا جو ٹرسٹیان کو ملا ہی نہیںپھر ۲۲؍مئی کو ایک اور نوٹس جاری کیا۔اس میںیہ کہا گیا کہ یہ فائنل نوٹس ہے، اس کے بعد ۲؍جون کو بھاری لاؤلشکر کےساتھ انہدامی کارروائی کردی گئی۔
اس ضمن میں ایڈوکیٹ حسن الدین انصاری نے نمائندۂ انقلاب سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ’’یہ درگاہ کافی پرانی ہے۔ اس کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ ۲۰۰۷ء میں درگاہ کا چھپرا درست کرنے کے لئے ٹرسٹیان کی جانب سےآرے کالونی کےسی ای او کو خط دیا گیا تھا ۔اس وقت یہ بتایا گیا تھا کہ یہ درگاہ ۵۰-۴۰؍ سال پرانی ہے۔ اس سے یہ اندازہوتا ہے کہ کارروائی کرنے کے وقت یہ درگاہ تقریباً ۷۰؍سال پرانی تھی اوردھوکے سے اسے توڑ ا گیا ہے۔ ‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ’’ ۲؍جون کی کارروائی کے تعلق سے ٹرسٹیان کو علم تھا اور سوٹ فائل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن اس طرح الجھایا گیا کہ عدالت جانے کا موقع ہی نہ مل سکا ۔‘‘
ایڈوکیٹ حسن الدین انصاری سے یہ پوچھنے پر دھاندلی سے کی گئی اس کارروائی کے خلاف اب قانونی طور پرکیا راستہ ہے تو انہوں نےبتایاکہ’’ر ٹ پٹیشن داخل کی جائے اور اس میںعدالت کویہ بتایا جائے کہ آرے کالونی انتظامیہ نےبڑھا ہوا چھپرا وغیرہ توڑ نے کا حوالہ دیا تھا مگر درگاہ اورقبر کوبھی کھود دیا گیا، اس لئے عدالت اس نا انصافی کے خلاف ہدایت دے کہ درگاہ شریف دوبارہ تعمیر کی جائے اور ٹرسٹیان کو جو ذہنی اذیت پہنچی ہے اس کے لئے معاوضہ دیاجائے۔‘‘ آرے کالونی میںرہنے والے کچھ ذمہ داران کا یہ بھی کہنا ہے کہ’’ یہ محض مسلم دشمنی ہے ورنہ اگربالفرض یہ مان بھی لیاجائے کہ یہ غیرقانونی تھی تو کیا آرے کالونی انتظامیہ کوآرے کے دیگر حصوں میںکئی جگہ کی گئی دوسری غیر قانونی تعمیرات نہیںدکھائی دیتی ہیں،ان کے خلاف ایکشن کب لیاجائے گا۔‘‘