Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’وائس آف ہند رجب‘‘ کو سینسر بورڈ کی منظوری کے بعد ہندوستان میں ریلیز کیا جائے گا

Updated: June 03, 2026, 11:59 AM IST | New Delhi

پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی غزہ میں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہلاکت کی سچی کہانی پر مبنی آسکر کے لیے نامزد فلم’’وائس آف ہند رجب‘‘ کو بالآخر سینسر سرٹیفکیٹ مل گیا ہے۔

Film Scene.Photo:INN
فلم کا منظر۔ تصویر:آئی این این

پانچ سالہ فلسطینی بچی ہند رجب کی غزہ میں اسرائیلی افواج کے ہاتھوں ہلاکت کی سچی کہانی پر مبنی آسکر کے لیے نامزد فلم’’وائس آف ہند رجب‘‘ کو بالآخر سینسر سرٹیفکیٹ مل گیا ہے، جس کے بعد اس کی ۱۹؍ جون کو سنیما گھروں میں نمائش کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
یہ فلم ابتدائی طور پر مارچ میں ہندوستان میں ریلیز ہونے والی تھی، تاہم یہ سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن (سی بی ایف سی) کے پاس زیرِ التوا تھی، جو تھیٹر میں ریلیز ہونے والی فلموں کو منظوری دیتا ہے۔۹۸؍ویں اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فلم کے زمرے میں نامزد ہونے والی اس فلم کے ہندوستان، پاکستان، سری لنکا، مالدیپ، افغانستان اور بنگلہ دیش میں نمائش کے حقوق جئے ویراترا انٹرٹینمنٹ لمیٹڈ کے ڈسٹری بیوٹر منوج نندوانا نے حاصل کیے تھے۔
منوج نندوانا نے ایک بیان میں کہا’’ہم سب سے پہلے سینٹرل بورڈ آف فلم سرٹیفیکیشن ( سی بی ایف سی)، ہندوستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں کہ اس نے’’وائس آف ہند رجب‘‘ کو بغیر کسی کٹ کے سرٹیفکیٹ جاری کیا اور ہندوستانی ناظرین کو اس اہم فلمی تخلیق سے روشناس ہونے کا موقع فراہم کیا۔‘‘
انہوں نے مزید کہاکہ جئے ویراترا انٹرٹینمنٹ لمیٹڈ میں ہمارا پختہ یقین ہے کہ سنیما کہانی سنانے، مکالمے کو فروغ دینے اور مختلف انسانی تجربات کو سمجھنے کا ایک طاقتور ذریعہ ہے۔ ہم  سی بی ایف سی کی جانب سے فلم کے جائزے اور ہندوستان میں اس کی نمائش کی اجازت دینے پر ان کے مثبت اور سنجیدہ رویے کو سراہتے ہیں۔
تیونسی ہدایت کارکوثر بن ہانیہ کی ہدایت کاری میں بننے والی یہ فلم ہند رجب کی المناک کہانی کو اجاگر کرتی ہے، جن کی ہلاکت نے اسرائیل غزہ جنگ کے دوران عالمی سطح پر شدید ردِعمل پیدا کیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے:بھارت بھاگیہ ودھاتا کا شاندار ٹریلرجاری ، کنگنا رناوت نرس کے کردار میں نظرآئیں


نندوانا نے مزید کہاکہ ’’وائس آف ہند رجب‘‘ ایک نہایت متاثر کن کہانی ہے جو تنازعات کی انسانی قیمت اور انسانی حوصلے کی مضبوطی کو نمایاں کرتی ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ فلم ناظرین میں ہمدردی، باہمی تفہیم اور مثبت گفتگو کو فروغ دے گی۔ یہ فلم ۱۹؍ جون ۲۰۲۶ء کو سنیما گھروں میں ریلیز ہوگی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:ودربھ کی نمیرہ محمد غالب صدیقی نیٹ ایم ڈی ایس میں آل انڈیا رینک میں پہلی پوزیشن پر

جنوری ۲۰۲۴ء میں ہند رجب اپنے خاندان کے ساتھ غزہ شہر سے نکل رہی تھیں جب ان کی گاڑی پر اسرائیلی افواج کی فائرنگ ہوئی، جس کے نتیجے میں ان کے تمام رشتہ دار ہلاک ہو گئے۔ جب فلسطینی ریڈ کریسنٹ کی ایمرجنسی سروسیز نے گاڑی میں موجود افراد سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ہند رجب نے فون اٹھایا اور اپنی جان بچانے کے لیے مدد کی اپیل کی۔ بعد ازاں ہند رجب، ان کے خاندان کے افراد اور انہیں بچانے کے لیے آنے والے دو امدادی کارکنوں کی لاشیں ایک دوسرے سے چند میٹر کے فاصلے پر ملیں۔ہدایت کار کوثر بن ہانیہ نے فلم میں فلسطینی ریڈ کریسنٹ کے حقیقی کارکنوں کے کردار ادا کرنے کے لیے اداکاروں کو کاسٹ کیا، تاہم ہند رجب کی اصل آواز کی ریکارڈنگز استعمال کرتے ہوئے اس دردناک اور سچی کہانی کو بیان کیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK