شام کے معزول صدر بشارالاسد اور دیگر عہدیداروں کو فوجی عدالت نے موت کی سزا سنائی ہے، اس کے علاوہ اسد کے بھائی مہر اور سابق فوجی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی عوامی احتجاج کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے حوالے سے موت کی سزا دی گئی۔
EPAPER
Updated: August 11, 2026, 4:02 PM IST | Damascus
شام کے معزول صدر بشارالاسد اور دیگر عہدیداروں کو فوجی عدالت نے موت کی سزا سنائی ہے، اس کے علاوہ اسد کے بھائی مہر اور سابق فوجی عہدیدار عاطف نجیب کو بھی عوامی احتجاج کے دوران انسانیت کے خلاف جرائم کے حوالے سے موت کی سزا دی گئی۔
شام کی فوجی عدالت نے منگل کو سابق صدر بشار الاسد کو ان کے بھائی مہر اور سابق سینئر سیکیورٹی اہلکار عاطف نجیب کے ہمراہ ان کی غیرحاضری میں سزائے موت سنائی، جو شام کے ۲۰۱۱ء کے قیام کے دوران پرتشدد کریک ڈاؤن سے منسلک ایک تاریخی کیس میں فیصلہ ہے۔دمشق کی چوتھی فوجداری عدالت نے نجیب کے مقدمے کے بعد یہ سزائیں سنائیں، جو جنوبی صوبہ درعا میں پولیٹیکل سیکیورٹی کے سابق سربراہ تھے، اور دیگر ملزمان میں سے کچھ کو غیرحاضری میں سزا سنائی گئی۔نجیب، جو بشار الاسد کے کزن ہیں، پر ۲۰۱۱ء میں درعا میں مظاہروں کو کچلنے سے متعلق قتل، تشدد اور غیرقانونی حراست کے الزامات تھے۔ ان پر بچوں کی گرفتاری اور تشدد سے متعلق بھی الزام تھا، جس کے باعث یہ مظاہرے پورے ملک میں پھیل کر بغاوت کی شکل اختیار کر گئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی صدرمسعود پزشکیان نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای سے اہم ملاقات کی
واضح رہے کہ استغاثہ نے گزشتہ ہفتے کی سماعت میں نجیب، بشار الاسد، مہر الاسد اور دیگر ملزمان کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا تھا، جس میں انسانی حقوق کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کے الزامات شامل تھے۔دسمبر ۲۰۲۴ء میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد جنوری ۲۰۲۵ء میں شام کی نئی حکام نے نجیب کو گرفتار کیا۔ ان کا عوامی مقدمہ اپریل ۲۰۲۶ء میں دمشق کے پیلس آف جسٹس میں شروع ہوا۔منگل کا فیصلہ اسد کی معزولی کے بعد سابق شامی حکومت کے سینئر عہدیداروں کے خلاف سب سے اہم عدالتی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی خطرے کے پیش نظر ٹرمپ نے ترکی سے خفیہ فوجی طیارے میں سفر کیا
یاد رہے کہ عوامی بغاوت کے نتیجے میں شام میں حکومت کے خلاف مسلحتحریک شروع ہوئی، جس کے بعد فوج کو پسپائی اختیار کرنی پڑی تھی،باغیوںنے پیش قدمی کرتے ہوئے دمشق پر قبضہ کرلیا، اس سے قبل طویل عرصے سے قائم اسد حکومت کا خاتمہ ہوگیا، اور بشارالاسد ملک سے فرار ہوگئے، اور دائش کے سابق سربراہ احمد الشرع شام کے نئے صدر مقرر ہوئے۔ بعد ازاں اسد حکومت کے عہدیدار اور بشار الاسد کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ قائم ہوا، اور معزول صدر کے ساتھ ان کی حکومت کے متعدد افسروں کو سزائے موت دی گئی۔