Inquilab Logo Happiest Places to Work

پولی مارکیٹ میں ٹائم پرسن آف دی ایئر کیلئےٹرمپ کے حریف آگے

Updated: August 27, 2026, 10:14 AM IST | Washington

پولی مارکیٹ میں ٹائم پرسن آف دی ایئر کیلئےٹرمپ کے حریف آگےامریکی صدر اس سے پہلے دو بار یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں، لیکن تیسری دفعہ منظوری ملنا مشکل ہے۔

Zahran Mamdani (right) and Donald Trump (left). Photo: INN
ظہران ممدانی ( دائیں) ڈونالڈ ترئمپ( بائئیں)۔ تصویر: آئی این این

چند مہینوںمیں ٹائم اپنے پرسن آف دی ایئر کا اعلان کرے گا۔ اگر پیشن گوئیوں پر یقین کیا جائے تو ڈو نا لڈ ٹرمپ نتائج سے مایوس ہوں گے۔  کلشی اور پولی مارکیٹ دونوں پر، ریپبلکن، جس نے دو بار پرسن آف دی ایئر کا اعزاز حاصل کیا ہے، تیسرے نمبر پر ہے۔ معاملات کو مزید خراب کرتے ہوئے، دونوں سائٹوں پر سرفہرست دو انتخاب ہیں جن میں نیویارک سٹی کے میئر ظہران ممدانی اور پوپ لیو XIV  ہیں جو صدر ٹرمپ کے ساتھ کڑی ٹکر میں ہیں ۔  صدر کا ممدانی کے ساتھ اوپر اور نیچے کا رشتہ رہا ہے، جو دونوں سائٹوں پر سب سے اوپر ہیں۔ مختلف مقامات پر، ٹرمپ نے ممدانی پرحملہ بولتے ہوئے انہیں  ’’کمیونسٹ‘‘ کہا، حالانکہ دونوں کے درمیان نومبر میں ہونے والی نسبتاً دوستانہ ملاقات نے ان قیاس آرائیوں کو جنم دیا تھاکہ وہ ایک غیر متوقع ’’دوستی‘‘ کو جنم دے سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے اس وقت کہاتھاکہ، ’’مجھے امید ہے کہ وہ واقعی ایک عظیم میئر ہونگے، وہ جتنا بہتر کریں گے، میں اتنا ہی خوش ہوں گا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: کیوبا امریکہ سے بات چیت کیلئے تیار مگر کوئی پیشگی شرط قبول نہیں: صدر دیاز کانیل

 فروری میں ان کی دوبارہ ملاقات ہوئی، اور ممدانی نے اس بات پر زور دیا کہ انہیں امید ہے کہ وہ ہاؤسنگ جیسے مسائل پر ٹرمپ کے ساتھ کام کر سکتے ہیں۔ تاہم، دونوں کے درمیان حقیقی اتحاد کی امیدیں جلد ہی دم توڑ گئیں۔ اپریل میں، ٹرمپ نےممدانی پر الزام لگایاکہ انہوں نے پرتعیش دوسرے گھروں پر ٹیکس لگانے پر زور دیا ہےاور اپنی ٹیکس پالیسیوں سے نیویارک کو ’’تباہ‘‘کر رہے ہیں۔ جون میں، ٹرمپ انتظامیہ کے سرحدی اُمور کے سربراہ نےدھمکی دی کہ ریاست نے پناہ گزینوں کوتحفظ دینے والے نئے قوانین منظور کئے تو وہ جواب میںنیویارک میں ’ICE‘  اہلکاروں کی فوج بھیج دیں گے۔ دوسری طرف،ممدانی ٹرمپ انتظامیہ کی امیگریشن پالیسیوں پر بار بار تنقید کرتے ر ہےہیں۔
 پوپ لیو کے ساتھ صدرٹرمپ کے تعلقات زیادہ کشیدہ رہے ہیں۔ پہلے امریکی پوپ لیو، نے انتظامیہ کی ’’غیر انسانی‘‘ امیگریشن پالیسیوں اور ٹرمپ کی ایرانی تہذیب کو مٹانے کی دھمکیوں پر متعدد بار تنقید کی جس سے وہائٹ ہاؤس برہم ہوا۔ پوپ نے انتظامیہ کے اس دعوے کو بھی اٹھایا کہ ایران کا تنازع ایک مقدس جنگ ہے۔ لیو نے اپریل میں سوشل میڈیا پر لکھا، ’’جو کوئی بھی مسیح کا شاگرد اور امن کا شہزادہ ہے وہ کبھی بھی ان لوگوں کے ساتھ نہیں ہوسکتے جو کبھی تلوار چلاتے تھےاور آج بم گراتے ہیں۔‘‘  ان تبصروں نے انتظامیہ کو مزید غصہ دلایا، نائب صدر جے ڈی وینس، جو خود ایک کیتھولک ہیں، نے پوپ کو الہیات کے معاملات پر رائے دیتے وقت ’’محتاط رہنے‘‘ کی تنبیہ کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: موہن بھاگوت کے نیویارک پروگرام کی مخالفت، میئر ظہران ممدانی بھی میدان میں آگئے

ددوسری طرف، صدر ٹرمپ نے پوپ پر الزام لگایا ہے کہ وہ جرائم سے نمٹنے میں ’’کمزور‘‘اور خارجہ پالیسی کے محاذ پر ’’انتہائی ناکام‘‘ ہیں۔ اگرچہ امریکہ میں عیسائی برادری ٹرمپ انتظامیہ کی بڑی حامی رہی ہے، لیکن حکومت کی امیگریشن پالیسیوں نے اس کے اور کیتھولک چرچ کے درمیان خلاء پیداکر دیاہے۔ کیتھولک چرچ پناہ گزینوں کی دوبارہ آباد کاری کے کاموں میں پیش پیش رہتا ہے اور امریکہ میں اس سے منسلک بہت سے لوگوں کا تعلق خود تارکینِ وطن کے پس منظر سے ہے۔مثال کے طور پر، اپریل میں ٹرمپ  انتظامیہ نے کیتھولک چیریٹیز آف دی آرچ ڈائیوسس آف مائیامی کے ساتھ ۱ء۱ ؍ کروڑ (۱۱؍ ملین) ڈالر کا وفاقی معاہدہ ختم کر دیا۔ یہ خیراتی ادارہ پچھلے ۶۰؍ سالوں سے مہاجر بچوں کو رہائش اور دیگر امداد فراہم کر رہا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK