• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ: ہندوستان نہ جانے کے فیصلے پر بنگلہ دیش قائم

Updated: January 20, 2026, 7:03 PM IST | Dhaka

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے کھیل مشیر (وزیرِ کھیل) آصف نظرول نے منگل کے روز ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ آئی سی سی ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کے لیے اپنی ٹیم ہندوستان بھیجنے کے معاملے میں وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔

Bangladesh Team.Photo:INN
بنگلہ دیشی کھلاڑی۔ تصویر:آئی این این

بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے کھیل مشیر (وزیرِ کھیل) آصف نظرول نے منگل کے روز ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ آئی سی سی ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کے لیے اپنی ٹیم  ہندوستان  بھیجنے کے معاملے میں وہ اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔
 آصف نظرول نے ان قیاس آرائیوں کو بھی خارج کر دیا کہ اگر بنگلہ دیش نے سیکوریٹی خدشات کی بنا پر ہندوستان جانے سے انکار کیا، تو آئی سی سی ان کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کر سکتا ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ ’’مجھے اس بات کی کوئی اطلاع نہیں ہے کہ ہماری جگہ اسکاٹ لینڈ کو ٹورنامنٹ میں شامل کیا جا رہا ہے۔ اگر آئی سی سی ہندوستانی کرکٹ بورڈ کے دباؤ میں آکر ہم پر غیر منصفانہ شرائط مسلط کرنے کی کوشش کرے گا، تو ہم انہیں ہرگز قبول نہیں کریں گے۔‘‘
 یہ تعطل اس وقت پیدا ہوا جب بی سی سی آئی نے آئی پی ایل فرنچائز کولکاتا نائٹ رائیڈرس کو ہدایت دی کہ وہ بنگلہ دیشی فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ریلیز کر دیں۔ اس کے جواب میں بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ  نے سیاسی تناؤ اور سیکوریٹی کا حوالہ دیتے ہوئے آئی سی سی سے مطالبہ کیا کہ ان کے میچ ہندوستان سے سری لنکا منتقل کر دیے جائیں۔ گزشتہ دنوں ڈھاکہ میں آئی سی سی حکام اور بی سی بی کے درمیان مذاکرات ہوئے تھے، جو کسی نتیجے کے بغیر ختم ہو گئے۔
 ذرائع کے مطابق آئی سی سی نے اس معاملے کو حل کرنے کے لیے ۲۱؍جنوری کی آخری تاریخ (ڈیڈ لائن) مقرر کی ہے۔ اگر بنگلہ دیش اپنا فیصلہ نہیں بدلتا، تو آئی سی سی کے پاس متبادل ٹیم کے طور پر اسکاٹ لینڈ کو تیار کرنے کے لیے کم از کم ۱۵؍ دن کا وقت درکار ہوگا۔ آصف نظرول نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہاکہ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں کہ جب پاکستان نے ہندوستان جانے سے انکار کیا تو آئی سی سی نے مقام تبدیل کر دیا تھا۔ ہم نے منطقی بنیادوں پر وینیو تبدیل کرنے کی درخواست کی ہے، ہم پر کسی بھی قسم کا غیر منطقی دباؤ نہیں ڈالا جا سکتا۔

یہ بھی پڑھئے:ٹی۲۰؍ سیریز: ناگپور میں ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان پہلا معرکہ

انڈین گولف یونین کی ایڈوائزری: کھلاڑی صرف قانونی طور پر منتخب ادارے کی ہدایات پر عمل کریں
 انڈین  گولف یونین  نے ۱۵؍ دسمبر ۲۰۲۴ء کو منتخب ہونے والی اپنی گورننگ باڈی کی قانونی حیثیت کو واضح کر دیا ہے، جو  ہندوستان میں گولف کے لیے واحد تسلیم شدہ نیشنل اسپورٹس فیڈریشن ہے۔ جاری کردہ ایک باضابطہ ایڈوائزری میں آئی جی یو نے کہا ہے کہ کچھ غیر مجاز افراد اور ایک مخصوص گروہ، جو خود کو آئی جی یو کے عہدیدار ہونے کا جھوٹا دعویٰ کر رہا ہے، کھلاڑیوں کو گمراہ کر رہا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اعلیٰ ہندوستانی سی ای اوز ڈبلیو ای ایف میں ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کریں گے

 یہ گروہ سلیکشن ٹرائلز، کوچنگ کیمپس اور ایشین گیمز ۲۰۲۶ء سمیت دیگر بین الاقوامی مقابلوں کے حوالے سے غلط معلومات پھیلا رہا ہے۔ آئی جی یو نے گالف کھلاڑیوں کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ وہ صرف ۱۴، آنند لوک، اگست کرانتی مارگ، نئی دہلی میں واقع آفیشل دفتر سے جاری ہونے والی ہدایات اور نوٹسز پر ہی توجہ دیں۔ کسی دوسرے ادارے یا فرد کی جانب سے بھیجی گئی کسی بھی معلومات یا سلیکشن نوٹس کو غیر قانونی تصور کیا جائے۔آئی جی یو کے ڈائریکٹر جنرل، میجر جنرل وبھوتی بھوشن کے دستخط سے جاری اس ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ کھلاڑیوں کے انتخاب اور بین الاقوامی مقابلوں کے لیے کوچنگ کیمپس منعقد کرنے کا اختیار صرف اسی نیشنل اسپورٹس فیڈریشن  کے پاس ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK