تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے نے چنئی میں تمل ناڈو اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے زیر اہتمام ۳۰۰؍ نئی بسوں کی خدمات افتتاح کیا۔
EPAPER
Updated: June 26, 2026, 12:46 PM IST | Chennai
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے نے چنئی میں تمل ناڈو اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے زیر اہتمام ۳۰۰؍ نئی بسوں کی خدمات افتتاح کیا۔
تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ سی جوزف وجے نے چنئی میں تمل ناڈو اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے زیر اہتمام ۳۰۰؍ نئی بسوں کی خدمات افتتاح کیا۔ یہ پبلک ٹرانسپورٹ کے بیڑے میں ایک بڑا اضافہ ہے۔ وزیر اعلیٰ وجے نے سیکریٹریٹ میں منعقدہ تقریب میں۳۰۰؍ نئی ڈیزل اور سی این جی بسوں کو ہری جھنڈی دکھائی۔ اس کے بعد انہوں نے نئی بس میں سفر کیا۔ وزیر اعلیٰ نے ڈرائیوروں کا استقبال کرتے ہوئے انہیں نیک خواہشات پیش کیں۔ اس دوران جوزف وجے بس میں آگے بیٹھ کر سفر کرتے ہوئے اور ویڈیو ریکارڈ کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔واضح رہے کہ تمل ناڈو میں ریاست کی ملکیت والی۸؍ ٹرانسپورٹ کارپوریشنز کام کر رہی ہیں جن میں چنئی میں واقع میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ٹی ایم سی)، تمل ناڈو اسٹیٹ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے مختلف یونٹس (ولو پورم، کمبھاکونم، سلیم، کوئمبٹور، مدورائی اور ترونلویلی) اور اسٹیٹ ایکسپریس ٹرانسپورٹ کارپوریشن (ایس ای ٹی سی) شامل ہیں جو طویل فاصلے کی بین شہری خدمات فراہم کرتی ہے۔نئی شامل کی گئی بسوں کا بیڑہ ان۸؍ میں سے۷؍ٹرانسپورٹ کارپوریشنز کیلئے خریدا گیا ہے جس میں اسٹیٹ ایکسپریس ٹرانسپورٹ کارپوریشن شامل نہیں ہے ۔ ان بسوں کو ریاست کے مختلف علاقوں میں پبلک ٹرانسپورٹ کی خدمات کو مضبوط کرنے اور روزانہ سفر کرنے والوں کیلئے رابطے کو بہتر بنانے کے مقصد شروع کیا گیا ہے ۔ اس بیڑے میں ڈیزل اور سی این جی دونوں قسم کی بسیں شامل ہیں جو حکومت کی جانب سے پبلک ٹرانسپورٹ کو جدید بنانے اور شہری و دیہی علاقوں میں خدمات کو وسعت دینے کی کوششوں کی عکاسی کرتی ہیں ۔ ایسے میں امید ہے کہ ان نئی بسوں کے آنے سے پرانی گاڑیاں ہٹائی جا سکیں گی اور اسٹیٹ ٹرانسپورٹ اداروں کی طرف سےمسافروں کیلئے پیش کی جارہیں خدمات کی ساکھ، حفاظت اور آرام دہ سہولیات میں بہتری آئے گی۔ شروعات میں ان بسوں کا افتتاح وزیر اعلیٰ جوزف وجے کی سالگرہ یعنی۲۲؍ جون کو کیا جانا تھا۔ تقریب کی تیاری کیلئے نئی بسوں کو تمل ناڈو کے مختلف حصوں سے چنئی لایا گیا تھا اور کوئمبیڈو اور کلامباکم بس ٹرمینلز سمیت اہم مقامات پر کھڑا کیا گیا تھا۔ حالانکہ بعد میں افتتاح کا شیڈول تبدیل کر دیا گیا تھا۔