صبح وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن سے ملاقات کےکچھ گھنٹوں بعدفیصلہ، کافی وقت سے بی جےپی سے ناراض تھے۔
EPAPER
Updated: August 01, 2025, 7:26 PM IST | Agency | Chennai
صبح وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن سے ملاقات کےکچھ گھنٹوں بعدفیصلہ، کافی وقت سے بی جےپی سے ناراض تھے۔
تمل ناڈو میں ۲۰۲۶ء کےاسمبلی انتخابات سے قبل سیاسی ہلچل بڑھ گئی ہے اورسیاسی مساوات بدلنے کے اشارے بھی ملنے لگے ہیں ۔ سابق وزیر اعلیٰ ا و پنیرسیلوم نے این ڈی اے سے علاحدگی کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اے آئی ڈی ایم کے کیڈرس رائٹس ریٹریول کمیٹی جس کے سربراہ اوپنیر سیلوم ہیں،اب این ڈی اے کا حصہ نہیں رہے گی ۔ ڈرامائی انداز میں جمعرات کی صبح ریاست کے سابق وزیر اعلیٰ اور اے آئی اے ڈی ایم کے سے معطل لیڈر او پنیرسیلوم جنہیں او پی ایس نام سے بھی جانا جاتا ہے، انہوں نے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا ہے ۔پنیرسیلوم کے قریبی ساتھی اور معتمد خاص پنروتی ایس رام چندرن نے این ڈی اے سے علاحدگی کے بارے میں یہ جانکاری دی۔
بتایا جارہا ہےکہ جمعرات کی صبح کی چہل قدمی کے دوران تمل ناڈو کے وزیر اعلیٰ ایم کے اسٹالن سے پنیرسیلوم کی ملاقات ہوئی تھی۔ سیر کرتے ہوئے دونوں میں کچھ بات چیت ہوئی اور کچھ گھنٹے بعد ہی او پنیرسیلوم نے این ڈی اے سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔ ایسی خبریں عام ہیں کہ او پی ایس بی جے پی سے پہلے ہی ناراض چل رہے تھے۔ اس ناراضگی کی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم مودی نے جب تمل ناڈو واقع گنگئی کونڈا چولپورم کا دورہ کیا تھا تو او پی ایس سے ملاقات نہیں کی۔ وزیر اعظم مودی سے ملاقات کے لیے او پی ایس نے انہیں ایک خط بھی لکھا تھا جس میں کہا تھا کہ ان سے ملاقات کرنا اُن کے لیے اعزاز کی بات ہوگی۔ او پی ایس نے اس ملاقات کے لیے رسمی طور پر وقت بھی طلب کیا تھا لیکن او پی ایس کو یہ وقت نہیں دیا گیا۔واضح رہےکہ پنیرسیلوم پارٹی مخالف سرگرمیوں کےسبب اے آئی اے ڈی ایم کے سےمعطل کردئیے گئے تھے لیکن وہ اپنے حقوق کیلئے لڑرہےتھے اور اسی مقصد کے تحت انہوں نے یہ کمیٹی بنائی تھی اور این ڈی اے کے اتحادی کے طورپر رامناتھاپورم سےآزاد امیدوار کی حیثیت سے لوک سبھا الیکشن بھی لڑا تھا لیکن ہار گئے تھے ۔
رام چندرن نے بتایاکہ او پی ایس ۲۰۲۶ء کے اسمبلی انتخاب سے قبل ریاست گیر دورہ شروع کریں گے۔رام چندرن نے پنیرسیلوم کے آئندہ منصوبوں سے متعلق پوری وضاحت فی الحال پیش نہیں کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’فی الحال کسی بھی پارٹی کے ساتھ کوئی اتحاد نہیں ہوگا۔ مستقبل میں ہم اس معاملے پر کوئی فیصلہ کریں گے۔‘‘ انھوں نے اداکار وجئے کی پارٹی ’تملگا ویتری کزگم‘ (ٹی وی کے) کے ساتھ ہاتھ ملانے کے امکان سے بھی انکار نہیں کیا۔ ممکنہ اتحاد کے بارے میں انھوں نے بس اتنا کہا کہ ’’وقت بتائے گا۔‘‘