Inquilab Logo Happiest Places to Work

بی ایم سی: کارپوریٹروں کو فنڈ دینے میں امتیاز

Updated: April 12, 2026, 11:18 AM IST | Shahab Ansari | Mumbai

حکمراں محاذ کے کارپوریٹروں کو فی کس ۲؍ کروڑ سے زیادہ اور گروپ لیڈروں کو ۱۰ ؍سے ۲۰؍ کروڑ روپے جبکہ کانگریس اور شیوسینا (ادھو) کارپوریٹروں کو ۲۵؍ لاکھ روپے اور گروپ لیڈروں کو ۲؍ کروڑ روپے فنڈ ملنے سے ناراضگی۔

A scene from the BMC budget meeting. (File photo: Inqilaba)
بی ایم سی کے بجٹ اجلاس کا ایک منظر۔ (فائل فوٹو: انقلاب)

ممبئی میں تقریباً ۴؍ برسوں کی تاخیر کے بعد میونسپل کارپوریشن کے الیکشن ہوئے ہیں جس کے بعد پہلی مرتبہ وارڈوں میں ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈ مختص کئے گئے ہیں تاہم فنڈ دینے میں امتیاز برتنے کا معاملہ سامنے آیا ہے جس کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیوں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ فنڈ کی تقسیم میں امتیاز دراصل عوام کے ساتھ ناانصافی ہے۔

واضح رہے کہ کارپوریٹروں کو ہر سال مختلف قسم کے فنڈ دیئے جاتے ہیں جن میں سے بی ایم سی نے اسٹینڈنگ کمیٹی کے ذریعہ ’ڈیولپمنٹ فنڈ‘ کے نام پر تمام کارپوریٹروں کیلئے اس سال ۸۰۰؍ کروڑ روپے مختص کئے ہیں تاہم حکمراں محاذ اور اپوزیشن پارٹیوں میں اس فنڈ کی تقسیم اس طرح کی گئی ہے کہ اپوزیشن پارٹیوں کے کارپوریٹروں کو حکمراں محاذ کے لیڈروں کے مقابلے انتہائی کم فنڈ دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ممبرا کی طالبہ زنیرہ کھتری کی کک باکسنگ مقابلہ میں عمدہ کارکردگی

اپوزیشن پارٹی کے لیڈران کا الزام ہے کہ بی جے پی اور شیوسینا (شندے) کے لیڈروں کیلئے فی کس ۲؍ کروڑ روپے کے علاوہ ترقیاتی کاموں کیلئے الگ سے ۱ء۶؍کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں جس کے برخلاف کانگریس اور شیوسینا (ادھو) کے کارپوریٹروں کو فی کس ۲۵؍ لاکھ روپے دیئے جارہے ہیں۔ البتہ سماج وادی پارٹی اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے کارپوریٹروں کو فی کس ۲؍ کروڑ روپے دیئے جارہے ہیں۔ اس کے علاوہ کانگریس کے گروپ لیڈر اشرف اعظمی اور شیوسینا (ادھو) کی گروپ لیڈر کشوری پیڈنیکر کیلئے فی کس ۲؍ کروڑ روپے مختص کئے گئے ہیں۔

اس سلسلے میں جب انقلاب نے اشرف اعظمی سے بات چیت کی تو انہوں نے کہا کہ ’’میں گزشتہ ۱۵؍ برسوں سےبی ایم سی میں کام کررہا ہوں اور ایسا میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ اپوزیشن پارٹیوں کے گروپ لیڈروں سے گفتگو کئے بغیر ان کی پارٹی لیڈران کیلئے فنڈ مختص کردیئے گئے ہوں۔‘‘انہوں نے مزید کہا کہ ’’بحیثیت گروپ لیڈر مجھے اور کشوری پیڈنیکر کو فی کس ۲؍ کروڑ روپے دیئے گئے ہیں لیکن اگر حکمراں محاذ کے گروپ لیڈران سے موازنہ کریں تو سمجھ میں آئے گا کہ یہ رقم انتہائی کم ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ’’ شیوسینا (شندے) کے امئے گھولے کو ۱۰؍ کرو ڑروپے جبکہ بی جے پی کے ہائوس لیڈر گنیش کھنکر کو ۲۰؍ کروڑ  روپے دیئے گئے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نوی ممبئی ایئرپورٹ پر موبائل نیٹ ورک مسائل حل، مسافر مطمئن

ان کے مطابق جن کارپوریٹروںکو فی کس ۲۵؍ لاکھ روپےدیئے جارہے ہیں ان کی تعداد تقریباً ۱۰۰؍ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تقریباً آدھی ممبئی ہوگئی۔ جب ان کے علاقوں میں کام نہیں ہوسکے گا تو ممبئی کی مجموعی ترقی کیسے ہوسکے گی؟ یہ ناانصافی کارپوریٹروں کے ساتھ ہی نہیں بلکہ عوام کے ساتھ بھی ہے کیونکہ گزشتہ ۴؍ برس سے عوام انتظار کررہے ہیں کہ کارپوریٹر منتخب ہوکر آئیں گے تو ان کے علاقوں میں کام ہوگا۔

اس تعلق سے جب اے آئی ایم آئی ایم کے کارپوریٹر ضمیر قریشی سے بات چیت کی گئی تو انہوں نے بتایا کہ ان کی پارٹی کے کارپوریٹروں کو فی کس ۲؍ کروڑ روپے دیئے گئے ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ ’’ہم لوگ گوونڈی جیسے علاقوں میں کارپوریٹر ہیں جو ممبئی کا سب سے زیادہ پچھڑا ہوا علاقہ ہے۔ یہاں بہت زیادہ کام کرنے کی ضرورت ہے جس کے حساب سے ۲؍ کروڑ روپے زیادہ نہیں ہیں۔ ہم لوگ فی کس کم از کم ۵؍ کروڑ روپے فنڈ کی امید کررہے تھے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ممبرا کوسہ میں۲۰؍ اپریل تک بی ایل او کیمپ جاری رہے گا

حکمراں محاذ کے چند لیڈران کا کہنا ہے کہ جس طریقہ پر فنڈ تقسیم کیا گیا ہے یہ طریقہ شیوسینا (تقسیم سے قبل) نے رائج کیا ہے۔ جب شیوسینا کی حکومت تھی تب انہوں نے اسی طرح سے فنڈ کی تقسیم کی تھی۔ جس پر اپوزیشن لیڈروں کا کہنا ہے کہ جب شیوسینا نے ایسا کیا تھا تب انہوں نے اپوزیشن لیڈروں کو بلا کر ان سے بات چیت کی تھی اور انہیں بتایا تھا کہ انہیں کتنا فنڈ دیا جارہا ہے اور پھر اپوزیشن کے مطالبہ کے مطابق ان کی مرضی کے مد میں وہ فنڈ دیا گیا تھا۔ مزید یہ کہ جو پہلی حکومت نے کیا آپ بھی وہی کریں گے تو ان میں اور آپ میں کیا فرق رہ جائے گا اور عوام کا کیا ہوگا؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK