Inquilab Logo Happiest Places to Work

مانسون سے پہلے نالہ صفائی کا ہدف دور

Updated: June 06, 2026, 10:19 AM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi

دعوؤں کے باوجود شہر کے کئی علاقوں میں صفائی ادھوری۔

A drain in the city can be seen filled with garbage. Photo: INN
شہر کا ایک نالہ کوڑے سے بھرا ہوا دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر: آئی این این

مانسون کی آمد سے قبل بھیونڈی میونسپل کارپوریشن کی جانب سے نالہ صفائی میں قابل ذکر پیش رفت کے دعوے کئے جا رہے ہیں، لیکن شہر کے مختلف علاقوں میں زمینی صورتحال ان دعوؤں کے برعکس نظر آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شہریوں کے ساتھ ساتھ عوامی نمائندے بھی انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ میونسپل انتظامیہ کے مطابق شہر کی پانچوں پربھاگ سمیتیوں میں مجموعی طور پر ۱۴۷؍نالے ہیں جن کی کُل لمبائی ۵۷؍ ہزار ۵۷۴؍ میٹر ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اب تک ۱۸؍ ہزار ۶۵۷؍ میٹر نالوں کی صفائی مکمل کی جا چکی ہے۔ 
تاہم شہر کے مختلف علاقوں میں نالوں کی موجودہ حالت اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتی۔ اعظمی نگر، دیونگر، نارپولی، انجور پھاٹا روڈ، دھامنکر ناکہ اور دیگر علاقوں میں کئی نالے اب بھی پلاسٹک، کچرے اور مٹی سے بھرے ہوئے نظر آئے، جبکہ متعدد مقامات پر نالوں سے نکالی گئی مٹی اور کچرا سڑک کنارے پڑا ہوا ہے۔ سابق ڈپٹی میئر عمران خان کے مطابق جہاں جے سی بی اور پوکلین مشینوں کے ذریعے صفائی کی جا رہی ہے وہاں کام نسبتاً تیزی سے ہو رہا ہے، لیکن ایسے علاقوں میں جہاں مشینیں نہیں پہنچ سکتیں، مزدوروں کی شدید قلت کے باعث کام متاثر ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک پربھاگ میں روزانہ کم از کم سو سے ڈیڑھ سو مزدور درکار ہوتے ہیں، لیکن بیشتر علاقوں میں صرف ۴۰؍ سے ۵۰؍ مزدور ہی کام کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: شیل پھاٹا: زیر تعمیر میٹرو پروجیکٹ کے حفاظتی پترے سے کے ڈی ایم ٹی بس کی ٹکر

میئر نارائن چودھری نے نالہ صفائی مہم کے آغاز پر مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے مانسون سے قبل صفائی مکمل کرنے کا یقین دلایا تھا۔ تاہم گولڈن ہوٹل، دیونگر اور اعظمی نگر کے اطراف کے شہریوں اور دکانداروں نے انقلاب کو بتایا کہ میئر کے دورے کے دن صفائی کا کام اور فوٹو سیشن ضرور ہوا، لیکن اس کے بعد سے صفائی نہیں ہوئی۔ یہی صورت حال اعظمی نگر اور ہانڈی کمپاؤنڈ کے درمیان واقع بڑے نالے کا ہے۔ 
پربھاگ ۵؍ کے چیئرمین ایڈوکیٹ ویبھو بھوئیر نے مختلف علاقوں کا معائنہ کرنے کے بعد سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مانسون سر پر ہے لیکن نالہ صفائی کا کام تشویشناک حد تک سست رفتار سے جاری ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت صفائی نہ ہوئی تو نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہونے اور سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔ پربھاگ نمبر ۲؍ سے وابستہ سابق کارپوریٹر ذاکر مرزا نے بھی مزدوروں کی کمی کو مسئلے کی بنیادی وجہ قرار دیا۔  دوسری جانب صفائی محکمہ کے سربراہ فیصل تاتلی نے کہا کہ نالہ صفائی کا کام مسلسل جاری ہے اور اس کی روزانہ نگرانی کی جا رہی ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ بعض علاقوں میں مزدوروں کی کمی ہے، تاہم اگر مقررہ وقت میں کام مکمل نہ ہوا تو متعلقہ ٹھیکیداروں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK