Updated: March 23, 2026, 9:56 PM IST
| Tehran
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں فوجی اور معاشی دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران کے جزیرہ خرج پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کی وزارت خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث ہر ہفتے ۳؍ بلین ڈالر خرچ ہو رہے ہیں۔ اسی دوران امریکہ نے خطے میں مزید ۴۵۰۰؍ فوجی تعینات کرنے کا حکم دیا ہے۔
(۱) امریکہ ایران کے جزیرہ خرج پر قبضے کیلئے زمینی کارروائی پر غور کر رہا ہے
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ ایران کے اہم تیل مرکز جزیرہ خرج پر قبضے کیلئے ممکنہ زمینی کارروائی پر غور کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ جزیرہ ایران کی تیل برآمدات کا مرکزی مرکز ہے، جس کی اسٹریٹجک اہمیت بہت زیادہ ہے۔ ایک رپورٹ میں کہا گیا کہ ’’امریکہ مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے جن میں زمینی کارروائی بھی شامل ہے۔‘‘ حالیہ پیش رفت کے مطابق خطے میں امریکی فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جس سے اس امکان کو تقویت مل رہی ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہرمز بحران شدت اختیار کر چکا ہے اور توانائی کے مراکز اہم ہدف بن گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تہران پر نئے حملے، ایران کا جوابی وار، شہری ردعمل اور ہتھیاروں پر سوالات
(۲) اسرائیل پر جنگ کا مالی دباؤ، ہر ہفتے ۳؍ بلین ڈالر خرچ
اسرائیل کی وزارت خزانہ نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث ملک کو ہر ہفتے تقریباً ۳؍ بلین ڈالر کا خرچ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ حکام نے کہا کہ ’’یہ مالی بوجھ غیر معمولی ہے اور معیشت پر شدید دباؤ ڈال رہا ہے۔‘‘ رپورٹ کے مطابق یہ رقم ماہانہ ۱۲؍ بلین ڈالر سے تجاوز کر سکتی ہے، جس سے بجٹ خسارہ بڑھ رہا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’اگر یہ صورتحال جاری رہی تو معیشت کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔‘‘ یہ اعداد و شمار ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب جنگ طویل ہونے کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تیرانا میں حکومت کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج، ایڈی راما سے استعفیٰ کا مطالبہ
(۳) ٹرمپ نے ۴۵۰۰؍ امریکی فوجیوں کو مغربی ایشیا بھیجنے کا حکم دیا
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے بحران کے درمیان ۴۵۰۰؍ امریکی فوجیوں کو مغربی ایشیا بھیجنے کا حکم دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق ان فوجیوں میں میرینز، نیوی اہلکار اور دیگر فوجی شامل ہیں۔ ایک امریکی بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ تعیناتی خطے میں سیکوریٹی کو مضبوط بنانے کیلئے کی گئی ہے۔‘‘ ذرائع کے مطابق یہ فوجی اہم تنصیبات اور سمندری راستوں کے تحفظ کیلئے تعینات کئے جائیں گے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔