Updated: March 23, 2026, 5:07 PM IST
| Tehran
ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں شدت مزید بڑھ گئی ہے۔ اسرائیل نے تہران پر نئے حملے کئے جبکہ ایران نے خلیجی مقامات کو نشانہ بنایا۔ اسی دوران اسرائیلی وزیر بین گویر کے خلاف عوامی ردعمل سامنے آیا ہے جبکہ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل اس جنگ میں پرانے اور کم درست ہتھیار استعمال کر رہا ہے، جس سے شہری نقصان کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
(۱) اسرائیل کے تہران پر نئے حملے، ایران کا خلیجی مقامات پر جواب
اسرائیل نے ایران کے دارالحکومت تہران پر نئے فضائی حملے کئے ہیں جبکہ ایران نے جوابی کارروائی میں خلیجی خطے کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حملوں کے دوران متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور سیکوریٹی فورسیز کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا۔ ایرانی حکام نے کہا کہ ’’ہم اپنے خلاف ہونے والی ہر کارروائی کا جواب دیں گے۔‘‘ ذرائع کے مطابق ایران نے خلیجی خطے میں موجود تنصیبات کو نشانہ بنایا، جس کے بعد کئی ممالک نے اپنی سیکوریٹی بڑھا دی۔ بیان میں کہا گیا کہ ’’یہ کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں۔‘‘ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ کا دائرہ خطے کے دیگر ممالک تک پھیل رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: تیرانا میں حکومت کے خلاف ہزاروں افراد کا احتجاج، ایڈی راما سے استعفیٰ کا مطالبہ
(۲) ایرانی حملے کے بعد خاتون کا اسرائیلی وزیر بین گویر پر لفظی حملہ
ایرانی حملے کے بعد ایک خاتون کی جانب سے اسرائیلی وزیر اتمار بین گویر پر شدید لفظی حملہ سامنے آیا ہے، جس کا ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا۔ خاتون نے چیختے ہوئے کہا: ’’یہودی نازی! تم صرف موت لاتے ہو!‘‘ رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ حملے کے بعد پیش آیا جب شہریوں میں غصہ اور خوف پایا جا رہا تھا۔ ویڈیو میں خاتون کو اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دیکھا گیا جبکہ اردگرد موجود افراد بھی صورتحال سے متاثر نظر آئے۔ اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ یہ واقعہ جنگ کے دوران عوامی جذبات کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: لاگارڈیا ایئرپورٹ پر طیارہ اور فائر ٹرک میں تصادم، متعدد پروازیں معطل
(۳) اسرائیل ایران جنگ میں پرانے اور کم درست ہتھیار استعمال کر رہا ہے
براڈکاسٹر رپورٹس کے مطابق اسرائیل ایران کے خلاف جاری جنگ میں پرانے اور کم درست (less accurate) ہتھیار استعمال کر رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ ان ہتھیاروں کے استعمال سے شہری علاقوں کو زیادہ نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ذرائع نے بتایا کہ ’’یہ ہتھیار جدید نظام کے مقابلے میں کم درست ہیں۔‘‘ رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ممکنہ طور پر ہتھیاروں کی دستیابی یا جنگی حکمت عملی کے باعث کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ اس صورتحال پر عالمی سطح پر توجہ دی جا رہی ہے۔ یہ خبر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنگ کے دوران شہری تحفظ ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔