Inquilab Logo Happiest Places to Work

عالمی سطح پر ٹیک سیکٹر میں پہلی سہ ماہی کے دوران ۸۰؍ ہزار سے زیادہ ملازمتیں ختم ہو گئیں

Updated: April 17, 2026, 8:40 PM IST | New Delhi

ایک رپورٹ کے مطابق۲۰۲۶ء میں ٹیک سیکٹر میں چھٹنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف پہلی سہ ماہی میں ہی دنیا بھر میں ۸۰؍ہزار سے زیادہ ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، اور اس سال یہ تعداد ۳؍ لاکھ سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔

IT Sector.Photo:INN
آئی ٹی سیکٹر۔ تصویر:آئی این این

ایک رپورٹ کے مطابق۲۰۲۶ء میں ٹیک سیکٹر میں چھٹنی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ صرف پہلی سہ ماہی میں ہی دنیا بھر میں ۸۰؍ہزار سے زیادہ ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں، اور اس سال یہ تعداد ۳؍ لاکھ سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جس میں اوریکل، امیزون اور میٹا جیسی بڑی کمپنیاں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
ٹریڈنگ پلیٹ فارمز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ چھٹنی کووڈ کے بعد آنے والی تیزی کے بعد کمپنیوں کی جانب سے اپنے ہائرنگ پلان کو متوازن کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔۲۰۲۱ء سے اب تک دنیا بھر میں ۱۰؍ لاکھ سے زیادہ ٹیک ملازمتیں ختم ہو چکی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی )  اور آٹومیشن اس تبدیلی کی بنیادی وجوہات بن کر سامنے آئے ہیں۔ ۲۰۲۶ء میں ہونے والی تقریباً نصف چھٹنی اے آئی سے متعلق تبدیلیوں کی وجہ سے ہوئیں۔
امریکہ اس حوالے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے، جہاں اس سال اب تک مجموعی چھٹنی کا تقریباً ۷۷؍ فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ یہاں۶۲؍ کمپنیوں میں۶۱؍ہزار سے زیادہ ملازمتیں ختم کی گئی ہیں۔ کمپنیوں کے حوالے سے اوراکل نے سب سے زیادہ،۲۵؍ہزار سے زائد ملازمین کو فارغ کیا ہے، جو اے آئی انفراسٹرکچر پر توجہ بڑھانے کے تحت کیا گیا ہے۔ اس کے بعد امیزون نے تقریباً ۱۶؍ہزار ملازمین کو نکالا، جبکہ میٹا نے تقریباً  ۲۴۰۰؍ملازمتیں ختم کیں۔

یہ بھی پڑھئے:لیونل میسی نے یو ای کورنیلا کی ملکیت حاصل کی


اس کے علاوہ امریکہ سے باہر چھٹنی مختلف ممالک میں پھیلی ہوئی ہیں۔ آسٹریلیا میں تقریباً۴۴۵۰؍ ملازمتیں ختم ہوئیں جبکہ یورپ کے آسٹریا، سویڈن اور نیدرلینڈس جیسے ممالک میں سیمی کنڈکٹر، ٹیلی کام اور آئی ٹی سروسیز کے شعبوں میں تخفیف دیکھی گئی۔ ایشیا میں  ہندوستان میں بھی۲؍ہزار سے زیادہ افراد اپنی ملازمتوں سے محروم ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل اور سنگاپور میں بھی اے آئی اسٹارٹ اپس، ای کامرس اور سائبر سیکوریٹی کمپنیوں میں چھٹنی ہوئی ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:’’ٹاپ گن ۳‘‘ کی تصدیق، ٹام کروز ایک بار پھر’مَیورک مچل‘ کے کردار میں


سیکٹر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو کلاؤڈ، کمپیوٹنگ اور سافٹ ویئر-ایز-اے-سروس (ایس اے اے ایس) کمپنیوں میں سب سے زیادہ تقریباً ۲۸؍ہزار ملازمتیں ختم ہوئیں جبکہ ای کامرس سیکٹر میں تقریباً ۱۹؍ ہزارافراد کو نوکری سے نکالا گیا۔ رپورٹ کے مطابق کمپنیاں اب اپنے اخراجات کم کرنے اور اے آئی میں سرمایہ کاری بڑھانے کے لیے تنظیمی تبدیلیاں کر رہی ہیں، چاہے ان کی مالی حالت مضبوط ہی کیوں نہ ہو۔ رپورٹ یہ بھی کہتی ہے کہ زیادہ تر چھانٹیاں براہِ راست اے آئی کی وجہ سے ملازمتیں ختم ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ کمپنیوں کی جانب سے مستقبل کی سرمایہ کاری کے لیے لاگت کم کرنے کے اقدامات کا نتیجہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK