پٹنہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ بہار میں عوام کی شکست ہوئی ہے اور’دھن نتر‘(پیسے کی طاقت) کی جیت ہوئی ہے ،انتخابات میں سازش کا الزام لگاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ جو حکومت بنی ہے وہ دھوکے سے بنی ہے،انتخابی وعدوں کو پورا کرنے کیلئے نتیش کو ۱۰۰؍ دنوں کا الٹی میٹم بھی دیا۔
پٹنہ واپس آنے پر تیجسوی یادوکو میڈیا کے نمائندوںنے گھیر لیا۔ تصویر:بشکریہ ایکس
پٹنہ بہار کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور آر جے ڈی لیڈر تیجسوی یادو نے پٹنہ واپسی کے بعد نتیش حکومت پر جم کر حملہ بولا ہے۔ نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے بہار اسمبلی انتخاب کے نتائج کے متعلق کہا کہ ’’بہار میں دھن تنتر (پلوٹوکریسی) کی جیت ہوئی ہے ۔ گزشتہ اسمبلی انتخاب میں لوک (عوام) کی ہار ہوئی اور تنتر (نظام) کی جیت ہوئی ۔ انتخاب میں سازش کی گئی۔ بہار میں جو حکومت بنی ہے، وہ دھوکہ دہی سے بنی ہے۔‘‘
تیجسوی یادو نے مزید کہا کہ ’’اب دیکھتے ہیں کہ۲؍کروڑ لوگوں کو روزگار کب ملتا ہے۔‘‘ ان کا کہنا ہے کہ ’’ان لوگوں نے جمہوریت کو دھن تنتر اور مشین تنتر بنا دیا ہے۔ یہاں سب جانتے ہیں کہ کیا سازش رچی گئی۔ یہ لوگ دھوکہ دہی سے انتخاب جیتے ہیں، لیکن نئی حکومت کیسے بنی ہے، یہ پورا ملک اور بہار کی عوام بخوبی جانتی ہے۔‘‘
تیجسوی یادو نے نتیش حکومت کو۱۰۰؍ دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مثبت سیاست کرتے ہیں، اس لیے۱۰۰؍ دنوں تک حکومت کے فیصلوں پر کچھ نہیں بولیں گے۔ دیکھتے ہیں کہ ہماری غریب ماؤں اور بہنوں کو۲-۲؍لاکھ روپے کب ملتے ہیں اور ایک کروڑ نوجوانوں کو روزگار کب ملتا ہے۔‘‘ آر جے ڈی لیڈر کا کہنا ہے کہ ’’ہر ضلع میں ۴،۵؍تھانے بنانے کی بات کہی گئی تھی، اب دیکھتے ہیں کہ اس کو کب تک مکمل کیا جاتا ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ’’جو انتخابی منشور حکومت نے جاری کیا ہے، اسے پورا کرنے کی ذمہ داری ان کی ہے۔‘‘
واضح رہے کہ بہار اسمبلی انتخاب کے بعد تیجسوی یادو تقریباً۱۰۰؍ دنوں بعد بہار واپس لوٹے ہیں۔ ان کی غیر موجودگی پر جے ڈی یو اور بی جے پی نے سوال اٹھایا تھا۔ اب بہار لوٹنے کے ساتھ ہی تیجسوی یادو اپنے پرانے انداز میں نظر آئے۔ انہوں نے صاف طور پر این ڈی اے حکومت کو کہہ دیا ہے کہ وہ۱۰۰؍دنوں تک انتظار کریں گے کہ انتخابی منشور میں کیے گئے وعدوں کو وہ کب تک پورا کرتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بہار کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ڈبل انجن والی حکومت میں جرائم، بدعنوانی، رشوت ستانی، ہجرت، تعلیم، صحت اور امن و امان کی حالت زار نامعلوم ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ یہ حکومت اپنے منشور پر عمل درآمد کرے۔ اس میں ریاست کی۲۵؍ ملین خواتین کو ہر ایک کو۲؍لاکھ روپے فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ۱۰؍ ملین ملازمتیں فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا ہے۔
ہر ضلع میں چار سے پانچ بڑی صنعتیں اور کارخانے لگانے سمیت بے شمار وعدے ہیں۔ اگر وہ (این ڈی اے) انتخابات سے پہلے ہر اسمبلی حلقہ میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر۱۵۰؍ کروڑ روپے تقسیم کر سکتے ہیں، تو حکومت بنانے کے بعد شہریوں کی ہر مانگ کو ہر حال میں پورا کیا جانا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ آر جے ڈی سپریمو لالو پرساد یادو بھی موتیا بند کی سرجری ا ور لیے زمین کے لیے نوکری کے معاملے کی سماعت کے بعدسنیچر کی شام دہلی سے پٹنہ پہنچے۔تیجسوی اسمبلی کے سرمائی اجلاس کے دوران غیر ملکی دورے پر چلے گئے تھے۔ وہاں سے واپس آنے کے بعد وہ گزشتہ ایک ہفتے سے دہلی میں تھے۔