Updated: March 18, 2026, 10:15 PM IST
| Tel Aviv
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ میں میدانِ جنگ پر شدت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دفتر کو نشانہ بنایا ہے جبکہ تل ابیب سمیت متعدد اسرائیلی شہروں پر حملوں کی نئی لہر کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیل کے حملے میں ایرانی سیکوریٹی چیف علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کے بعد ایران نے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
ایرانی حملوں سے تل ابیب میں ہونے والی تباہی کا ایک منظر۔ تصویر: پی ٹی آئی
(۱) ایران نے نیتن یاہو کے دفتر کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا
ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر کے قریب ایک حملہ کیا ہے۔ ایرانی ذرائع کے مطابق یہ حملہ اسرائیل کی سیاسی اور عسکری قیادت کو پیغام دینے کیلئے کیا گیا۔ ایرانی حکام نے کہا کہ’’ہم اپنے دشمن کے اہم مراکز کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر مزید کارروائیاں بھی کی جائیں گی۔‘‘ اسرائیلی حکام نے اس دعوے پر مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم بعض رپورٹس کے مطابق حملے کے قریب علاقے میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایران کے اعلیٰ سیکوریٹی عہدیدار علی لاریجانی کی شہادت کی تصدیق
(۲) ایران کا تل ابیب سمیت کئی شہروں پر حملوں کی نئی لہر کا اعلان
ایران نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیل کے متعدد شہروں، خصوصاً تل ابیب، کو نشانہ بناتے ہوئے حملوں کی ایک نئی لہر شروع کرے گا۔ رپورٹس کے مطابق ایرانی میزائل حملوں میں تل ابیب کے قریب ایک ریلوے اسٹیشن کو نقصان پہنچا جبکہ رامات گان کے علاقے میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ’’یہ حملے ہمارے خلاف جاری جارحیت کا جواب ہیں اور ہم اپنی کارروائیاں جاری رکھیں گے۔‘‘ اسرائیلی حکام کے مطابق دفاعی نظام فعال ہے اور حملوں کو روکنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
(۳) لاریجانی کے بعد ایران کا ردعمل، میزائل حملے اور مضبوط نظام کا دعویٰ
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کے بعد کہا ہے کہ ایران کا سیاسی اور عسکری نظام’’مضبوط‘‘ ہے اور ایسے حملوں سے کمزور نہیں ہوگا۔ اسی دوران ایران کی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے خرم شہر اور خیبر شکن جیسے جدید میزائل اسرائیل کی جانب داغے ہیں۔ ایرانی حکام نے کہا کہ’’ہم اپنے شہداء کا بدلہ ضرور لیں گے اور دشمن کو اس کے اقدامات کا جواب دیا جائے گا۔‘‘ ماہرین کے مطابق جدید میزائلوں کا استعمال جنگ کی شدت اور خطرے کو بڑھاتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا یہ ردعمل ظاہر کرتا ہے کہ وہ نہ صرف دفاع بلکہ جارحانہ حکمت عملی بھی اختیار کر رہا ہے۔
(۴) ایران نے لاریجانی کے قتل کا بدلہ لینے کا عزم کیا
ایران نے اپنے اعلیٰ سیکوریٹی عہدیدار علی لاریجانی کو نشانہ بنانے کے بعد بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام نے کہا کہ’’یہ حملہ بغیر جواب کے نہیں رہے گا اور ہم مناسب وقت پر سخت ردعمل دیں گے۔‘‘ انہوں نے اس واقعے کو ایران کی خودمختاری پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا جواب دینا ضروری ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے بڑے پیمانے پر جوابی حملہ کیا تو اس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور جنگ کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے۔