امریکی برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا اپنی ٹیکساس کی گیگا فیکٹری میں پیداواری حکمتِ عملی تبدیل کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ کمپنی کے سربراہ ایلون مسک کے مطابق سائبرٹرک کی پیداوار میں کمی کرکے اس کی جگہ سائبرکیب کی تیاری بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
EPAPER
Updated: November 06, 2026, 7:04 PM IST | New York
امریکی برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا اپنی ٹیکساس کی گیگا فیکٹری میں پیداواری حکمتِ عملی تبدیل کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ کمپنی کے سربراہ ایلون مسک کے مطابق سائبرٹرک کی پیداوار میں کمی کرکے اس کی جگہ سائبرکیب کی تیاری بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔
امریکی برقی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا اپنی ٹیکساس کی گیگا فیکٹری میں پیداواری حکمتِ عملی تبدیل کرنے کی تیاری کررہی ہے۔ کمپنی کے سربراہ ایلون مسک کے مطابق سائبرٹرک کی پیداوار میں کمی کرکے اس کی جگہ سائبرکیب کی تیاری بڑھانے پر توجہ دی جائے گی۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹیسلا مستقبل میں خودکار ڈرائیونگ اور بغیر ڈرائیور چلنے والی گاڑیوں کے شعبے کو اپنی کاروباری حکمتِ عملی میں زیادہ اہمیت دینا چاہتی ہے۔ کمپنی کے مطابق یہ تبدیلی ۲۰۲۷ء کے وسط کے آس پاس عمل میں آئے گی، جب ٹیکساس کی گیگا فیکٹری میں سائبرٹرک کی پیداوار بتدریج کم کی جائے گی تاکہ سائبرکیب کی تیاری کے لیے زیادہ جگہ اور پیداواری صلاحیت دستیاب ہوسکے۔ ایلون مسک نے ۶؍ نومبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے اس منصوبے کا اعلان کیا۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ سائبرٹرک کی پیداوار مکمل طور پر بند کردی جائے گی یا اسے کسی دوسری فیکٹری میں منتقل کیا جائے گا۔ سائبرٹرک کو ٹیسلا نے ایک جدید اور مستقبل کی طرز کی برقی پک اَپ گاڑی کے طور پر پیش کیا تھا۔ اس کا ڈیزائن، اسٹین لیس اسٹیل سے تیار کردہ بیرونی حصہ اور غیر معمولی ساخت ابتدا ہی سے توجہ کا مرکز بنے رہے۔ کمپنی نے ۲۰۱۹ء میں اس گاڑی کی رونمائی کی تھی، جبکہ صارفین کو اس کی فراہمی ۲۰۲۳ء کے اواخر میں شروع ہوئی۔ ایلون مسک نے ابتدا میں اس گاڑی کی سالانہ فروخت ۲ ؍لاکھ ۵۰ ؍ہزار سے ۵ ؍لاکھ یونٹ تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی تھی، لیکن حقیقی فروخت ان اندازوں سے کافی کم رہی۔
یہ بھی پڑھئے:غزہ میں ایک ہزار سے زائد شہید کھلاڑیوں کی یاد میں فٹ بال ٹورنامنٹ کا فائنل
اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں سائبرٹرک کی فروخت ۲۰۲۴ء میں ۳۸ ؍ہزار ۹۶۵؍ یونٹ تھی، جو ۲۰۲۵ء میں گھٹ کر ۲۰ ؍ہزار ۲۳۷ ؍یونٹ رہ گئی۔ اس طرح ایک سال کے دوران فروخت میں تقریباً ۴۸ ؍فیصد کمی درج کی گئی۔ گاڑی کو متعدد بار واپسی اور معیار سے متعلق مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑا، جبکہ اس کی قیمتوں میں تبدیلی اور محدود بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی نے بھی فروخت کو متاثر کیا۔ دوسری جانب سائبرکیب ٹیسلا کے مستقبل کے منصوبوں میں مرکزی حیثیت اختیار کررہی ہے۔ یہ دو نشستوں والی خودکار برقی گاڑی ہے، جسے بغیر ڈرائیور چلنے والی ٹیکسی سروس یعنی روبوٹیکسی کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس گاڑی کے ابتدائی ڈیزائن میں اسٹیئرنگ وہیل اور پیڈل شامل نہیں ہیں۔ ٹیسلا کا منصوبہ ہے کہ سائبرکیب کے ذریعے ایک ایسا نیٹ ورک قائم کیا جائے جس میں مسافر خودکار گاڑیوں کے ذریعے اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔
کمپنی نے ستمبر ۲۰۲۶ء میں امریکہ کے شہر آسٹن کے بعض علاقوں میں سائبرکیب کے ذریعے کرایے پر سفر کی سہولت بھی شروع کی ہے۔ ٹیسلا کی انتظامیہ اسے محض ایک نئی گاڑی نہیں بلکہ مستقبل کی خودکار ٹرانسپورٹ اور روبوٹیکسی کاروبار کی بنیاد قرار دے رہی ہے۔ تاہم اس ٹیکنالوجی کو بڑے پیمانے پر متعارف کرانے کے لیے حفاظتی معیارات اور متعلقہ سرکاری منظوریوں کے تقاضے بھی پورے کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے:وجے سیتھوپتی ۵۴ویں انٹرنیشنل ایمی ایوارڈز میں ایوارڈ پیش کریں گے
سائبرٹرک کی پیداوار کم کرنے کا فیصلہ ٹیسلا کی وسیع تر کاروباری حکمتِ عملی میں تبدیلی کا اشارہ بھی ہے۔ کمپنی اب خودکار ڈرائیونگ، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس کے شعبوں میں اپنی سرمایہ کاری اور پیداواری صلاحیت بڑھانے پر توجہ دے رہی ہے۔ سائبرکیب کی زیادہ پیداوار اسی منصوبے کا حصہ ہے۔ سائبرٹرک کے مرکزی انجینئر ویس موریل نے بھی اسے ایک اہم تکنیکی ترقی کا پلیٹ فارم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی ٹیکنالوجی سائبرکیب میں آگے بڑھتی رہے گی۔ایلون مسک نے سائبرٹرک کو ٹیسلا کی بہترین گاڑیوں میں سے ایک قرار دیا ہے، لیکن اس کی پیداوار کم کرنے کا اعلان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کمپنی اب صارفین کی طلب اور مستقبل میں منافع کے امکانات کو سامنے رکھتے ہوئے اپنی ترجیحات تبدیل کررہی ہے۔ سائبرٹرک کا مستقبل اب بھی پوری طرح واضح نہیں، تاہم سائبرکیب کی پیداوار میں اضافہ ٹیسلا کے روبوٹیکسی منصوبے کو نئی رفتار دے سکتا ہے۔