تھائی لینڈ کا سب سے بڑا امتحانی اسکینڈل، ہزاروں سرکاری ملازمین کی برطرفی کا سبب بن سکتا ہے، شبہ ہے کہ انہوں نے رشوت کے عوض اپنے سول سروس امتحانی نتائج میں ہیرا پھیری کر کے تقرریاں حاصل کیں۔
EPAPER
Updated: July 18, 2026, 6:02 PM IST | Bangkok
تھائی لینڈ کا سب سے بڑا امتحانی اسکینڈل، ہزاروں سرکاری ملازمین کی برطرفی کا سبب بن سکتا ہے، شبہ ہے کہ انہوں نے رشوت کے عوض اپنے سول سروس امتحانی نتائج میں ہیرا پھیری کر کے تقرریاں حاصل کیں۔
جمعرات۱۶؍ جولائی کو شائع ہونے والی خبروں کے مطابق، تھائی لینڈ میں ہزاروں سرکاری ملازمین کو اپنی نوکریاں کھونے کا خطرہ ہے جن پر شبہ ہے کہ انہوں نے رشوت کے عوض اپنے سول سروس امتحانی نتائج میں ہیرا پھیری کر کے تقرریاں حاصل کیں۔بینکاک پوسٹ کے مطابق، تقریباً۳۶۲۱؍ مقامی حکومتی افسران کی تقرریاں منسوخ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ اسٹریٹس ٹائمز نے یہ تعداد تقریباً ۶۰۰۰؍بتائی ہے۔ جبکہ لوکل گورنمنٹ پرسنل ایگزامینیشن کمیٹی نے کم از کم ۵۸۱۴؍مقامی حکومتی افسران کی تقرری میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی ہے جو سول سروس امتحانات میں شریک ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: شیخ حسینہ و خاندان سے وابستہ تقریباً ۶؍ ہزارکروڑ روپئے کے اثاثے منجمد
بعد ازاں وزیراعظم انوتن چارنویراکول اس مہم کی نمائندگی کررہے ہیں، انہوں نے بدھ کو امتحانی دھوکہ دہی کے اسکینڈل کی تحقیقات سے متعلق ایک اجلاس کی صدارت کی۔ واضح رہے کہ یہ کروڑوں ڈالر کی بدعنوانی کا معالہ جون میں اس وقت منظر عام پر آیا جب کچھ ایسے تھائی افسران پائے گئے جنہوں نے سول سروس کے عہدوں کے لیے امتحانی نمبرات میں ردوبدل کیا تھا، جس کے عوض انہیں۲۴۰۰۰؍ امریکی ڈالر (تقریباً ۸؍ لاکھ روپئے) تک کی رشوت ملی۔ چنانچہ جو ایک مقامی معاملہ تھا وہ قومی سطح پر سول سروس بھرتی امتحانی فراڈ کی تحقیقات میں بدل گیا۔ کچھ رپورٹس بتاتی ہیں کہ یہ بدعنوانی برسوں سے جاری ہو سکتی ہے۔ مبینہ طور پر ہزاروں درخواست دہندگان نے رشوت ادا کی جو سرکاری عہدوں کے خواہاں تھے۔ اس کے بدلے، ان کے امتحانی نتائج الیکٹرانک طور پر تبدیل کیے گئے تاکہ وہ سرکاری تقرری یا ترقی کے لیے لازمی ٹیسٹ پاس کر سکیں۔ دریں اثناءتقریباً۶۰۰۰؍ سرکاری تقرریاں اس وقت زیرِ تفتیش ہیں۔ رقم کے لین دین اور الیکٹرانک شواہد نے تفتیش کاروں کو مزید مشتبہ افراد تک پہنچایا، جن میں افسران، دلال اور درخواست دہندگان شامل ہیں۔اس اسکینڈل کے پیچھے دو مبینہ سرغنہ کو کرمنل کورٹ نے ضمانت سے انکار کرتے ہوئے ریمانڈ پر جیل بھیج دیا، عدالت نے کہا کہ یہ ایک منظم مجرمانہ کارروائی ہے جو حکومت کے کام کاج کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جبکہ یہ معاملہ تیزی سے تھائی لینڈ کے سب سے بڑی پبلک سیکٹر کرپشن تحقیقات میں سے ایک بن گیا ہے جس میں مقامی انتظامی اداروں میں ہزاروں تقرریاں شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ایپسٹین فائلز: جیفری سے بل گیٹس کے تعلقات پر وارن بفیٹ گیٹس فاؤنڈیشن سے علاحدہ
ساتھ ہی وزیراعظم چارنویراکول نے ہیرا پھیری سے حاصل شدہ بھرتی کے نتائج کو منسوخ کرنے کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جن سرکاری ملازمین نے دھوکہ دہی کے ذریعے اپنے عہدے حاصل کیے، چاہے وہ پہلے سے خدمت انجام دے رہے ہوں، وہ اپنی نوکریاں کھو دیں گے۔ تحقیقات کا دائرہ اب افسران، دلالوں، جعلی امتحان دینے والوں اور درخواست دہندگان تک پھیل چکا ہے جو مبینہ طور پر اس قومی فراڈ نیٹ ورک میں ملوث ہیں۔مزید برآں تھائی لینڈ کی عوامی انتظامیہ کے سب سے بڑے اسکینڈلز میں سے ایک کا سامنا کرتے ہوئے، حکومت نے بھرتی کے طریقہ کار میں اصلاحات، ڈیجیٹل امتحانی نظاموں پر سخت نگرانی، اور ملوث افسران کے خلاف تادیبی کارروائی کا عزم کیا ہے۔علاوہ ازیں عوامی غم و غصے کے درمیان، انسدادِ کرپشن کے حامیوں نے اس اسکینڈل کو حکومت کے تھائی سول سروس پر اعتماد بحال کرنے کے عزم کا ایک بڑا امتحان قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل کی بھرتیاں میرٹ کی بنیاد پر ہونی چاہئیں، نہ کہ رشوت یا سیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر۔