ہولی کراس کانوینٹ اسکول انتظامیہ نے خبردارکرتے ہوئے تھانے میونسپل کارپوریشن پر زور دیا کہ وہ ان پولنگ بوتھوں کو دیگر جگہ منتقل کرے۔
ہولی کراس کانوینٹ اسکول کا اتھیلیٹکس ٹریک جہاں پولنگ بوتھ بنائے جائیں گے۔ تصویر: آئی این این
یہاںمیونسپل کارپوریشن الیکشن کیلئے ہولی کراس کانوینٹ اسکول میں لگائے جانے والے پولنگ بوتھ اور عارضی خیمے ایتھلیٹکس کے ایک نئے ٹریک کو تباہ کر سکتے ہیںاسی لئے اسکول انتظامیہ نے ان پولنگ بوتھوں کو دیگر جگہ منتقل کرنے کا مطالبہ شہری انتظامیہ سے کیا ہے۔اسکول کا کہنا ہے کہ نیا ایتھلیٹکس ٹریک بنانے پر۸۰؍ لاکھ روپےخرچ ہوئے ہیں اور اس مرحلے پر اس پر کوئی بھی دباؤ ناقابل تلافی نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔اسکول کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے جمعہ کو ڈپٹی میونسپل کمشنر (الیکشن) امیش براری سے ملاقات کی تھی اور تھانے میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی) سے پولنگ بوتھوں کو اسکول میں دیگر جگہوں پر منتقل کرنے کو کہا تھا۔
اسکول کی ایتھلیٹکس کوچ سندھیا منڈیریکر نے کہاکہ ’’انہوں نے کہا کہ وہ شہری عملے کو بوتھوں کو دوسری جگہ منتقل کرنے کی ہدایت کریں گے لیکن زمین اور ٹریک پر کام جاری ہے۔‘‘ ایتھلیٹکس کی سہولت نوجوان خاتون کھلاڑیوں کیلئے کی جارہی ہے۔ آس پاس کھیلوں کی سہولیات کی عدم موجودگی پر اسکول اور والدین نے مل کر اپنے طلبہ کو مسابقتی کھیلوں کی تربیت دینے کیلئے ایتھلیٹکس ٹریک کیلئے فنڈز اکٹھے کئے ۔ ہولی کراس کانوینٹ اسکول کا کھیلوں کا شاندار ریکارڈ ہے اور صرف پچھلے مہینے اسکول کی تین لڑکیوں نے قومی سطح پر مہاراشٹر کی نمائندگی کی اور سونے کے تمغے جیتے۔
اینا انتھونی نے دسمبر۲۰۲۵ءمیں دہلی میں منعقدہ۶۹؍ ویں اسکول نیشنل گیمز میں انڈر۱۴؍ ۸۰ میٹر رکاوٹوں کی دوڑ میں طلائی تمغہ جیتا تھا۔ اس کے والد جیجو انتھونی نے کہاکہ ’’تھانے میں لڑکیوں کیلئےکھیلوں کی کوئی سہولت نہیں ہے۔ ہم اپنی لڑکیوں کو پریکٹس کیلئے ۱۵؍ کلومیٹر دور ممبرا اسپورٹس کمپلیکس لے جا رہے ہیں۔ ہم ہرمرتبہ ٹرکوں سے ٹرانسپورٹ کیلئے۳۰۰، ۴۰۰؍ روپے برداشت نہیں ہو سکتے۔اس کے علاوہ اسٹیڈیم بھی اچھی حالت میں نہیں ہے۔‘‘
ہولی کراس کانوینٹ اسکول کی ایتھلیٹکس کوچ سندھیا منڈیریکر نے کہاکہ ’’تقریباً ۸۰؍لڑکیاں اس گراؤنڈ پر باقاعدگی سے پریکٹس کرتی ہیں اور۲۰؍ سے زیادہ لڑکیوں نے قومی سطح پر حصہ لے کر سونے اور چاندی کے تمغے جیتے ہیں۔ ہمیں ایک نئے ٹریک کی سخت ضرورت تھی تاکہ لڑکیاں مشق کر سکیں۔‘‘ انہوں نے مزیدکہا کہ نئے ٹریک پر کام گزشتہ آٹھ ماہ سے جاری تھا۔ اب جب یہ آخری مرحلے میں ہے، الیکشن کمیشن نے گراؤنڈ لے لیا ہے اور پولنگ بوتھ کیلئے کھدائی کاکام شروع کر دیا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق اسکول کی ہیڈ مسٹریس جوزیفائن ڈائس نے بتایاکہ ’’ہمارا ادارہ۶۰؍ سال سے زیادہ پرانا ہے اور ہم نے بہت سے قومی اور ریاستی سطح کے کھلاڑی قوم کو دیئے ہیں۔ ماضی میں ہم نے الیکشن حکام کو اپنا گراؤنڈ اور اسکول استعمال کرنے کی اجازت دی تھی لیکن ہم نئے ٹریک کو تباہ نہیں ہونے دے سکتے۔ ہم نے ۲؍میدان اور ہال ۸؍ کلاس روم کے ساتھ دینےکی پیشکش کی ہے لیکن وہ انہیں لینے کیلئے تیار نہیں ہیں۔‘‘
تھانے میونسپل کارپوریشن (ٹی ایم سی ) کے ڈپٹی میونسپل کمشنر (الیکشن)امیش براری نے اس معاملے پرتبصرے کیلئے فون کال اور پیغامات کا جواب نہیں دیا۔