• Wed, 25 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

تھانے:پاٹلی پاڑہ کے ۵؍ہزارخاندانوں کے سروں پر انہدامی کارروائی کی تلوار

Updated: February 25, 2026, 2:59 PM IST | Nadeem Asran | Thane

بامبے ہائی کورٹ کا غیر قانونی بستی کو کسی بھی قسم کی رعایت دینے سے انکار، اپنا آشیانہ بچانے کیلئے مکینوں کی نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے ملاقات۔

Bombay Highcourt.Photo:INN
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر:آئی این این
تھانے کے پاٹلی پاڑہ اور ڈونگر پاڑہ میں شہری انتظامیہ کی زمین پر برسوں سے آباد ۵؍ ہزار سے زائد خاندانوں کے سروں پر اس وقت انہدامی کارروائی کی تلوار لٹک گئی جب بامبے ہائی کورٹ نے کسی بھی قسم کی رعایت دینے سے انکار کرتے ہوئے اسےمنہدم کرنے کا حکم دے دیا ۔ کورٹ نے زون کی تبدیلی کی اپیل کو بھی ماننے سے انکار کردیا ہے اور سرکاری زمین پر آباد بستی کو غیر مجاز قرار دے دیا ہے ۔ وہیں انہدامی کارروائی کے خطرے اور بے گھر ہونے سے بچنے کیلئے مکینوں نے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے سے ملاقات کرکے اس معاملہ میں درمیانی راستہ نکالنے کی اپیل کی ہے۔
تھانے کے رہنے والے کشور دیوکر نے تھانے میونسپل کارپوریشن کے کولشیت گرام پنچایت کی حدود میں واقع ۵؍ ہزار سے زائد خاندانوں پر مشتمل آباد جھوپڑ پٹیوں کے غیر قانونی ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے سرکاری زمین پر قبضہ کرنے کا الزام لگایا ہے ۔ عرضداشت گزار نے یہ الزام بھی لگایا کہ معاملہ ۲۰۱۴ء سے التوا کا شکار ہے ۔ مذکورہ بستی کے غیر قانونی ہونے کے سلسلہ میں کورٹ نے اس سے قبل بھی انہدامی کارروائی کا حکم دیا تھا لیکن اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ درخواست گزار کا یہ بھی کہنا تھا کہ ضلع کلکٹر اور تھانے میونسپل کارپوریشن ایک دوسرے پر اس آبادی کو ہٹانے کی ذمہ داری ڈال رہے ہیں اور کارروائی سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں۔
 
 
وہیں کورٹ کو یہ بھی بتایا گیا کہ ریاستی حکومت نے ۸؍ فروری ۲۰۲۲ء کو ایک نوٹیفکیشن جاری کرکے سرکاری زمین کو جنگلاتی علاقے سے رہائشی علاقے میں تبدیل کر دیا تھا۔وہیں ۵؍ ہزار سے زائد خاندانوں پر آباد مکینوں نے کورٹ کو مذکورہ بالا مقام پر ۵۰؍ ۶۰؍ برسوں سے مقیم ہونے ، ٹیکس ، پانی اور بجلی کا بل ادا کرنے کا جواز پیش کیا تھا ۔ دوسری جانب کورٹ نے جنگلاتی علاقے کو رہائشی علاقے میں تبدیل کرنے کے نوٹیفکیشن کو خارج کرتے ہوئے سرکاری زمین پر آباد رہائشی علاقے کو غیر قانونی قرار دیا ۔ کورٹ نے کہا کہ غیر قانونی تعمیرات کو کسی بھی قسم کی راحت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ساتھ ہی شہری انتظامیہ کو حکم دیا ہے کہ وہ غیر قانونی تعمیرات کا جائزہ لینے کے ساتھ ہی انہدامی کارروائی کا سلسلہ شروع کرے۔
 
 
تاہم اب عدالت کے سخت رویہ سے جہاں ۵؍ ہزار خاندانوں نے اپنے سر پر انہدامی کارروائی کی لٹکتی تلوار سے بچنے کے لئے نائب وزیر اعلیٰ کے دربار میں دستک دی ہے ۔ پاٹلی پاڑہ اور ڈونگر پاڑہ کے مکینوں نے ایکناتھ شندے سے ملاقات کی اور اس معاملہ میں مداخلت کرنے کی اپیل کی ہے ۔دوران ملاقات انہوںنے بتایا کہ اس علاقے میں زیادہ تر قبائلی ، دلت اور خانہ بدوش سماج سے وابستہ افراد آباد ہیں ۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ۶۰؍ سال سے اس علاقے میں آباد مکینوں کے پاس نہ صرف راشن کارڈ ، آدھار کارڈ ، ووٹر آئی ڈی موجود ہے بلکہ وہ باقاعدہ ٹیکس ، بجلی اور پانی کا بل بھی ادا کرتے ہیں ۔یہی نہیں ان کے پاس شہری انتظامیہ کی رسیدیں موجود ہیں اور انہوںنے حال میں دھرت ابا برسا منڈا کوآپریٹیو ہاؤسنگ سوسائٹی بھی رجسٹرڈ کی ہے تاکہ ڈیولپرس کی مدد سے ایس آر اے کے تحت بستی کو تعمیر کیا جاسکے ۔فی الحال شہری انتظامیہ نائب وزیر اعلیٰ کی مداخلت کے سبب انہدامی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن اب بھی مسئلہ پوری طرح حل نہ ہونے کے سبب مکینوں کے سروں پر انہدامی کارروائی کی تلوار لٹکی ہوئی ہے ۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK