Updated: September 24, 2026, 8:05 PM IST
| Kolkata
گروپ بندرگاہوں، لاجسٹکس، بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم، سڑکوں، پلوں اور ہائپر اسکیل ڈیٹا سینٹرس سمیت کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ آج ہندوستان ایک بار پھر اس امید کے ساتھ مشرق کی جانب دیکھ رہا ہے کہ بنگال اپنی طاقت دوبارہ حاصل کرے گا اور ترقی کا اگلا شاندار باب رقم کرے گا۔
گوتم اڈانی۔ تصویر:آئی این این
اڈانی گروپ کے چیئرمین گوتم اڈانی نے جمعرات کو کہا کہ ہندوستان ایک بار پھر مشرق کی جانب دیکھ رہا ہے اور ان کا گروپ ۲۰۴۵ء تک مغربی بنگال میں ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری کرے گا۔
اڈانی نے نیو ٹاؤن میں اڈانی آروگیہ مندر کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گروپ بندرگاہوں، لاجسٹکس، بجلی کی پیداوار، ترسیل اور تقسیم، سڑکوں، پلوں اور ہائپر اسکیل ڈیٹا سینٹرس سمیت کئی شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ آج ہندوستان ایک بار پھر اس امید کے ساتھ مشرق کی جانب دیکھ رہا ہے کہ بنگال اپنی طاقت دوبارہ حاصل کرے گا اور ترقی کا اگلا شاندار باب رقم کرے گا۔
یہ بھی پڑھئے:ممبئی انڈینس نے ڈبلیو پی ایل ۲۰۲۷ء سے قبل لیوک ولیمز کو ہیڈ کوچ مقرر کیا
انہوں نے کہاکہ آپ کی قیادت میں مجھے پورا یقین ہے کہ بنگال ہمارے سامنے موجود امکانات کو نئے سرے سے متعین کرے گا۔ ہم اڈانی گروپ ان امکانات کو حقیقت میں تبدیل کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری کی بھی تعریف کی۔
انہوں نے کہا کہ مغربی بنگال میں جغرافیائی اعتبار سے وسیع خطہ، صلاحیت اور اقتصادی امکانات کا حیرت انگیز امتزاج موجود ہے اور اس کا اسٹریٹجک محل وقوع ہندوستان کے سمندری اور لاجسٹکس رابطے کو شمال مشرقی خطے، خلیج بنگال اور جنوب مشرقی ایشیا کے ساتھ مضبوط بنانے میں مدد کرسکتا ہے۔ اڈانی نے رابندر ناتھ ٹیگور، سوامی وویکانند، نیتا جی سبھاش چندر بوس اور جگدیش چندر بوس کی وراثت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بنگال کے خیالات، حوصلے، سائنس اور ثقافت نے نسلوں سے ملک کی قسمت کو تشکیل دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ویر داس کو’ ’فُل والیوم‘‘ کے لیے تیسری بار انٹرنیشنل ایمی میں نامزدگی ملی
اڈانی نے کہا کہ اڈانی گروپ بنگال کے عوام کے ساتھ مل کر ریاست کی ترقی کے اگلے مرحلے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتا ہے اور انہوں نے اڈانی آروگیہ مندر کو ریاست کے تئیں گروپ کی وابستگی کی شروعات قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگال قومی سطح پر ایک اہم سمندری اور لاجسٹکس پل کا کردار ادا کرتا ہے، جو ہندوستان کے صنعتی مراکز اور شمال مشرقی خطے کو خلیج بنگال سے جوڑتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بہتر بندرگاہی لاجسٹکس سے صنعتی شعبے کو فروغ مل رہا ہے، صنعتیں راغب ہورہی ہیں اور پیداوار میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے مستقبل کے لیے توانائی اور ڈجیٹل بنیادی ڈھانچے کو بھی مدد ملے گی۔