Inquilab Logo Happiest Places to Work

جس ڈرائیور کے چند الفاظ نے ایک خاندان کی جان بچائی وہ خود حادثے میں فوت ہو گیا

Updated: June 04, 2026, 7:14 AM IST | Nandurbar

نندور بار سے سورت جا رہی خاتون ڈرائیور کے کہنے پر اپنے بچوں کو لے کر بس سے اتر گئی ،سورت پہنچنے سے پہلے بس حادثے کا شکار ہو گئی جسے اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا

The damaged bus in which Jyotsna and her children got off (PTI)
وہ تباہ شدہ بس جس میں چڑھ کر جیوتسنا اور ان کے بچے اتر گئے تھے( پی ٹی آئی)

منگل کی سہ پہر گجرات میں سورت کے قریب مہاراشٹر کے دھولیہ اور جامنیر کی ۲؍ بسیں آپس میں آمنے سامنے ٹکرا گئیں۔ یہ حادثہ  باردولی ۔ اووا ہائی وے پر پیش آیا۔ اس میں دونوں بسوں کے ڈرائیوروں سمیت ۷؍ مسافر موقع پر ہلاک ہو گئے۔ جبکہ ۴۰؍ مسافر شدید زخمی ہیں۔ نندور بار کا ایک خاندان اس حادثے کا شکار ہوتے ہوتے رہ گیا۔   موت ان کی طرف بڑھ رہی تھی، لیکن بس ڈرائیور کے حساس مشورے نے۴؍ لوگوں کی انجانے میں جان بچالی ۔ 
  اطلاع کے مطابق جیوتسنا ونود پاٹل، ان کے سسر گنیش پاٹل اور جیوتسنا کے جڑواں بیٹےجیوتسنا کے چچا کا یکم جون کو انتقال ہو گیا تھا۔ وہ چاروں ان کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے سورت سے نندور بار کے  نواپور علاقے میں آئے ہوئے تھے۔ آخری رسومات ادا کرنے کے بعد، منگل کو وہ اپنے جڑواں بیٹوں اور سسر گنیش پاٹل کے ساتھ سورت واپس جانے کیلئےنواپور بس ڈپو پہنچیں۔ وہاں جامنیر ۔ سورت بس لگی ہوئی تھی۔  اس میں کافی بھیڑ تھی۔ بڑی مشکل سے جیوتسنا اور اس کے اہل خانہ بھی بس میں چڑھے لیکن ڈرائیور نے ان سے کہا ’’ تائی ( آپا ) آپ کے ساتھ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ آپ اتر جائیے۔ پیچھے خالی بس آئے گی سورت کیلئے اس میں چلے جانا۔‘‘ جیوتسنا اور ان کے سسر کو یہ بات مناسب معلوم ہوئی اور یہ چاروں بس سے اتر گئے۔  ان کی آنکھوں کے سامنے سے  وہ بس روانہ ہوئی۔ انہیں تاخیر ہونے کا ملال تو تھا لیکن جلد ہی وہ گجرات ڈپو کی نواپور۔ سورت بس میں بیٹھ گئے۔ یہ بس چونکہ نواپور ہی سے بھری تھی اس لئے انہیں بیٹھنے کیلئے آسانی سے جگہ مل گئی۔ 
  جیوتسنا اور اس کے سسر کے وہم وگمان میں  نہ تھا کہ آگے انہیں کیا مناظر دکھائی دینے والے ہیں۔ تقریباً ۲؍ گھنٹے بعد جب ان کی بس گجرات کےباردولی علاقے میں پہنچی توان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں جب انہوں نے دیکھا کہ وہ ڈرائیور کے کہنےپر جس بس سے اترے تھے اس بس کے پرخچے اڑ گئے ہیں اور وہ پوری طرح آگ کی لپیٹ میں ہے۔ اسخوفناک آگ میں کئی مسافر پھنس ہوئے ہیں۔ باہر بھیڑ جمع تھی جو  زخمیوں کو باہر نکالنے میں مدد کر رہی تھی۔ بد قسمتی سے  کچھ لوگ دم توڑ چکے تھے۔
 جیوتسنا پاٹل کا کہنا ہے ’’اس منظر کو دیکھ کر میرے پیروں تلے زمین کھسک گئی۔ وہی بس جس میں ہم چند گھنٹے پہلے سوار ہونے والے تھے ہماری آنکھوں کے سامنے جل رہی تھی۔‘‘ وہ جذباتی انداز میں کہتی ہیں کہ  ’’ یہ سوچ کر میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں کہ  اگر میرے بچے، سسر اور میں اس بس میں ہوتے تو کیا ہوتا؟‘‘ جیوتسنا پاٹل نے بتایا کہ ان کی بس ایک گھنٹے تک حادثے کے سبب پیدا ہونے والے ٹریفک جام میں پھنسی رہی۔ پولیس نے کسی طرح ٹریفک بحال کروایا ۔ اس کے بعد ہی آگے کا سفر شروع ہوا۔
 جیوتسنا پاٹل کا اپنے بچوں کے ساتھ محفوظ طریقے اپنے گھر پہنچناموت کو چکما دے کر لوٹنے جیسا تھا۔ جیوتسنا پاٹل نے کہا، ’’ اوپر والے کی مہربانی  اور اس ڈرائیور کے چند الفاظ نے ہماری زندگی بچالی۔ اگر ہمیں اس وقت بس سے نہ اتارا جاتا تو آج ہماری کہانی کچھ اور ہوتی،‘‘ جیوتسنا پاٹل کا کہنا ہے کہ جس نے بھی یہ واقعہ سنا اس  نے یہی کہا’’ موت آ گئی تھی لیکن وقت نہیں آیا تھا!‘‘افسوس کی بات یہ ہے جس ڈرائیور کے چند الفاظ نے جیوتسنا  اور ان کے اہل خانہ کی جان بچائی وہ خود اس حادثے میں فوت ہو گیا۔ یاد رہے کہ منگل کے روز گجرات کے سورت شہر سے قریب بارڈولی کے مقام پر دو بسوں کی آمنے سامنے ٹکر ہو گئی تھی جس میں ۷؍ افراد کی موت ہو گئی تھی۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK