Inquilab Logo Happiest Places to Work

منوج جرنگے کا حکومت کو پھر الٹی میٹم

Updated: July 30, 2026, 9:55 AM IST | Z. A. Khan | Jalna

مراٹھا ریزرویشن کے مسئلے پر سماجی کارکن منوج جرنگے نے ایک بار پھر ریاستی حکومت کو سخت وارننگ دی ہے۔

Manoj Jarange. Photo: INN
منوج جرنگے۔ تصویر: آئی این این

مراٹھا ریزرویشن کے مسئلے پر سماجی کارکن منوج جرنگے نے  ایک بار پھر ریاستی حکومت کو سخت وارننگ دی ہے۔ انہوں نے انتروالی سراتی سے اعلان کیا کہ ۵۸ ؍لاکھ کنبی ریکارڈ کی بنیاد پر مستحق افراد کو ریزرویشن کے سرٹیفکیٹ جاری نہ کئے  گئے تو ۲۹؍ اگست سے آخری اور فیصلہ کن احتجاج  شروع کیا جائے گا۔ جرنگے نے الزام لگایا کہ حکومت جان بوجھ کر مراٹھا سماج کو نظر انداز کر رہی ہے اور اب فیصلہ کن جدوجہد کا وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مراٹھا ریزرویشن کی تحریک کو ۲۹ ؍اگست کو تین سال مکمل ہو جائیں گے، لیکن حکومت نے حیدرآباد گزٹ نافذ کرنے کے باوجود اب تک ۵۸؍ لاکھ کنبی اندراجات رکھنے والے افراد کو سرٹیفکیٹ جاری نہیں کئے۔ انہوں نے حکومت کو الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ ۲۸ ؍اگست تک تمام مستحقین کو سرٹیفکیٹ دے دیئے جائیں، بصورت دیگر ۲۹ ؍اگست سے ہماری آخری اور فیصلہ کن تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک مقصد حاصل نہیں ہو جاتا۔انہوں نے کہا کہ مراٹھا سماج کے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہوا ہے اور گزشتہ تین برسوں سے ان کے حقوق کیلئے مسلسل جدوجہد کی جا رہی ہے۔ ان کا سوال تھا کہ حکومت نے مقامی جانچ رپورٹ بھی پیش کی، اس کے باوجود صرف مراٹھا سماج کو ہی نشانہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ انہوں نے واضح کیا کہ حیدرآباد گزٹ کے مطابق سرٹیفکیٹس حاصل کئے بغیر وہ کسی بھی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔جرنگے نے  مراٹھا سماج سے کہا کہ ۲۹ ؍اگست کا احتجاج ریزرویشن کی اس جدوجہد کا فیصلہ کن مرحلہ ہوگا، اسلئے سماج کا کوئی بھی فرد گھر میں نہ رہے بلکہ بھرپور شرکت کرے۔ انہوں نے ان افراد سے بھی اپیل کی جنہیں معلوم ہے کہ ان کے کنبی ریکارڈز موجود ہیں، وہ مزید وقت ضائع کئے بغیر فوراً سرٹیفکیٹ کیلئے درخواست جمع کروائیں۔انہوں نے  اس موقع پر حکومت اور وزراء کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK