Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’حکومت اب بھی نہ جاگی تو طلبہ حکومت بدلنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں‘‘

Updated: July 30, 2026, 9:42 AM IST | Z. A. Khan | Aurangabad

۴۰؍ دنوں بعد کاکروچ پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے اپنے گھر لوٹے، حکومت کو اپنی روش بدلنے کی تلقین ، طلبہ کو ہراساں نہ کرنے کا مطالبہ۔

Abhijeet Deepke with his parents in Aurangabad. Photo: INN
ابھیجیت دپکے اورنگ آباد میں اپنے والدین کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے  جنتر منتر پر طلبہ کے کامیاب احتجاج کے بعد اورنگ آباد میں واقع اپنے گھر لوٹ آئے ہیں۔  وہ تقریباً چالیس روز بعد اپنے والدین کے پاس واپس آئے۔

ایئر پورٹ پر  میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابھیجیت دپکے نے کہا کہ، ’’چالیس دن کی مسلسل جدوجہد کے بعد آج اپنے گھر واپس آ کر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ جب سے میں ہندوستان آیا، تب سے مسلسل تحریک جاری تھی۔ اس تحریک کو کامیابی ملی ہے اور یہ ملک کے طلبہ کی جیت ہے۔ ہم نے دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ حاصل کر لیا ہے۔ اگر حکومت اب بھی نہ جاگی تو طلبہ حکومت کو بھی بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔‘‘  انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کو اب اپنی روش بدلنی چاہئے۔ ۲۰جولائی کو طلبہ پر جو ظلم کیا گیا، وہ انتہائی افسوسناک تھا۔ اس کے بعد بھی حکومت باز نہیں آئی اور مختلف ریاستوں میں طلبہ کو ان کے گھروں تک جا کر ہراساں کیا جا رہا ہے۔ یہ طلبہ دہشت گرد نہیں بلکہ ملک کا مستقبل ہیں۔‘‘ انہوں نے کہا’’ آج دھرمیندر پردھان کا استعفیٰ ضرور لیا گیا ہے، لیکن اگر حکومت اپنی روش نہ بدلے تو یہی طلبہ حکومت کو بھی بدل سکتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’ کسانوں کو تکلیف ہوگی تو چلے گا، صنعتکاروں کو نہیں ہونی چاہئے‘‘

ابھیجیت کی آمد سے قبل ان کے والد بھگوان رائو دپکے نے بھی میڈیا سے گفتگو کی۔ انہوں نے کہا،’’ہمیں ہر وقت اس کی فکر رہتی تھی۔ اب وہ بحفاظت واپس آ رہا ہے، جس سے ہمیں بے حد خوشی ہے۔ اس کی ماں اسے اپناگرو کہتی ہے۔‘‘  انہوں نے کہا’’ ابھجیت نے ملک اور نوجوانوں کیلئے اپنی ملازمت تک چھوڑ دی اور طلبہ کے حقوق کیلئے تحریک چلائی۔ ہمیں ایک مرتبہ دھمکی بھی ملی تھی، تاہم اسکے بعد ایسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔‘‘ ابھیجیت  دپکے کی والدہ  انیتا دپکےنے بھی ان کی واپسی پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا’’آج ہمارے لئے بہت خوشی کا دن ہے۔ آج گرو پورنیما بھی ہے اور آج ہی ابھیجیت گھر واپس آ رہا ہے۔ یہ ایک خوبصورت اتفاق ہے۔ پہلے ہم اس کے والدین تھے، لیکن اب وہ ہمارا گرو بن چکا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا ’’طلبہ کو انصاف دلانے کیلئے جس طرح اس نے جدوجہد کی، اس کے بعد وہ ہمارے لئے گرو کے درجے پر فائز ہو گیا ہے۔ اب ہم اس کا احترام کرتے ہیں۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK