پونے ضلع کے پمپری چنچوڑ میونسپل کارپوریشن کے حلقے میں موجود مورشی کچرا پلانٹ کے دفتر کی عمارت پر بدھ کے روز کچرے کا ڈھیر گر پڑا تھا جس کے سبب بلڈنگ گرگئی تھی۔
EPAPER
Updated: July 11, 2026, 10:04 AM IST | Pune
پونے ضلع کے پمپری چنچوڑ میونسپل کارپوریشن کے حلقے میں موجود مورشی کچرا پلانٹ کے دفتر کی عمارت پر بدھ کے روز کچرے کا ڈھیر گر پڑا تھا جس کے سبب بلڈنگ گرگئی تھی۔
پونے ضلع کے پمپری چنچوڑ میونسپل کارپوریشن کے حلقے میں موجود مورشی کچرا پلانٹ کے دفتر کی عمارت پر بدھ کے روز کچرے کا ڈھیر گر پڑا تھا جس کے سبب بلڈنگ گرگئی تھی۔ اس واقعے کو ۳؍ دن ہو گئے لیکن بلڈنگ اور کچرے کے ڈھیر کے درمیان پھنسے ہوئے تمام لوگوں کو اب تک نکالا نہیں جا سکا ہے۔ جمعہ کے روز بھی کچرے کا ڈھیر اور ملبہ ہٹا کر ان لوگوں کو نکالنے کی کوششیں جاری رہیں۔ اس دوران پلانٹ کے باہر ان پھنسے ہوئے ملازمین کے اہل خانہ روتے بلکتے اور دعائیں کرتے نظر آئے کہ کسی طرح وہ باہر نکل آئیں اور وہ انہیں اپنے ساتھ گھر لے جائیں۔
اطلاع کے مطابق بلڈنگ جو کہ اب ملبہ نظر آتی ہے کے باہر وہ لوگ نظریں گاڑے کھڑے ہیں جن کے عزیز اب بھی اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ رو رو کر ان کا برا حال ہے۔ اس تعلق سے ’لوک مت ‘ نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہکچرا ڈپو کے احاطے میں اپنے بھائی کی آمد کے منتظر ستیش گائیکواڑ کی حالت دیکھ کر وہاں موجود سبھی کانپ اٹھے۔ ملبے تلے دبے راہل گائیکواڑ کے بھائی ستیش گائیکواڑنے آنکھوں میں آنسو لئے ہوئے کہا ’’مجھے امید ہے کہ میرا بھائی میرے ساتھ گھر آئے گا...‘‘ستیش کے الفاظ سن کر حاضرین کے دل بھی تڑپ گئے۔ ستیش کے علاوہ وہاں موجود تمام لوگوں کی نگاہیں کچرے کے ڈھیر اور بلڈنگ کے ملبے کی طرف لگی ہوئی ہیں۔ سب کو اس بات کا انتظار ہے کہ وہاں سے کوئی باہر آتا ہوا دکھائی دے۔ سب کی نظریں صرف ان مشینوں پر جمی ہوئی ہیں جو ملبہ ہٹا رہی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شلپا کسبے کے والدوامن کسبے بھی اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ اس کے خاندان پر غموں کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ شلپا آنکھوں میں آنسو لئے ہوئے دعائیں کر رہی ہے۔اس کی ماں اس کے بغل میں بیٹھی زار وقطار رو رہی ہے اور ٹکٹکی باندھے کچرے کے ڈھیر کو دیکھ رہی ہے۔ اپنی ماں کی حالت دیکھ کر شلپا اپنی ماں کے گلے لگ گئی اور رو پڑی‘‘ ۔ وہ کہا کرتی تھی کہ’’ جب میں اپنی تعلیم مکمل کرلوں گی تو میں اپنے والد کا ساتھ دوں گی۔‘‘ اس کے بھائی اور ماں نے پرسوں سے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا۔ وہ کہتی ہے ’’ میرے والد معمول کے مطابق کام پر گئے تھے، لیکن وہ ابھی تک واپس نہیں آئے، میرے والد جو کام کے بعد وقت پر گھر آتے ہیں، آج کیوں نظر نہیں آئے؟‘‘ بدھ کی دوپہر سے بہت سے خاندانوں نے ایک لقمہ بھی نہیں کھایا ہے۔ منتظر، مائیں، بھائی، بہنیں، بیویاں اور بچے ہر کوئی اس امید پر جی رہا ہے کہ ان کے لوگ بحفاظت باہر نکلیں گے۔ جب کچرے کا ٹرک کچرا صاف کرتا ہے تو وہاں کھڑے ہر رشتہ دار کا سینہ دھڑکتا ہےکہ وہاں سے کوئی نکلے۔
جنگی پیمانے پر کام جاری
انتظامیہ نے امید ظاہر کی ہے کہ دیر ہی سے سہی تمام لوگوں کو بحفاظت نکال لیا جائے گا۔ دراصل کچرے کا ڈھیر ہٹانا اور اندر پھنسے ہوئے لوگوں کو باہر آنے کا راستہ دینا ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ جے سی بی کی مدد سے کچرا ہٹانے کا کام جاری ہے لیکن اہم بات یہ ہے کہ اندر پھنسے ہوئے لوگوں کا حال کیسے معلوم کیا جائے؟ ان لوگوں نے گزشتہ ۳؍ دنوں سے کچھ کھایا نہیں ہے۔ اگر اندر ان کے پاس کوئی چیز ہو اور اتنی جگہ ہو کہ وہ حرکت کر سکیں اور اسے کھا سکیں تب تو ٹھیک ہے ورنہ ایک الگ خدشہ انتظامیہ کو ستا رہا ہے۔ ۹؍ لوگوں کے اب بھی اندر پھنسے ہونے کی خبر ہے جنہیں نکالنے کی کوشش جاری ہے۔