خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان پلنے والے بچوں کے خوابوں میں سرسبز گلیاں، محفوظ گھر، اسکول، اسپتال اور جنگ سے پاک زندگی شامل ہیں؛ یونیسیف نے خبردار کیا کہ بچوں کی آواز کو نظرانداز کرکے غزہ کی تعمیرِ نو کرنا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
EPAPER
Updated: October 21, 2026, 10:08 PM IST | Gaza
خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں کے درمیان پلنے والے بچوں کے خوابوں میں سرسبز گلیاں، محفوظ گھر، اسکول، اسپتال اور جنگ سے پاک زندگی شامل ہیں؛ یونیسیف نے خبردار کیا کہ بچوں کی آواز کو نظرانداز کرکے غزہ کی تعمیرِ نو کرنا ان کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔
فلسطین کے جنگ زدہ علاقے غزہ میں جہاں بچوں کی زندگی کا بڑا حصہ نقل مکانی، تباہی اور عدم تحفظ کے درمیان گزرا ہے، وہیں وہ اپنی سرزمین کے مستقبل کو محض ملبے اور نقصان کی داستان کے طور پر نہیں دیکھنا چاہتے۔ ان کے خوابوں میں ایسے گھر ہیں جہاں بارش کا پانی خیموں میں داخل نہ ہو، ایسی گلیاں ہیں جن کے کناروں پر درخت ہوں، ایسے اسکول ہیں جہاں وہ اطمینان سے تعلیم حاصل کرسکیں اور ایسے اسپتال ہیں جہاں ضرورت پڑنے پر فوری علاج میسر ہو۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسیف نے اپنی نئی مہم ’’ہم جیسا غزہ چاہتے ہیں‘‘ (The Gaza We Want) کے ذریعے ان بچوں کی آواز، تخلیقی صلاحیتوں اور تعمیرِ نو سے متعلق خواہشات کو عالمی سطح پر اجاگر کیا ہے۔
تصویر: ایکس
یونیسیف کے مطابق، اکتوبر ۲۰۲۳ء میں غزہ میں جنگ شدت اختیار کرنے کے بعد بچوں کی ہلاکتوں، زخمی ہونے اور دیگر مصائب کی خبریں مسلسل سامنے آتی رہی ہیں، لیکن اس دوران خود بچوں کے خیالات اور ان کی خواہشات کو نسبتاً کم توجہ ملی۔ اسی خلا کو پُر کرنے کے لیے شروع کی گئی مہم میں بچوں اور نوجوانوں نے تصویروں، نظموں، گیتوں، کہانیوں اور ملبے سے بنائے گئے ماڈلوں کے ذریعے بتایا کہ وہ جنگ کے بعد اپنے علاقے کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں۔ اس سرگرمی میں معذوری کے ساتھ زندگی گزارنے والے بچوں سمیت ۵؍ سے ۱۸؍ سال کی عمر کے بچوں سے غزہ بھر میں رابطہ کیا گیا۔ یونیسیف کے مطابق ۱۶۰۳؍ بچوں نے سوال نامے کے جواب دیے، جب کہ ۱۱؍ ہزار سے زیادہ بچوں اور نوجوانوں نے مختلف تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے اپنے مستقبل کے تصورات پیش کیے۔ خان یونس میں رہنے والی ۱۳؍ سالہ راما نے اپنی نظم میں غزہ کے اس مستقبل کی تصویر پیش کی جس میں خیموں کے بجائے محفوظ گھر، بمباری کے بجائے آسمان پر چمکتے ستارے اور ملبے سے ملنے والی لاشوں کے بجائے اسکول سے واپس آنے والے بچے ہوں۔ اس کے تصور میں سمندر پُرسکون ہے، ماہی گیر مچھلیوں سے بھرے جال لے کر واپس آتے ہیں اور گھروں میں روٹی پکنے کی خوشبو پھیلتی ہے، نہ کہ دھویں کی بو۔ اس کی خواہش ایک ایسے شہر کی ہے جہاں بچے ساحل پر ننگے پاؤں چل سکیں، ان کی ہنسی گونجے اور لوگ عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزاریں۔
تصویر: ایکس
۱۴؍ سالہ مایار کی کہانی جنگ کے نفسیاتی اثرات کو نمایاں کرتی ہے۔ اس نے یونیسیف کو بتایا کہ نقل مکانی کے دوران سامان اٹھا کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا، خاندانوں کو بچھڑتے دیکھنا اور سر پر گولیوں کی آوازیں سننا ناقابلِ تصور تجربات تھے۔ ایک مرتبہ وہ اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ ملبے پر گئی تو اچانک راکٹ پھٹا۔ اس کے بعد اسے ہوش اسپتال میں آیا اور اس کے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا۔ مایار کے مطابق، اس واقعے کے بعد آج بھی تیز آوازیں اسے خوف زدہ کردیتی ہیں؛ تیزی سے گزرتی گاڑی کی آواز بھی اسے راکٹ کے دھماکے جیسی محسوس ہوسکتی ہے۔ اس کے باوجود وہ مستقبل کے غزہ کو خوب صورت گھروں، سبز درختوں، پرندوں کی چہچہاہٹ اور سکون سے اسکول جانے والے بچوں کے شہر کے طور پر دیکھتی ہے۔
تصویر: ایکس
۱۳؍ سالہ سامی کا خواب بظاہر ایک عام بچے کی خواہش جیسا ہے، لیکن اس کے موجودہ حالات میں یہ ایک بڑی آرزو بن چکا ہے: وہ اپنا الگ کمرہ چاہتا ہے، جس میں کھلونے، آرائش کی چیزیں اور اچھا فرنیچر ہو۔ فی الحال اس کا خاندان ایک ہی خیمے میں رہتا ہے، جہاں بارش کے دوران پانی اندر آجاتا ہے اور بجلی نہ ہونے کی وجہ سے رات کو روشنی بھی میسر نہیں ہوتی۔ سامی چاہتا ہے کہ ایک دن وہ اپنے گھر واپس لوٹے اور دوسرے لوگوں کے ساتھ مل کر غزہ کی تعمیرِ نو کرے۔
۱۲؍ سالہ جود، جو پہلے رفح میں رہتا تھا اور اب خان یونس کے علاقے المواصی میں نقل مکانی کی زندگی گزار رہا ہے، مستقبل میں صحافی بننا چاہتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ وہ غزہ کے بچوں کے خیالات اور ان کی کہانیوں کو دنیا تک پہنچائے۔ وہ درختوں سے سجی سڑکوں، جدید سہولتوں والے اسکولوں اور قریب موجود اسپتالوں کا خواب دیکھتا ہے، جہاں مریضوں کو فوری علاج مل سکے۔ آٹھ سالہ رایان نے گھر کا ایک ماڈل تیار کیا اور خواہش ظاہر کی کہ جنگ ختم ہو، ان کے گھر واپس ملیں اور خاندان بمباری کے خوف کے بغیر محفوظ زندگی گزار سکے۔
تصویر: ایکس
۱۰؍ سالہ حبیبہ نے بچوں کے خوابوں اور امیدوں پر ایک گیت بنایا۔ وہ انجینئر بننا چاہتی ہے، کیونکہ اس کے خیال میں انجینئر لوگوں کی زندگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس نے یہ پیغام بھی دیا کہ بچوں کی صلاحیتوں کو پہچانا جائے اور مشکلات کے باوجود انہیں اپنے خوابوں سے دست بردار نہ ہونے دیا جائے۔ اس کے لیے غزہ کا مستقبل ایسا ہونا چاہیے جہاں ہر شخص خوش رہ سکے اور بچوں کی خواہشات پوری ہونے کے مواقع موجود ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: میٹا پر اسرائیلی بوٹس کی اجتماعی رپورٹنگ کے ذریعے اکاؤنٹس بند کرانے کا الزام
یونیسیف کے مطابق، بچوں کے فن پاروں اور بیانات میں بار بار کچھ بنیادی ترجیحات سامنے آئیں: درختوں سے سجی گلیاں، اسکول، اسپتال، محفوظ گھر، صاف ستھری سڑکیں اور کھیلنے کی جگہیں۔ یہ خواہشات اس بات کی نشان دہی کرتی ہیں کہ بچوں کے نزدیک تعمیرِ نو صرف عمارتیں دوبارہ کھڑی کرنے کا نام نہیں، بلکہ محفوظ ماحول، تعلیم، صحت، کھیل اور معمول کی زندگی کی بحالی بھی اس کا لازمی حصہ ہے۔ یونیسیف کے فلسطین دفتر کے شعبۂ ابلاغ کے سربراہ جوناتھن کرکس نے کہا: ’’اتنی غیر یقینی صورتِ حال میں زندگی گزارنے والے بچوں کی باتوں میں جو وضاحت ہے، اسے نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ بچوں کی آواز کو پیچھے چھوڑ کر کی جانے والی تعمیرِ نو بچوں کے ساتھ بھی ناانصافی ہوگی اور غزہ کے ساتھ بھی۔‘‘ ادارے کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کی ترجیحات اور مستقبل سے متعلق ان کے تصورات کو ریکارڈ کرکے تعمیرِ نو کے منصوبوں اور پالیسی سازی میں شامل کرنے کی اہمیت اجاگر کرنا چاہتا ہے، تاکہ غزہ کے مستقبل کے فیصلوں میں بچوں کی شرکت بھی برقرار رہے۔