Inquilab Logo Happiest Places to Work

تیل کی عالمی تجارت پر’’ سمندری انشورنس‘‘ کا اثر

Updated: March 15, 2026, 11:15 AM IST | London

جنگ یا کشیدگی کے حالات میں خام تیل سپلائی کرنے والےجہازوں کا انشورنس پریمیم بڑھ جاتا ہے جو تیل کے دام پر اثر ڈالتا ہے۔

Oil tankers passing through the Strait of Hormuz have higher insurance premiums than other ships. Photo: INN
آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار جہازوں کا انشورنس پریمیم دیگر جہازوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔ تصویر: آئی این این

تیل کے تجارت کے پس منظر میں دیکھا جائے تو مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران اکثر خام تیل پہنچانے والے جہازوں کی توجہ جنگی طاقت، حملوں سے بچنے کی صلاحیت اور بمباری سے دور رہتے ہوئے مال پہنچانے کی صلاحیت پر ہوتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ تیل کی عالمی تجارت پر فوری اثر سمندری انشورنس کے فیصلوں سے پڑتا ہے۔ اگر خلیج فارس یا آبنائے ہرمز کو ہائی رسک قرار دے دیا جائے تو جہاز مالکان کے لئے ا نشورنس کی لاگت اچانک کئی گنا بڑھ جاتی ہے اور بعض صورتوں میں کوریج ہی ختم ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جدید جیو پولیٹیکل تنازعات میں مالیاتی نظام اور انشورنس مارکیٹ بھی ایک اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: ایران کیخلاف جنگ سے امریکی معیشت بھی متاثر

جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی تجارت پر فوری اثر سمندری انشورنس کے نظام کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ لندن کے انشورنس مارکیٹ لائیڈز آف لندن سے وابستہ ’’جوائنٹ وار کمیٹی‘‘ دنیا کے مختلف سمندری راستوں پر موجود خطروں کا تعین کرتی ہے۔ اگر یہ کمیٹی خلیج فارس یا آبنائے ہرمز کو ہائی رسک زون قرار دیدے تو عام شپنگ انشورنس مؤثر نہیں رہتا۔ اس کے بعد جہاز مالکان کو جنگی خطرے کااضافی انشورنس یعنی’’ وار رسک پریمیم‘‘ ادا کرنا پڑتا ہے۔ امن کے حالات میں یہ پریمیم معمولی ہوتا ہے لیکن جیسے ہی کسی حملے یا کشیدگی کی خبر آتی ہے تو یہ اچانک کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور ایک آئل ٹینکر کی انشورنس لاگت ہزاروں ڈالر سے بڑھ کر لاکھوں ڈالر زتک پہنچ سکتی ہے۔ اس نظام میں ایک اہم شق کینسلیشن کلاز بھی ہے جس کے تحت انشورنس کمپنیاں صرف ۴۸؍گھنٹے کے نوٹس پر اپنا کوریج ختم کر سکتی ہیں۔ یہی وہ نفسیاتی حربہ ہے جسے ایران، جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کےخلاف استعمال کر رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایران کو آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی، صرف اتنا خطرہ پیدا کرنا کافی ہوتا ہے کہ انشورنس کمپنیوں کا رسک بڑھ جائے اور ایسا ہی ہوا ہے۔ اب عالم یہ ہے کہ جہازوں کو لے جانے کے لئے انشورنس پریمیم میں ہوش رُبا اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے جہازوں کی کمپنیاں جو زیادہ تر یورپی اور امریکی ہیں، اس بوجھ کو برداشت کررہی ہیں اور ساتھ ہی اپنی اپنی حکومتوں پر دبائو بھی ڈال رہی ہیں کہ وہ اس خطے سے جنگ کا خطرہ ختم کریں ۔ آبنائے ہرمز دنیا کے ۴۰؍ فیصد تیل ٹرانسپورٹ کی بنیاد ہے۔ اس کے بند ہوجانے یا انشورنس پریمیم بڑھ جانے سے پوری دنیا میں اینرجی کا بحران پیدا ہو گیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK