۱۵؍جون تک تدفین کی اجازت نہ ملنے پر شندے سینا کے دفتر کے سامنے میت رکھ کر احتجاج کا اعلان ۔
وہ جگہ جسے مسلم قبرستان کےلئے مختص کیا گیا ہے- تصویر:آئی این این
الہاس نگر میونسپل کارپوریشن کی حدود میں مسلم سماج کو درپیش تدفین کا دیرینہ مسئلہ اب انتہائی حساس موڑ پر پہنچ گیا ہے۔گزشتہ ۴؍ برسوں سے قبرستان کیلئے مختص زمین کی فائل سرکاری دفاتر میں زیر التوا پڑی رہنے اور حکومت و انتظامیہ کی مسلسل بے حسی کے خلاف مسلم تنظیموں کا صبر بالآخر جواب دے گیا ہے۔ ’’الہاس نگر مسلم سماجک سنستھا‘‘ نام کی فلاحی تنظیم نے اب احتجاجی تحریک چھیڑنے کا اعلان کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شری کانت شندے کو ایک سخت مکتوب روانہ کیا ہے۔مکتوب میں دو ٹوک الفاظ میں انتباہ دیا گیا ہے کہ اگر ۱۵؍ جون تک کیمپ نمبر ۵ ؍کے مختص پلاٹ پر تدفین کی باضابطہ اجازت جاری نہیں کی گئی تو کیمپ نمبر ۴ ؍اور ۵؍ سے اٹھنے والے ہر جنازے کو شہاڈ قبرستان لے جانے سے قبل گول میدان میں واقع شیو سینا (شندے) کے عوامی رابطہ دفتر کے سامنے ۱۰؍ منٹ رکھ کر علامتی دھرنا دیا جائیگا۔
عیاں رہے کہ ۲۰۲۴ ءکے لوک سبھا اور اسمبلی انتخابات کے دوران شیوسینا( شندے) اور پپوکلانی کی پارٹی نے مسلم ووٹ حاصل کرنے کیلئے بڑے بڑے وعدے کئے گئے مگر اقتدار حاصل ہوتے ہی مسلم سماج کو اس کے بنیادی اور آئینی حق سے محروم کر دیا گیا۔اس سے دل برداشتہ ہوکر الہاس نگر مسلم سماجک سنستھا کے ذمہ داران نے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے اور مقامی رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شری کانت شندے کو مکتوب لکھ کر احتجاج کرنے کا انتباہ دیا ہے۔عیاں رہے کہ لوک سبھا کی انتخابی مہم کے دوران رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شری کانت شندے نے آر پی آئی لیڈر نانا باگل کی رہائش گاہ پر مسلم وفد سے ملاقات کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی تھی کہ انتخابات کے بعد میونسپل کمشنر سے بات کرکے کیمپ نمبر ۵ ؍میں مختص قبرستان پر تدفین کی فوری اجازت دلوائی جائے گی۔ اسی طرح ٹیم اومی کلانی اور شیو سینا (شندے ) کی جانب سے دوستی کا گٹھ بندھن جیسے جذباتی نعروں اور پوسٹروں کے ذریعے مسلم برادری سے ووٹ مانگے گئے تھے لیکن اب اسی برادری کو تدفین جیسے بنیادی انسانی حق کے لئے در در بھٹکنا پڑ رہا ہے۔مسلم لیڈروں نے اسے سیکولرازم کے نام پر کیا گیا سیاسی دھوکہ قرار دیا ہے۔
حیرت انگیز امر یہ ہے کہ الہاس نگر کیمپ ۵؍ کے پلاٹ نمبر ۲۴۴؍ کو ۲۰۱۹ ءکے ڈیولپمنٹ پلان میں قبرستان کیلئے باضابطہ طور پر محفوظ کیا جا چکا تھا اور اس وقت عوام سے اعتراضات بھی طلب کئے گئے تھے مگر اب ۴؍ سال گزر جانے کے باوجود محض ایک ’رائے‘کے نام پر فائل کو دبائے رکھا گیا ہے۔سماجی اور سیاسی حلقوں میں یہ الزام بھی شدت سے گردش کر رہا ہے کہ اس تاخیر کے پیچھے زمین مافیا اور بعض سیاسی عناصر کا گٹھ جوڑ سرگرم ہے۔ مسلم تنظیموں کا کہنا ہے کہ کچھ بااثر زمین اس قیمتی اراضی پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں اور اسی مقصد کے تحت معاملے کو مذہبی رنگ دے کر رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔ مسلم سماج نے سوال اٹھایا ہے کہ جب ۲۰۱۹ ءمیں اس جگہ کو قبرستان کےلئے مختص کیا گیا تھا تب کسی نے اعتراض کیوں نہیں کیا؟ اب اچانک تدفین جیسے حساس اور انسانی مسئلے کو تنازع بنانے کی کوشش کیوں کی جا رہی ہے۔
اس ضمن میں مذکورہ تنظیم کے رکن انل سنہا نے کہا کہ اگر ۱۵؍ جون تک مختص پلاٹ پر تدفین کی تحریری اجازت نہیں دی گئی تو کیمپ نمبر ۴؍ اور ۵ ؍ سے اٹھنے والے ہر جنازے کو شہاڈ قبرستان لے جانے سے قبل گول میدان واقع شیو سینا (شندے) کے عوامی رابطہ دفتر کے سامنے ۱۰؍ منٹ کیلئے رکھ کر علامتی احتجاج کیا جائے گا۔اس کے علاوہ میونسپل کارپوریشن دفتر کے سامنے غیر معینہ مدت کی بھوک ہڑتال شروع کی جائے گی۔