Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’جمعیۃ اب تک ۳۳۶؍ملزمین کو دہشت گردی کے الزامات سے بری کرانے میں کامیاب ہوئی ہے ‘‘

Updated: March 11, 2026, 1:05 PM IST | Nadeem Asran | Mumbai

لیگل سیل کے سربراہ مولانا حلیم اللہ قاسمی نے انقلاب سے گفتگو کے دوران کہا کہ ہم نے بے گناہ مسلم ملزمین ہی کے لئے قانونی چارہ جوئی نہیں کی بلکہ مالیگاؤں بم دھماکوں کے بھگوا ملزمین کے خلاف بھی لڑائی جاری ہے۔

Maulana Haleemullah Qasmi, Head Of Jamiat Ulema Maharashtra Legal Cell. Photo:INN
جمعیۃ علماء مہاراشٹر لیگل سیل کے سربراہ مولانا حلیم اللہ قاسمی۔ تصویر:آئی این این
ۃ علمائےہندکسی تعارف کی محتاج نہیںہے ۔ یہ ادارہ ۱۹۱۹ء میں قائم کیا گیاجس نے ملک کی آزادی سے لے کر ملک کی ترقی کے ہر محاذ پر اپنی خدمات پیش کی ہیں ۔ ۰۸۔۲۰۰۷سے جمعیۃ کی باگ ڈور سنبھالنے والے مولانا ارشد مدنی نے ادارہ کے وقار کو برقرار رکھتے ہوئے خصوصی طور پر مسلمانوں کے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں کے خلاف صف آراء ہوکرنہ صرف لو جہاد، فسادات اور دہشت گردی جیسے سنگین اور جھوٹےمقدمات میں پھنسائے جانے والے سینکڑوں محروسین کو قانونی مدد فراہم کی ہے بلکہ لوور کورٹ سے لے کر ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک کے انتہائی قابل اور سینئر وکلاء کی خدمات اور ان کی کامیاب پیروی کی بدولت کئی محروسین کو واپس لانے اور بری کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔یہی نہیں عمر قید کی سزا پانے والے نوجوانوں کو بھی طویل قید و بند سے راحت دلانے، بری کروانے اور سینکڑوں نوجوانوں کو ضمانت پر رہائی دلانے کا قابل ستائش کارنامہ انجام دیا ہے۔ 
جمعیۃ کی خدمات یہاں تک محدود نہیں ہیں بلکہ  اس کا دائرہ وسیع تر ہے۔یہ خدمات مسلمانوں کی فلاح وبہبود، دینی و عصری تعلیم سے لے کر فساد و سیلاب زدگان کی باز آباد کاری اور ان کی امداد کرنےتک دراز ہیں۔یاد رہے کہ جمعیۃ لیگل سیل مرحوم گلزار اعظمی کی سربراہی میں جاری تھا ۔ ان کے انتقال کے بعد یہ ذمہ داری مولانا حلیم اللہ قاسمی انجام دے رہے ہیں ۔ انہی سے ہم نے مزید معلومات حاصل کی ہیں ۔
انقلاب سے گفتگو کے دوران مولانا قاسمی یوں گویا ہوئے ’’میدان جنگ میں ایک سربراہ اور ایک سپہ سالار کے ساتھ مضبوط فوج کا ہونا بہت ضروری ہے۔ایک جانباز اور سلجھے ہوئے سربراہ کے بغیر اور طاقتور فوج کے بغیر کوئی جنگ نہ تو لڑی جاسکتی ہی اور نہ جیتی جاسکتی ہے۔ جمعیۃ کے سربراہ مولانا ارشد مدنی کی قیادت میں مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے ساتھ ان کے لئے عدل و انصاف کی جنگ لڑنے میں صرف جمعیۃ کے اراکین و ممبران اور محروسین کی پیروی کرنے والے قانونی ماہرین ہی شامل نہیںہیںبلکہ وہ مخیر حضرات بھی پیش پیش ہیں جن کی بدولت اس کار خیر کو گزشتہ۱۰۷؍برسوں سے بحسن و خوبی انجام دیا جارہا ہے ۔ اس تعلق سے یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ مولانا ارشد مدنی کی قیادت میں یہ کام انصاف و مساوات کی بنیاد پر کیا جاتا ہے جو ہندوستانی آئین کی روح کے مطابق ہے ۔‘‘
 
 
ملزمین کے کیسوں کی پیروی اور پھانسی جیسی سنگین سزاسے رہائی کے تعلق سے مولانا نے جذباتی انداز میں کہا کہ  ’’جمعیۃ وہ نمائندہ تنظیم ہے جو نہ صرف لو جہاد ، فسادات اور دہشت گردی  جیسے حساس معاملات میں ملزم بنائے گئے قیدیوں کو بے قصور مانتی ہے بلکہ تختہ دار سے انہیں واپس لانے میں بھی کامیاب پیروی کرتی ہے جس کی تازہ مثال دو دہائی سے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے سلسلہ وار بم دھماکوں کے ۱۲؍ ملزمین کی رہائی ہے ۔ ان ۱۲؍ میں ۵؍ محروسین کو پھانسی اور ۷؍ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔ جمعیۃ اب تک ۳۳۶؍ ملزمین کو دہشت گردی کے الزامات سے بری کرانے میں کامیاب ہوچکی ہے جن میں پھانسی ، عمر قید اور دیگر سزائیں پانے والے شامل ہیں ۔یہی نہیں جمعیۃ وہ تنظیم ہے جس نے بھگوا ملزمین کے بم دھماکوں میں ملوث ہونے کی سازش کو بے نقاب کیا بلکہ ان کی رہائی کے خلاف تسلسل کے ساتھ قانونی جنگ لڑ رہی ہے ۔ ہم نے اس سلسلہ میں مالیگاؤں بم دھماکوں کے بھگوا ملزمین سادھوی پرگیہ و دیگر کے علاوہ اسیما نند کی رہائی کو بھی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔
 
 
مولانا حلیم اللہ قاسمی کے بقول جمعیۃ کی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ کسی ایک کو اولین ترجیحات میں شامل نہیں کیا گیاہے بلکہ مسلمانوںکا ہر مسئلہ اور ہر خدمت ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہے پھر وہ چاہے دہشت گردی ، فسادات اور لو جہاد جیسے حساس اور جھوٹے کیسوں میں نوجوانوں کے پھنسائے جانے کا معاملہ ہو یا پھر سیلاب یا فساد زدگان کی بازآباد کاری  کا معاملہ ہو ۔جمعیۃ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم حاصل کرنے والوں کو نہ صرف وظائف دیتی ہے بلکہ مذہب و ملت کی تفریق کے بغیر متاثرہ اور ضرورت مندوںکومالی مدد بھی فراہم کرتی ہے ۔خدا کا شکر ہے کہ ان خدمات کیلئے جمعیۃ کو افرادی قوت بھی حاصل ہوجاتی ہےاور بندگانِ خداحسب استطاعت اس کی مالی مدد بھی کرتے ہیں ۔  

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK