قومی دارالحکومت کے بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والے اب تک کے سب سے بڑے اے آئی ایونٹ’’ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء کا اختتام ’’نئی دہلی اعلامیہ‘‘کو اپنانے کے ساتھ ہوا۔
EPAPER
Updated: February 23, 2026, 1:03 PM IST | New Delhi
قومی دارالحکومت کے بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والے اب تک کے سب سے بڑے اے آئی ایونٹ’’ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء کا اختتام ’’نئی دہلی اعلامیہ‘‘کو اپنانے کے ساتھ ہوا۔
قومی دارالحکومت کے بھارت منڈپم میں منعقد ہونے والے اب تک کے سب سے بڑے اے آئی ایونٹ’’ انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ ۲۰۲۶ء کا اختتام ہفتہ کے روز ’’نئی دہلی اعلامیہ‘‘کو اپنانے کے ساتھ ہوا۔مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے اتوار کو ایک ایکس پوسٹ میں بتایا کہ اے آئی امپیکٹ سمٹ کے اعلامیے پر دستخط ہو چکے ہیں اور پوری دنیا نے وزیر اعظم نریندر مودی کے انسانی مرکزیت پر مبنی اے آئی وژن کی حمایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اعلامیہ ’’سروجن ہتائے، سروجن سکھائے‘‘ کے اصول سے متاثر ہے، جس کا مقصد اے آئی کے وسائل اور اس کے فوائد کو پوری انسانیت تک مساوی طور پر پہنچانا ہے۔اس سربراہی اجلاس میں ۸۹؍ ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں نے مل کر کام کرنے والے، قابلِ اعتماد، مضبوط اور مؤثر اے آئی کے لیے مشترکہ عالمی وژن کی حمایت کی۔ اسے مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی تعاون کی سمت ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔
اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اے آئی اقتصادی ترقی اور سماجی بھلائی کا بڑا ذریعہ بن سکتا ہے، بشرطیکہ اسے ذمہ داری اور مساوی مواقع کے اصولوں کے ساتھ آگے بڑھایا جائے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ اے آئی کے فوائد پوری انسانیت کے ساتھ شیئر کیے جانے چاہئیں۔ اس کے لیے بین الاقوامی تعاون کو مضبوط کرنا، کثیرالجہتی شراکت داری کو فروغ دینا اور قومی خودمختاری کا احترام کرنا ضروری ہے۔ ساتھ ہی، قابلِ اعتماد اور قابلِ رسائی اے آئی فریم ورک تیار کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:اوساسونا کی ریئل میڈرڈ کے خلاف حیران کن فتح، خطاب کی دوڑ دلچسپ
اے آئی امپیکٹ سمٹ کا اعلامیہ سات اہم ستونوں پر مبنی ہے، جو عالمی اے آئی تعاون کی بنیاد رکھیں گے۔ ان میں اے آئی وسائل کا جمہوری تقسیم، اقتصادی ترقی اور سماجی بہبود، محفوظ اور قابلِ اعتماد اے آئی، سائنس کے لیے اے آئی، سماجی بااختیار بنانے کے لیے رسائی، انسانی سرمائے کی ترقی، اور لچکدار و مؤثر اے آئی نظام شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ہنداور امریکہ کے درمیان عبوری تجارتی معاہدے پر بات چیت کی ری شیڈول
کانفرنس کے دوران کئی اہم اور رضاکارانہ عالمی اقدامات کا اعلان بھی کیا گیا۔اے آئی کی جمہوری تقسیم کے لیے ایک چارٹر پیش کیا گیا، جس کا مقصد بنیادی اے آئی وسائل تک سستی اور مساوی رسائی یقینی بنانا ہے۔’’گلوبل اے آئی امپیکٹ کامنز‘‘کے نام سے ایک پلیٹ فارم شروع کیا گیا، جو دنیا بھر میں اے آئی کے کامیاب استعمال کے معاملات کو فروغ دے گا اور انہیں قابلِ تکرار بنائے گا۔سائنسی اداروں کے لیے اے آئی کا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک بنانے کی پہل کی گئی، جس سے عالمی سائنسی تعاون اور اے آئی پر مبنی تحقیق کو فروغ ملے گا۔ سماجی بااختیار بنانے کے لیے اے آئی پلیٹ فارم کا مقصد علم کا اشتراک اور اے آئی کو معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچانا ہے۔