ہائی کورٹ نے غیر قانونی تعمیرات پر روک لگانے کی اپیل کرنے والے پر۵؍ لاکھ روپےجرمانہ عائد کیا ۔
بامبے ہائی کورٹ۔ تصویر:آئی این این
سانتا کروز کے ایم جی اور تلک روڈ کے درمیان زیر تعمیر ایک غیر قانونی ڈھانچہ کے خلاف انہدام کرنے کی کارروائی پر روک لگانے کے لئے ایک خاتون نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی۔تاہم کورٹ نے کسی بھی غیر قانونی تعمیرات کیلئے کسی بھی قیمت پر کوئی راحت نہ دینے کا فرمان جاری کرتے ہوئے غیر قانونی تعمیرات پر روک لگانے پر بضد درخواست گزار پر ۵ ؍ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
آنجہانی منوہر بابو راؤ سکپال کی بیٹی پریتی سکپال نے وکیل بھرت تیواری کے ذریعہ سانتا کروز کے ایم جے روڈ اور تلک نگر روڈ کے قریب واقع ایک غیر قانونی ڈھانچہ کو منہدم کرنےکےنچلی عدالت کے فیصلہ کو ہائی کورٹ کی سنگل بنچ کے جسٹس کمال کاتھا کے روبرو عرضداشت داخل کی تھی ۔ عرضی کے ذریعہ عوامی زمین پر موجود متنازع ڈھانچہ پانڈو رنگ گاؤڑے نامی شخص سے ۱۹۸۶ ء میں خریدنے کی اطلاع دی ۔ دوران سماعت وکیل نے متنازع وغیر قانونی ڈھانچہ کے قانونی ہونے کا یہ جواز پیش کیا کہ اس کے پاس نہ صرف اس ملکیت کی پراپرٹی ٹیکس کی رسیدیں ہیں بلکہ پانی اور بجلی کا بل بھی ہے۔
اس تعلق سے بی ایم سی کی پیروی کرتے ہوئے وکیل ایس بی وجے اور کومل پنجابی نے کورٹ کو بتایا کہ یہ ڈھانچہ غیر قانونی طور پر تعمیر کیا گیا ہے اور یہ کہ مذکورہ ملکیت شہری انتظامیہ کی ا س فٹ پاتھ پر تعمیر کی گئی ہے جو عوامی ملکیت ہے ۔ بی ایم سی کے وکلاء نے یہ بھی کہا کہ چونکہ یہ آمد و رفت اور ٹریفک کے مسائل کا سبب بن رہا تھا اس لئے منہدم کرنے کا فرمان جاری کیا گیا ہے۔
کورٹ نے دونوں فریق کی بحث سننے کے بعد کہا کہ ’’عدالت اس طرح کے ڈھانچے کو طویل عرصے تک برقرار رکھنے کی قطعاً اجازت نہیں دے گی اور نہ ہی اسی طرح کی تجاوزات کے لئے کوئی رعایت دی جاسکتی ہے اور غلط نظیر قائم کی جاسکتی ہے اور یہ کہ غیر قانونی تعمیرات کرنے والا منصفانہ ریلیف کا حقدار ہے ۔‘‘کورٹ نے یہ بھی کہا کہ بجلی کے بل کی ادائیگی ، میونسپل ٹیکس اور اسٹیبلشمنٹ کا سرٹیفکیٹ ہونے سے غیر قانونی تعمیرات کو ریگولرائز نہیں کیا جاسکتا ہے ۔سنگل بنچ نے نہ صرف یہ کہ غیر قانونی تعمیرات پر روک لگانے سے انکار کیا بلکہ غیر قانونی تعمیرات کے انہدام پر روک لگانے کیلئے زوردینے والی عرضداشت گزارپر ۵؍ لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا ہے ۔