ملّی تنظیموں کے ذمہ داران نے کئی سوالات قائم کئے ۔ چیف الیکشن کمشنر کے طریقۂ کار پر سخت تنقید۔ اِن نتائج کوآئین کیلئے خطرناک اورجمہوریت کا قتل قرار دیا۔
ٹی ایم سی کا دفتر۔ تصویر:پی ٹی آئی
’’ مغربی بنگال اسمبلی انتخابات کے نتائج امیدوں کے برعکس اور حیرت زدہ کرنے والے ہیں۔ اب اپوزیشن جماعتوں کو نوشتہ ٔدیوار پڑھ لینا چاہئے، ان کے وجود کا بھی سوال ہے۔ یہ نتائج جمہوریت اور آئین کیلئے بھی خطرناک ہیں۔‘‘ ملّی تنظیموں کے ذمہ داران نے اس طرح کارد عمل ظاہر کیا ہے ۔
جمعیۃ علماء مہاراشٹر کےصدر مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہاکہ’’ اس الیکشن میںتمام حدیں پار ہوگئیں۔ الیکشن کمیشن جس کی ذمہ داری غیرجانبدارانہ اور شفافیت کے ساتھ الیکشن کرانا ہے، اس کارول مشکوک نہیں میرے خیال میںوہ ایک فریق بن گیا۔ اس لئے میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کو اتفاق رائے سے یہ اعلان کردینا چاہئے کہ جب تک موجودہ الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو نہیں ہٹایا جاتا، وہ الیکشن کا بائیکاٹ کریں گی۔ اس لئے کہ اگر اسی طرح الیکشن جیتا جائے گا تو پھر ووٹ ڈالنےاورالیکشن کا مقصد ہی کیا رہ جائے گا ۔اب تک جتنے تجزیے آئےہیں ،اس میں یہ بتایا گیا ہےکہ جن ۱۰۰؍سیٹوں پرممتا کو شکست ہوئی ہے، ان ہی پر تقریباً ۲۷؍ لاکھ ووٹ کاٹے گئے ہیں۔ اس لئے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ممتا الیکشن ہاری نہیں، ان سے الیکشن چھینا گیاہے۔‘‘
آ ل انڈیا علماء کونسل کےجنرل سیکریٹری مولانا محمودخان دریابادی نے کہاکہ ’’ بی جے پی اسی طرح کے حربے استعمال کرتی ہے اس لئے نتائج پر زیادہ حیرت نہیںہوئی ۔ ویسے ممتابنرجی بھی اپنی الگ شناخت رکھتی ہیں، ان کاطریقہ اور جد وجہد کا منفرد انداز ہے، وہ آسانی سے ہار ماننے والی نہیںہیں، بی جے پی کے ناک میںدم کئے رہیںگی ۔ ‘‘ مولانا کے مطابق ’’ دیگر سیاسی جماعتوں کو سبق لینے کی ضرورت ہے اور بالخصوص یوپی میں ہونے والے انتخابات کے تئیں سیاسی جماعتوں کو ابھی سے تیاری شروع کردینی چاہئے تبھی مقابلہ ممکن ہوگا ۔‘‘
رضا اکیڈمی کےسربرہ الحاج محمد سعید نوری نے کہاکہ ’’یہ تو دراصل جس طرح ایس آئی آر کے نام پرلاکھوںووٹروں کے نام کاٹے گئے، ۲۷؍لاکھ رائے دہندگان کوووٹ نہیںدینے دیا گیا، ایجنسیوں کا بے دریغ استعمال، افسران کے تبادلے اور خوفزدہ کرکے یہ نتائج لائے گئے ہیں۔ دراصل یہ لیباریٹری کے طور پر تھا۔ اس طریقۂ کار سے جمہوریت اور آئین دونوں خطرے میں ہیں۔ اپوزیشن کو اس سے سبق لینے کی ضرورت ہےورنہ بہت دیر ہوجائے گی۔‘‘
جمعیت اہل حدیث کے نائب صدر مولانا عبدالجلیل انصاری نے کہا کہ’’ اگر ایمانداری سے انتخابات ہوئے ہوتے تو شاید ہی مغربی بنگال میں بی جے پی اقتدارمیں آتی، صاف دھاندلی نظر آرہی ہے۔ اب تو حالات یہ ہیں کہ حکومت بھی ان کی ایجنسی اور عدالت بھی ان کی۔ اس کے باوجود ممتا چٹان کی طرح ڈٹی رہیں، ان کے حوصلے کی داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔‘‘
جماعت اسلامی ممبئی کے امیر ہمایوں شیخ نے کہا کہ اب تک جو تجزیہ سامنے آیا ہے، اس سے یہی لگتا ہے کہ بنیادی طور پر ۱۵؍سال کا ممتا بنرجی کا جو اقتدار رہا اس سے عوام کو اطمینان نہیں تھا ورنہ اتنی بڑی ہار شاید نہ ہوتی، دوسرے کوئی بھی حکومت اب ڈیولپمنٹ کے بغیر محض نعروں کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ تیسری بات یہ کہ ریجنل پارٹیوں نے دیگر پارٹیوں کو موقع نہیں دیا اوران کے درمیان بہترتال میل نہیں رہا۔ اس کے علاوہ بی جے پی کی دھاندلی اور الیکشن کمیشن کی جانبداری پر توکچھ کہنا ہی بے سود ہے۔اس حوالے سے ۴؍مئی کی یہ تاریخ سیاہ دن کے طور پر یاد رکھی جائے گی اور یہ حقیقت ہے کہ جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا گیا۔‘‘