انتظامیہ کی لاپروائی اور پولیس کے خوف سے لکھنؤ میں بکروں کی فروخت متاثر رہی

Updated: August 01, 2020, 4:06 AM IST | Md Aamir Nadvi | Lucknow

کورونا کے خوف اور حکومت کے ذریعہ گائیڈ لائن جاری نہ کئے جانے سےجانوروں کی خرید وفروخت بے رونق رہی،بکرے کے تاجر اور خریدار دونوں پریشان رہے۔

For Representation Purpose Only. Photo INN
علامتی تصویر۔ تصویر: آئی این این

راجدھانی لکھنؤ میں قربانی کیلئے بکروں کی خرید و فروخت میں پولیس کی دہشت چھائی رہی ۔ کورونا وبا کی وجہ سے ایک ماہ سے تاجراور خریدار گائیڈ لائن کا انتظار کرتے رہے ، لیکن جانوروں کی خرید کے لئے گائیڈ لائن آخر تک جاری نہیں ہوئی۔ نتیجتاً لوگوں نے ڈرتے ڈرتے سست رفتاری کے ساتھ خرید و فروخت شروع کی لیکن انہیں پولیس کی سختی کا سامناکرناپڑا۔اس طرح عیدالاضحی کے موقع پرہر سال ہونے والی رونق کچھ کورونا اور کچھ پولیس کی سختی کی نذر ہوگئی ۔ امسال بکرے فروخت کرکے آمدنی کی آس لگائے لوگوں کو مایوسی ہی ہاتھ آئی۔ عید الاضحی کے موقع پرراجدھانی لکھنؤ میں عام طور پرکئی مقامات پر بکرا منڈیا ں سجتی تھیں ،جہاں اطراف کےاضلاع سےبھی لوگبکرے فروخت کرنےآتے تھے۔ان میں مہدی گھاٹ ، نیبو پارک ، مولوی گنج سمیت دیگر مقامات شامل ہیں ۔ امسال کورونا کی وجہ سے ایک ماہ قبل سے ہی لوگ حکومت کی جانب سے گائیڈ لائن کا انتظار کرتےرہے، لیکن گائیڈ لائن آخر تک جاری نہیں کی گئی، جس کےنتیجہ میں شہرکے کچھ مقامات پر سست رفتاری سے بکروں کی خریدوفروخت تو شروع ہوئی لیکن لوگوں کو پولیس کی سختی کا بھی سامناکرناپڑا۔دوبگاکےرہنے والے محمد مناظرنے بتایا کہ یہاں کئی دنوں قبل منڈی شروع ہوئی، گزشتہ جمعرات کی شام پولیس نے بکرا منڈی ہٹوا دی اور وہاں موجود لوگوں کو ماراپیٹا بھی۔مناظر نے بتایا کہ پولیس کےمطابق بکرا منڈی کی اجازت نہیں ہے ۔ وہیں مولوی گنج کی سڑکوں پر کہیں کہیں دو چار بکرے نظر آئے۔ایک مقامی مسلم دوکاندارنےبتایا کہ امسال بہت مشکل ہے، پولیس بکرا فروخت کرنےوالوں کو مار پیٹ رہی ہے ۔لوگ مجبوراً آس پاس کی گلیوں میں گھس جاتے ہیں اور وہیں تھوڑی بہت خریدوفروخت ہوئی ہے ۔پولیس کی گاڑیاں گشت کرتی رہتی ہیں ، بکراتاجرمحتاط رہتے ہیں اور پولیس کو دیکھتے ہی آس پاس کی گلیوں میں پناہ لینے کو مجبور ہیں ۔ 
 امسال رومی گیٹ کے قریب کا علاقہ پوری طرح سنسان رہا ، چھوٹے امامباڑے کے قریب کچھ لوگ چلتے پھرتے بکروں کی خریدو فروخت کرتے ہوئے بہت کم تعداد میں نظر آئے ۔ البتہ کھدرا میں واقع پکے پل کے نیچے بے رونق سی بکرا منڈی سجی،جہاں لوگوں نے بکرے خریدے۔ ایک خاتون نے بتایا کہ وہ بکرا بیچنے کیلئے آئی ہےلیکن کم قیمت لگنے کی وجہ سے بکرے نہیں فروخت ہوئے، جس سے کافی مایوسی ہوئی۔ خاتون نے مزید بتایا کہ ان کے شوہر رکشہ چلاتےہیں ۔ قربانی کے موقع پر بکرا بیچنے سے کچھ آمدنی ہو جاتی ہے لیکن اس برس مہنگائی کی وجہ سے مشکل ہو رہاہے۔آفتاب سیتا پور سے لکھنؤ اس امید پر اپنابکرا لے کر آئے ہیں کہ مناسب قیمت مل جائے گی۔ بات چیت کے دوران انہوں نےبتایا کہ ہمارا بکرا کافی بڑا ہےجبکہ خریدار اس کی قیمت کم لگا رہے ہیں ۔
 اس نے بتایا کہ لاک ڈاؤن کے سبب اس بار منڈی میں رونق نہیں ہے۔ اگر مناسب قیمت نہیں ملی تو ہمیں نقصان اٹھانا پڑے گا۔قربانی کیلئےبکرا خریدنےآئے مہتاب خان نے کہا کہ منڈی نہ لگنے کی وجہ سے یہاں پر بکرا فروش زیادہ قیمت مانگ رہے ہیں ۔ جو ہمارے بجٹ سے باہر ہے۔ایک دیگر شخص نے بتایا کہ ہمارا بجٹ۸؍ سے۱۰؍ ہزار روپے کا ہے جبکہ اچھے بکرے کی قیمت یہاں پر۲۰؍ ہزار سے اوپر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم کتنا بھی قیمت کم کروائیں گے، بات نہیں بنے گی کیونکہ وہ لوگ بہت زیادہ قیمت مانگ رہے ہیں ۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK